پاکستان نیشنل فورم آن وومن ہیلتھ کے زیر اہتمام انٹرنیشنل فسٹیولا ڈے23مئی کے حوالے سے نیشنل پریس کلب اسلا م آبادمیں تقریب منعقد کی گئی۔تقریب میں عورتوں کو درپیش معاشرتی مسائل اجاگر کرنے کے حوالے سے بریفنگ دیدی گئی 160

پاکستان نیشنل فورم آن وومن ہیلتھ کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلا م آبادمیں تقریب منعقد

پاکستان نیشنل فورم آن وومن ہیلتھ کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلا م آبادمیں تقریب منعقد

پاکستان نیشنل فورم آن وومن ہیلتھ کے زیر اہتمام انٹرنیشنل فسٹیولا ڈے23مئی کے حوالے سے نیشنل پریس کلب اسلا م آبادمیں تقریب منعقد کی گئی۔تقریب میں عورتوں کو درپیش معاشرتی مسائل اجاگر کرنے کے حوالے سے بریفنگ دیدی گئی

اسلام آباد(فائزہ شاہ چیف رپورٹر نیوزواچ) پاکستان نیشنل فورم آن وومن ہیلتھ کے زیر اہتمام انٹرنیشنل فسٹیولا ڈے23مئی کے حوالے سے نیشنل پریس کلب اسلا م آبادمیں تقریب منعقد کی گئی۔تقریب میں عورتوں کو درپیش معاشرتی مسائل اجاگر کرنے کے حوالے سے بریفنگ دیدی گئی۔ان کا کہناتھا کہ پاکستان میں تقریباً4سے 5ہزار خواتین فسٹیولا بیماری میں مبتلا ہیں جسکی بنیادی وجہ معاشرتی نہ ہمواری، فرسودہ رسم ورواج، غربت، تعلیم کی کمی، فیملی پلاننگ سہولتوں کی عدم دستیابی، تربیت یافتہ صحت کارکنوں کی کمی اور علاقائی سطح پر بنیادی سہولتوں کا نا پید ہونا شامل ہیں۔

مقررین میں فسٹیولا پراجیکٹ کوارڈینیٹر مس عطہر سید، ڈاکٹر کوثر ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈ ریجنل کوارڈینیٹر فسٹیولا سنٹرایم سی ایچ پمز، پروفیسر ناصرہ تسنیم ہیڈ ایم سی ایچ یونٹ اینڈ ریجنل پروگرام منیجرنے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بہت بڑی تعداد فسٹیولا کی پائی جاتی ہیں جوکہ جراہی کے دوران بن جاتے ہیں پاکستان میڈیل ایسوسی ایشن کو اس سلسلے میں بہت تشویش لاحق ہے

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحت کے شعبے سے وابسطہ تمام ادارے خصوصاًپی ایم ڈی سی اور سی پی ایس پی فسٹیولا بیماری کے حوالے سے بہترین پالیسیاں وضع کریں، رجسٹریشن اور پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کورسسز مرتب کرے۔

پاکستان نیشنل فورم آن وومن ہیلتھ 2005سے ایو این ایف پی اے کے تعاؤ ن فسٹیولا بیماری میں مبتلا خواتین کا ملک بھرمیں مفت علاج کررہی ہے۔2017کے بعداب تمام سہولیات فسٹیولا فاؤنڈیشن اور اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کے تعاؤن سے مہیا کی جارہی ہیں۔

ملک میں 7مین مراکز بنائے گئے ہیں جس میں مریضوں کا مفت علاج سمیت سفری اخراجا ت بھی دیئے جاتے ہیں۔یہ مراکز پاکستان میں کراچی، حیدرآباد، ملتان، لاہور، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں واقع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان یہ عہد کرے کہ فسٹیولاکے خاتمے کے لئے تما م وسائل بروئے کار لائیں گے۔بڑے پیمانے پر مڈوائف کی ٹریننگ شروع کی جائے تاکہ ہر حاملہ خاتون کی دیکھ بھال اور زیر نگرانی زچگی کا عمل ممکن بنایا جاسکے اور فسٹیولا سے بچاؤممکن ہوسکے۔

تمام بنیادی صحت کے مراکز اور دیہی صحت کے مراکز مکمل طور پر کام شروع کریں تاکہ خواتین کو بنیادی اور ایمر جنسی صحت کی سہولیات میسر آسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں