ساری زندگی نوازشریف کا سیاسی بوجھ اٹھایا لیکن جوتیاں اٹھانے والا نہیں ہوں: نثار 100

ساری زندگی نوازشریف کا سیاسی بوجھ اٹھایا لیکن جوتیاں اٹھانے والا نہیں ہوں: نثار

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما چوہدری نثار نے کہا ہےکہ ساری زندگی نوازشریف اور (ن) لیگ کا سیاسی بوجھ اٹھایا لیکن جوتیاں اٹھانے والا نہیں ہوں۔

پریس کانفرنس کی ابتدا میں چوہدری نثار نے خوشگوار موڈ میں صحافیوں کے سوالات لیے اور کہا کہ  مجھے معلوم ہے آپ کیا پوچھیں گے آپ مسلم لیگ (ن) میں رہیں گے یا نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں کسی آزاد گروپ کا حصہ نہیں ہوں اور نہ ہی کسی سے آرڈر لیتا ہوں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ کسی آزادگروپ کا حصہ ہوں اور نہ ہی آرڈر لیتا ہوں۔

سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ عمران خان اور نوازشریف بھی میرے سوال پر چپ ہوجاتے ہیں تو میرا کیا قصور۔

عمران خان سے رابطے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان سے کبوتر کے ذریعے رابطہ جاری ہے۔

بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ بڑے بڑے امتحانات آئے پارٹی کو نہیں چھوڑا، یہ خود ہی پریس کانفرنس بلائی، عام حالات ہوتے تو پریس کانفرنس نہ کرتا لیکن (ن) لیگ کے اکابرین اور ورکرز سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ واضح کردوں پارٹی سے ناراض نہیں ہوں، کوئی مطالبات نہیں ہیں، کبھی کوئی عہدے کی ڈیمانڈ نہیں کی اور دینے کے باوجود کوئی عہدہ نہیں لیا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ جب سے یہ پارٹی بنی، 34 سال سے نوازشریف کے ساتھ ہوں، (ن) لیگ کے 70 فیصد سےزیادہ افراد پچھلے 20 سے 25 سالوں میں پارٹی چھوڑ کر جوائن کی۔

(ن) لیگ کے رہنما نے کہا کہ جب پاناما لیکس کا مسئلہ شروع ہوا تو نواز شریف کے سامنے ایک مؤقف رکھا، ان چند لوگوں میں سے ہوں جن کا نکتہ یہ تھا کہ ہم سپریم کورٹ نہیں جائیں، اس کی وجہ بیان نہیں کروں گا اس سے نوازشریف کو نقصان ہوسکتا ہے، نوازشریف نے جب تقریر کا فیصلہ کیا تو میں واحد تھا جس نے منع کیا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھاکہ جب جےا ٓئی ٹی بنی، میں نے کہا کہ آرمی چیف ار ڈی جی آئی ایس آئی کو بلائیں، مناسب سمجھیں تو مجھے اور اسحاق ڈار کو بلائیں میں ذمہ داری لیتا ہوں، میں بات کروں گا، آرمی چیف سےکہیں فوج کے بریگیڈئیرز اس میں نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ اس جے آئی ٹی نے فیصلہ ہمارے حق میں کیا تو اپوزیشن متنازع بنائے اور اگر مخالفت میں کیا تو ہم متنازع بنائیں گے، اس سے فوج متنازع ہوگی، نوازشریف نے دو مرتبہ وعدہ کیا لیکن وہ میٹنگ نہیں بلائی۔

انہوں نےکہا کہ جو مشورہ دیا وہ نوازشریف کے لیے دیا، یہ بھی کہا اپنا جو دفاع لے کر جائیں اس پر سیاسی ٹیم کےساتھ مشورہ ضرور کریں لیکن وہ بھی نہیں ہوا، جب عدالت سے جب فیصلہ آگیا تو میں وزیراعظم ہاؤس گیا، نوازشریف سے کہا کہ جو کچھ ہوا اپنی جگہ اب پوری کوشش ہونی چاہیے آپ کے اور پارٹی کے حوالے سے وہ اقدامات کریں جس سے پارٹی کو استحکام ملے، پنجاب ہاؤس میں نوازشریف نے بتایا وہ عدالت جارہے ہیں۔

چوہدری نثار کا کہناتھا کہ نوازشریف سے کہا عدلیہ اور فوج کے خلاف ٹون نیچے لے کر آئیں، انہیں کہا کہ آپ کہیں مجھ سے نا انصافی ہوئی، ملک کو سیدھے راستے پر لے کر جاتا ہوں مجھے روک دیا جاتا ہے، یہ نہ کہیں پانچ پی سی او ججز نے یہ کیا، اور یہ بھی نہ کہیں کوئی ڈوریاں ہلا رہا ہے، ان چیزوں سے پیغام جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ میرا سپریم کورٹ میں کوئی کیس نہیں، میں نے کوئی فوج سے تمغہ نہیں لینا، ہم خود سپریم کورٹ گئے، کس نے کہا تھا جے آئی ٹی قبول کریں اور اس کے سامنے پیش ہوں، کمیشن بنانے کے لیے خط بھی لکھا، پھر جو فیصلہ آتا ہے وہ بھلے کچھ بھی ہو اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔

سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ بار بار کہا سپریم کورٹ کا فیصلہ واپس وہی عدالت واپس لے سکتی ہے، ہمیں اتنی دور نہیں جانا چاہیے کہ اپنے دروازے بند کردیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ میں غلط ہوسکتا ہوں، اسے بدنیتی یا میرا ذاتی مفاد قرار نہیں دیا جاسکتا، کہتے ہیں میں ناراض ہوں، جب نااہلی ہوئی تو ایک ایم این ایز کا طوفان تھا جو نالاں تھے، اگر میں خاموشی سے کچھ کرتا تو 40 سے 45 کا گروپ میرے ساتھ تھا، ساری زندگی یہ گیم نہیں کھیلی اور کبھی سازش نہیں کی، ایک ایک اینٹ نواز شریف اور اس جماعت کےلیے رکھی۔

ان کا کہنا تھاکہ بے شمار ممبر اور منسٹر آئے اب بھی آتے ہیں، سب کو کہتا ہوں پارٹی میں رہنا ہے، ہر قانون سازی میں پارٹی کے ساتھ ووٹ کیا، کنونشن سینٹر میں بھی ووٹ کیا، اسمبلی میں ضمیر کے خلاف ان کےحق میں ووٹ دیا، ناراض ہوتا تو کیا ووٹ دیتا، سینٹ کے الیکشن میں جو امیدوار سامنے آئے اس پر شدید تحفظات تھے، مگر وہاں بھی ووٹ دیا۔

چوہدری نثار نےکہا کہ کہا جاتا ہے ووٹ کا تقدس اور اصل وفادار ساتھی، چار ایسے لوگ ہیں جو مشرف کے ساتھ تھے اور ہم نے انہیں ٹکٹ دیا، مشرف کے آدمی اور (ق) لیگ کے لوگوں کو دن کے اجالے میں سینیٹ کا ووٹ دیا، چار افراد ایسے ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور دو ایسے ہیں جن کا ملکی سیاست سے ہی کوئی تعلق نہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ جب بھی پارٹی کو ضرورت ہوئی کھڑا رہا، مؤقف میں اختلاف تھا، وزارت چھوڑ دی، کون سی جگہ پارٹی سےبےوفائی کی ہے، لوگ سب وزارتوں کے لیے کام کرتے ہیں میں نے وزارت چھوڑی ہے تاکہ انہیں کوئی پریشانی نہ ہو اور یہ آرام سے جو کرتے ہیں کرتے رہیں، ہم تو ساتھ کھڑے ہیں لیکن جن پر مشکل وقت ہوتا ہے ان پر بھی ذمہ داری ہے سب کو ساتھ لے کر چلیں۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ کیا آج معیار یہ ہے جو پرانے ساتھی ہیں انہیں لےکر چلنا ہے یا جو خوشامدی ہیں انہیں لے کر چلنا ہے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ساری زندگی نوازشریف اور (ن) لیگ کے سیاسی بوجھ اٹھائے لیکن کسی کی جوتیاں اٹھانے والا نہیں، نہ جوتیاں اٹھائیں نہ سیدھی کیں، جو درست بات سمجھتا ہوں کہتا ہوں، یہ میرا مشورہ نہی چاہتے تھے تصادم کی راہ پر چل پڑے تھے، میں نے انہیں نہیں چھوڑ ا، ہر اس جگہ گیا جہاں بلایا، بن بلائے کہیں نہیں جاتا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا شکریہ، میرے لیے یہ بات باعث عزت ہے کہ بڑی جماعت کے لیڈران مجھے دعوت دے رہے ہیں لیکن میں اس وقت پارتی میں کھڑا ہوں۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ جنہوں نے آپ کے خلاف گالی گلوچ کی وہ بہت اچھے اور وفادار ہیں جو ساری عمر رہا وہ اس وقت اس لیے ناپسندیدہ ہے کیونہ وہ اختلاف رائے رکھتا ہے، میری ساری زندگی اختلاف رائے پر گزری، نواز شریف اور ان کی بیٹی طعنہ زنی میں مصروف رہے، ان کا ایک ذاتی ملازم ہے جس نے کبھی الیکشن نہیں لڑا کہتے ہیں، انہوں نے پی پی کےدور میں ملازمت کی، بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا گیا تو پارٹی چھوڑ گئے، نواز شریف پر مشکل وقت آیا تو لندن میں سیاسی پناہ لے لی، آج گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور جاتی عمرہ میں موجودگی ہوتی ہے، انہوں نے نئے محاذ کھول لیے اور تضحیک آمیز بات کی، نوازشریف اور ان کے پیادوں کو کہتا ہوں، 34 سال پارٹی اور آپ کے ساتھ وفاداری دکھائی، میرا فوجی خاندان سے تعلق ہے، جب بھی سول ملٹری کا مسئلہ آیا نواز شریف کا ساتھ دیا۔

واضح رہے کہ چوہدری نثار اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف کے درمیان تعلقات کئی ماہ سے ناخوشگوار ہیں، میاں شہبازشریف نے گزشتہ ماہ چوہدری نثار سے ملاقاتیں کی تھیں جس میں سابق وزیر داخلہ نے انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔

گزشتہ دنوں چوہدری نثار کی تحریک انصاف میں شمولیت کی افواہیں بھی زیر گردش تھیں تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

 
 
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں