100

اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنس: شریک ملزم کے وکیل کی جج سے تلخ کلامی، سماعت ملتوی

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق ضمنی ریفرنس میں شامل شریک ملزمان پر فرد جرم آج بھی عائد نہ کی جا سکی۔

دوران سماعت ایک ملزم کے وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر جاوید اکبر شاہ کی احتساب عدالت کے جج سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔

واضح رہے کہ نیب کی جانب سے 26 فروری 2017 کو دائر کیے گئے اثاثہ جات ضمنی ریفرنس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد، نعیم محمود اور منصور رضا رضوی کو بھی شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے آج اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار جاوید اکبر شاہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ وہ ملزم منصور رضا کے وکیل ہیں اور انہیں التواء چاہیے۔

جج محمد بشیر نے کہا کہ ‘آپ آرام سے بات کریں اور اپنا وکالت نامہ دیں’۔

جس پر جاوید اکبر شاہ سیخ پا ہوگئے اور کہا ‘آپ کیا مجھے گولی مار دیں گے’۔

یہ کہہ کر صدر ہائیکورٹ بار وکالت نامہ پھینک کر چلے گئے اور جاتے ہوئے کہا کہ ‘میں خود بھی جا رہا ہوں اور ملزم کو بھی لے جا رہا ہوں’۔

عدالت نے ملزم منصور رضا رضوی کی طلبی کے لیے 3 بار آواز لگوائی لیکن ملزم پیش نہ ہوا۔

جس پر عدالت نے ملزم منصور رضا رضوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار جاوید اکبر شاہ کو بھی شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

بعدازاں کیس کی سماعت 5 اپریل تک ملتوی کردی گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں