نگران وفاقی کابینہ میں شامل وزراء کو قلمدان سونپ دیے گئے، نوٹیفکیشن جاری 89

نگران وفاقی کابینہ میں شامل وزراء کو قلمدان سونپ دیے گئے، نوٹیفکیشن جاری

نگران وفاقی کابینہ میں شامل وزراء کو قلمدان سونپ دیے گئے، نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد: نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک کی 6 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھالیا جنہیں وزارتوں کے قلمدان بھی سونپ دیے گئے۔

ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین نے نگران کابینہ سے حلف لیا جب کہ کابینہ میں شامل اراکین میں شمشاد اختر ، عبداللہ حسین ہارون، روشن خورشید برونچا، اعظم خان، سید علی ظفر اور محمد یوسف شیخ شامل ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق عبداللہ حسین ہارون کو وزارت خارجہ اور نیشنل فوڈ سیکیورٹی کا قلمدان دیا گیا جب کہ وزارت دفاع و دفاعی پیداوار کا اضافی چارج بھی ان کے پاس ہوگا۔

ڈاکٹر شمشاد اختر کو وزارت خزانہ، شماریات اور وزارت منصوبہ بندی کا قلمدان دیا گیا ہے، اس کے ساتھ وزارت تجارت اور وزارت انڈسٹریز و پیدوار کا اضافی چارج بھی ڈاکٹر شمشاد اختر کے پاس ہوگا۔

اعظم خان کو وزارت داخلہ، وزارت کیڈ اور وزارت نارکوٹکس کنٹرول کا قلمدان دیا گیا ہے اور ان کے پاس وزارت بین الصوبائی رابطہ کا اضافی چارج بھی ہوگا۔

کابینہ میں شامل سید علی ظفر کو وزارت قانون و انصاف، وزارت پارلیمانی امور اور وزارت اطلاعات کا قلمدان دیا گیا ہے۔

یوسف شیخ کو وزارت وفاقی تعلیم پروفیشنل ٹریننگ کا چارج دیا گیا ہے جب کہ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز اور وزارت مذہبی امور کا اضافی چارج بھی اُن کے پاس ہوگا۔

روشن خورشید بروچہ کو وزارت انسانی حقوق، کشمیر و گلگت بلتستان امور اور وزارت سیفران کا قلمدان دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک نے یکم جون کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا جو 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات 2018 کے انعقاد کے پابند ہیں۔

ڈاکٹر شمشاد اختر

نگران وفاقی کابینہ میں شامل ڈاکٹر شمشاد اختر 2006 سے 2009 اسٹیٹ بینک کی گورنر رہیں اور اس سے قبل وہ 2004 میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ڈائریکٹر جنرل بھی رہیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر اقوام متحدہ میں انڈر سیکریٹری جنرل رہ چکی ہیں اور وہ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون کی سینئرمشیر بھی رہی ہیں۔ڈاکٹرشمشاد اختر ورلڈ بینک کی نائب صدر، اقوام متحدہ میں سربراہ معاشی، معاشرتی کمیشن ایشیا پیسیفک بھی رہ چکے ہیں۔

حیدرآباد میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر شمشاد اختر نے قلیل مدت کے لیے وفاقی اور سندھ حکومت کے پلاننگ ڈپارٹمنٹ میں بھی کام کیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد میں حاصل کی اور 1987 میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف اکنامکس کی ویزیٹنگ فیلو بھی رہی ہیں۔

عبداللہ حسین ہارون

نگران کابینہ میں شامل دوسرے وزیر عبدالله حسین ہارون اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب رہ چکے ہیں۔ عبداللہ حسین ہارون سندھ اسمبلی کے رکن بھی رہے اور اپوزیشن لیڈر بھی رہ چکے ہیں جب کہ وہ سندھ اسمبلی میں چیئرمین قائمہ کمیٹی خزانہ اور قواعد و ضوابط بھی رہے ہیں۔ عبدالله حسین ہارون کا تعلق ہارون خاندان سے ہے، وہ سر عبدالله ہارون کے پوتے اور سعید ہارون کے بیٹے ہیں جن کی سماجی آزادی اورسیاسی حقوق کے لیے نمایاں خدمات ہیں۔

محمد اعظم

نگراں وفاقی وزیر محمد اعظم خان ریٹائرڈ سینئر بیورو کریٹ ہیں اور وہ چیف سیکریٹری پختونخوا کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اعظم خان خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ اور منصوبہ بندی کے وزیر اور وفاقی سیکرٹری پٹرولیم اور مذہبی امور بھی رہ چکے ہیں۔

روشن خورشید

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی روشن خورشید بروچہ بھی وفاقی کابینہ میں شامل ہیں جو صوبے کی معروف سماجی و سیاسی شخصیت ہیں۔ روشن خورشید بروچہ کا تعلق بلوچستان کے پارسی قبیلے سے ہے، جنہوں نے سوشل ورک میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔وہ پرویز مشرف دور حکومت میں 2000 سے 2002 تک صوبائی وزیرسوشل ویلفئیر رہیں اور 2003 سے 2006 تک بلوچستان سے سینیٹر بھی رہ چکی ہیں۔روشن خورشید قومی کمیشن انسانی ترقی کی قائم مقام چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔

سید علی ظفر

بیرسٹر علی ظفر ملک کے نمایاں ماہر قانون ہیں جو صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بھی رہ چکے ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں عدالتی معاون بھی مقرر کیا۔ نگراں وفاقی وزیر بیرسٹر علی ظفر قانونی ماہرین میں الگ شناخت رکھتے ہیں جو ممتاز ماہر قانون ایس ایم ظفر کے صاحبزادے ہیں۔

شیخ محمد یوسف

نگراں کابینہ میں شامل چھٹے وزیر شیخ محمد یوسف نے تمام زندگی تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دیں، وہ کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں اور آرمی ایجوکیشن کور سے میجر ریٹائرڈ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں