81

الیکشن کمیشن کے فیصلے کا مقصد ایم کیوایم ختم کرنا ہے: فاروق ستار

کراچی: فاروق ستار نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اپنی کنوینر شپ کے خلاف دیئے گئے فیصلے کو سیاہ، غیر منصفانہ اور غیر آئینی قرار دے دیا۔

اسلام آباد میں ایم کیو ایم پاکستان (پی آئی بی) کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ماضی میں مولوی تمیز الدین خان کیس کا فیصلہ جسٹس منیر نے دیا تھا، اسی طرح اور بہت سے عدالتی فیصلے پاکستان کی تاریخ میں ہوئے ہیں، جن کا آج تک حوالہ دیا جاتا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ ‘میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ جسٹس منیر کے فیصلے کی طرح جسٹس (ر) سردار رضا اور ان کے 4 یا 5 رکنی الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ دیا ہے، وہ پاکستان کے انتخابی یا الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے حوالے سے سیاہ فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا’۔

انہوں نے کہا کہ انٹرا پارٹی تنازع پر فیصلہ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں ہے، ‘میرے منشور کی تشریح الیکشن کمیشن نہیں کرسکتا، یہ کام ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کرسکتی ہے۔’

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ‘مجھے 23 اگست 2016 کو بانی ایم کیو ایم کے خلاف کھڑے ہونے کی سزا دی گئی ہے’۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ‘اس فیصلے کا مقصد مائنس ون نہیں بلکہ ایم کیو ایم کا خاتمہ ہے، الیکشن کمیشن نے باقی سب کو عدالت بھیجا ہمیں گھر بھیجنے کی تیاری ہورہی ہے’۔

فاروق ستار نے کہا کہ ‘ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ووٹرز سے پتنگ چھین کر بہادرآباد کے ساتھیوں کو دی گئی ہے جبکہ کارکنوں کی اکثریت بہادرآباد والوں کے ساتھ نہیں ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘آج کے فیصلے سے مجھے 9 نومبر 2016 کے فیصلے کی بھی سزا دی گئی، جب میں نے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ الحاق کرنے کی کوشش کی تھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں