عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی جو نہ کرسکی: چیف جسٹس 92

عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی جو نہ کرسکی: چیف جسٹس

عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی جو نہ کرسکی: چیف جسٹس

پشاور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری تھی جو وہ نہ کرسکی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہر اتوار کو یہاں عدالت لگانے آجاتا ہوں، عوام کوبنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری تھی، حکومت نہیں کرسکی اب ہم کریں گے۔

الرازی میڈیکل کالج کا دورہ

دوسری جانب چیف جسٹس نے پشاور میں الرازی میڈیکل کالج کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے نجی کالج کی جانب سے طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

پشاور رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت، چیف جسٹس نے پرویز خٹک کو طلب کرلیا
چیف جسٹس نے پرویز خٹک کو طلب کرلیا

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہاسٹل، ٹرانسپورٹ اور لیبارٹری کےنام پر طلبہ سےلاکھوں روپے لیے جارہے ہیں لیکن ان کو سہولیات کی فراہمی بہت کم ہے۔

چیف جسٹس نے ایف آئی اے کو نجی میڈیکل کالج کا ریکارڈ قبضے میں لینے کا حکم دیا۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال کا دورہ

علاوہ ازیں چیف جسٹس نے پشاور میں لیڈی ریڈنگ اسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا، اس موقع پر آئی جی کے پی کے اور محکمہ صحت کے حکام بھی ان کےہمراہ تھے۔

چیف جسٹس کےدورے کے موقع پر اسپتال میں موجود شہریوں نے شکایات کے انبات لگاردیئے۔

شہریوں نےشکوہ کیا کہ سیکیورٹی نہیں، علاج نہیں، کوئی تبدیلی نہیں آئی، چیف جسٹس صاحب آپ سے توقعات ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی جو نہ کرسکی: چیف جسٹس

اپنا تبصرہ بھیجیں