جموں میکانگریس کا احتجاجی مارچ، جموںوکشمیر کی پرانی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ
جموں (سید عمر گردیزی ، نمائندہ خصوصی ) مقبوضہ کشمیر میں کانگریس کے سینکڑوں کارکنوں نے جموں میں پارٹی رہنمائوں کی قیادت میں جموںوکشمیر کی پرانی حیثیت کی بحالی اور علاقے کو دو یونین ٹیریٹوریز میں تقسیم کرنے کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اوراس کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کے بعدجموں میں اپنی نوعیت کایہ پہلا احتجاجی مارچ
![]()
شہیدی چوک میں کانگریس کے ہیڈکوارٹر سے شروع ہوا اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر پر ختم ہوا جہاں بھارتی صدر رامناتھ کووند کے نام ایک یادداشت پیش کی گئی۔ جموںوکشمیر کانگریس کے صدر جی اے میر نے جنہوں نے دیگر رہنمائوں کے ہمراہ مارچ کی قیادت کی ،صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لوگ اپنے حقوق کے بارے میں آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیںاور یہ صورتحال
اس ریاست کو توڑ کر ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے لیفٹننٹ گورنر جی سی مرمو کو یادداشت پیش کرنے کی اجازت مانگی تھی لیکن آپ جانتے ہیں کہ کشمیر میں جمہوریت کا کیا حال ہے ۔ ہمیں اجازت نہیں دی گئی اس لئے ہم صدر کے نام یہ یادداشت ڈپٹی کمشنر جموں کو دے رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یادداشت میں جمہوریت کا قتل اور آئین کی توہین کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے پاک بھارت کشیدگی پر ثالثی کی پیشکش کردی
ڈالر کے بعد سونا بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
تمہارا گھرتمہارے لئے پرسکون ہو” فرمان رسول اللہ ﷺ
دہشت گردی کیخلاف ایک ہیں!
جموں وکشمیر کی دلکش وادی سماہنی کی سیر اور ہماری قومی ذمہ داریاں ۔
ہر جان کی قدر کب کی جائے گی !
مسنگ پرسنز ٹوٹل فراڈ ہے، دہشتگردوں نے انسانی حقوق کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا ہے: وزیر دفاع
پنجاب سے بلوچستان جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے
امریکانے ایران پر حملہ کیا تو جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی: آیت اللہ خامنہ ای
بلوچستان میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس ہیں: سرفراز بگٹی
الوادع سلطان ریاست
پا کستان کی پس پردہ ثالثی !