صدر مملکت ممنون حسین کی منظوری کے بعد سلیم بیگ چیئرمین پیمرا مقرر 68

صدر مملکت ممنون حسین کی منظوری کے بعد سلیم بیگ چیئرمین پیمرا مقرر

صدر مملکت ممنون حسین کی منظوری کے بعد سلیم بیگ چیئرمین پیمرا مقرر

وفاقی حکومت نے صدر مملکت ممنون حسین کی منظوری کے بعد سلیم بیگ کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کا چیئرمین مقرر کردیا۔

سلیم بیگ انفارمیشن گروپ کے سینیئر افسر ہیں اور وزارت اطلاعات میں پی آئی او کے طور پرفرائض انجام دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سرچ کمیٹی نے چیئرمین پیمرا کی تقرری کے لیے تین نام وزیراعظم بھجوائے تھے جن میں سے سلیم بیگ کے نام کی مںظوری دی گئی۔ وزیراعظم کی جانب سے منظوری کے بعد سمری صدر مملکت کو بھجوائی گئی جنہوں نے اس پر دستخط کردیے۔

چیئرمین پیمرا کی تقرری سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کی گئی ہے، 5 رکنی سرچ کمیٹی نے چیئرمین پیمرا کے عہدے کیلئے 62 امیدواروں کے انٹرویو کیے۔

سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے 3امیدواروں کے نام شارٹ لسٹ کیے تھے جس میں محمد سلیم بیگ کا نام سب سے پہلے تھا ۔

گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے چیئرمین پیمرا کے انتخاب کے لیے سرچ کمیٹی کی تشیل نو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کو کمیٹی سے نکال دیا تھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ حکومت نے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے، کمیشن میں نمایاں صحافی اور پی بی اے کے چیئرمین کو شامل کیا گیا ہے، کمیشن چیئرمین پیمرا کے لیے 3 ممبران کے پینل کا انتخاب کرےگا۔

اس دوران چیف جسٹس نے کہا تھا کہ یہ کام ہوتے ہوتے تو بہت وقت لگ جائے گا، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ کام 3 ہفتوں کے اندر ہوجائے گا۔

بعد ازاں عدالت نے چیئرمین پیمرا کے انتخاب کے لیے سرچ کمیٹی کی تشکیل نو کردی تھی جس سے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کو نکال کر سیکریٹری اطلاعات کو شامل کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ دسمبر 2017 میں لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چیئرمین ابصار عالم کی تعیناتی کالعدم قرار دی تھی۔

شہری منیر احمد نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی وساطت سے ابصار عالم کی بطور چئیرمین پیمرا تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ابصار عالم کی تقرری کے لیے 2 بار اخبارات میں اشتہار دیئے گئے، وہ پہلے اشتہار کے تعلیمی معیار پر پورا نہ اترے تو دوسری بار کم اہلیت کا اشتہار جاری کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں