ڈاکٹر لیاقت مُنیر صاحب باعزت بری سچی صحافت کے خلاف اٹک پولیس کی انتقامی کاروائی کو شکستِ 56

ڈاکٹر لیاقت مُنیر صاحب باعزت بری سچی صحافت کے خلاف اٹک پولیس کی انتقامی کاروائی کو شکستِ

ڈاکٹر لیاقت مُنیر صاحب باعزت بری سچی صحافت کے خلاف اٹک پولیس کی انتقامی کاروائی کو شکستِ

اسلام آباد(سنگجانی بیورو رپورٹ)ڈاکٹر لیاقت مُنیر صاحب باعزت بری سچی صحافت کے خلاف اٹک پولیس کی انتقامی کاروائی کو شکستِ فاش۔ ضلع اٹک میں خال ہی کوئی صحافی بچا ہوگا جس پر پولیس نے FIR نہ بنائی ہو۔ اور ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر صحافی کی جیت اور پولیس کی ہار ہوئی

سچی صحافت کے قبیلے کا رہنما اور نظریاتی صحافت کا علمبردار ڈاکٹر لیاقت ُمنیر باعزت بری۔ DPO اٹک خالد آف چاہ کھاکھی والا، ایس پی انویسٹیگیشن عمارہ شیرازی، نان پرفیشنل PRO اٹک پولیس طاہر اور اُس کے اسسٹنٹ وسیم عُرف فضہ علی کی سازش اور دباؤ سے جھوٹی FIR کا شکار صحافی ڈاکٹر لیاقت منیر کو عدالت نے باعزت بری کر دیا۔ ڈاکٹر لیاقت مُنیر کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ DPO آفس کا ٹاؤٹ بننے کے لیے تیار نہیں

اور نہ اٹک پولیس کے مظالم پر آنکھیں بند کرتا ہے سابق ڈی پی او خالد آف چاہ کھاکھی والا اور SP انویسٹیگیشن کا دور تھانوں میں سرعام عقوبت خانوں اور جعلی پولیس مقابلوں کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ جعلی پولیس کی کی جھوٹی FIR درج کروانے کی پاداش میں ہی اُسے اٹک سے ٹرانسفر کیا گیا تھا چونکہ وہ PSP اور نُوری مخلوق تھا اس لیے ہر قسم کی قانونی کاروائی سے بچ گیا حالانکہ 2 جولائی چھچھ انٹرچینج جعلی پولیس مقابلے کی FIR 287/21 تھانہ حضرو باقاعدہ DPO اور SP کے کہنے پر درج کی گئی تھی۔ اس سے قبل بھی چار بندوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں پار کیا گیا تھا 2 مارچ ہو زیادتی / قتل کیس کے مبینہ مُلزم کو بھی جعلی پولیس مقابلہ بنا کر پار کردیا گیا تھا
موجودہ DPO رانا شعیب کی mismanagement, bad governance and Delivery کے لحاظ سے اور بھی بدترین صورتحال ہے کیونکہ ضلع بھر میں لوٹ مار اور ڈکیتیاں عام ہیں لوگ سرِشام اپنے کاروبار بند کر کے گھروں میں دُبک جاتے ہیں پولیس کی رشوت اور بلیک میلنگ کا بازار اس حد تک گرم ہے کہ لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں اور لواحقین جنازے سمیت تھانوں میں جنازہ رکھ کر پولیس کی ان گھناؤنی کاروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔بہرحال صحافی زندہ ہیں

اور صحافت ادا کرتے رہیں گے ڈاکٹر لیاقت مُنیر نے ثابت کر دیا کہ DPO آفس سب صحافیوں کو ٹاؤٹ بنا کر اپنی مرضی کی خبریں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اٹک پولیس کی جُھوٹی کارکردگی کی بوگس رپورٹس نہیں دکھا سکتا۔
ڈاکٹر لیاقت مُنیر زندہ باد۔
نظریاتی صحافی اور صحافت زندہ باد۔
ٹاؤٹ صحافی اور پولیس گردی ۔۔ مُردہ باد۔
پاکستان کی اِک عظیم ماں “مائی جِندو” کی انصاف کے لیے انتھک اور مصلحت شکن جدوجہد اور ”مائی جِندو” کے دو بیٹوں اور داماد کی شہادتوں کو سلام۔
انصاف کے راستے کی ہر رکاوٹ کے خلاف “مائی جنُدو” کی دو بیٹیوں کی لازوال قربانیوں کو بھی سلام۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں