امن کی خو اہش کمزور ی نہیں !
امن کی خو اہش کمزور ی نہیں ! تحریر:شاہد ندیم احمد پاکستان نے پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ہر سطح اور ہر سمت میں امن کا ہاتھ بڑھایا ہے ،جبکہ اس کے برعکس مقبوضہ جموں و کشمیر پر
تازہ ترین
امن کی خو اہش کمزور ی نہیں ! تحریر:شاہد ندیم احمد پاکستان نے پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ہر سطح اور ہر سمت میں امن کا ہاتھ بڑھایا ہے ،جبکہ اس کے برعکس مقبوضہ جموں و کشمیر پر
’’لانگ مارچ اپوزیشن کا کڑا امتحان‘‘ تحریر اکرم عامر سرگودھا اپوزیشن کی جانب سے کپتان اور اس کی کابینہ کے کھلاڑیوں کو دی جانے والی ڈیڈ لائن گزر چکی ہے مگر حکومت کا کوئی مہرہ مستعفی نہیں ہوا، لیکن
ہمارے اسلاف کی فن تعمیر کو کیا دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا؟ نقاش نائطی ہمارے اسلاف کی فن تعمیر کو کیا دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا؟ جس سےموجودہ جدت پسند عصری تعلیم یافتہ لوگوں کو، اپنے اسلاف کی
مافیا پر ہاتھ پڑے گا تو تبدیلی نظر آئے گی ! تحریر :شاہد ندیم احمد ملک کی سیاسی قیادت کا کام خدمت خلق کر کے عوام کے مسائل کم کرنا ہوتا ہے ،لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، یہاں پر کرائے کے
پی ڈی ایم جال کہ گلے کا طوق ! تحریر:شاہد ندیم احمد اپوزیشن کا حکومت پر اعتراض رہا ہے کہ بار بار یو ٹرن لیتی ہے ،لیکن آجکل اپوزیشن قیادت اپنے بیانات پر بڑے بڑے یوٹر ن لینے لگے ہیں،پی ڈی ایم کے
خوشخبری مہنگائ کم ہو گئ ہے تحریر۔حمادرضا پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک میں یہ مشترکہ رواج ہے کہ جب نئ نویلی دلہن کو بیاہ کے گھر لایا جاتا ہے تو چند روز اس کی خوب خاطر مدارت کی جاتی ہے اور خوب
“سسک رہی ایسے کشمیر کی یہ وادی” کومل شہزادی ۵فروری کشمیریوں کے ساتھ بطور یک جہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس روز پورے ملک میں مظلومان کشمیر کے حق میں جلسے اور جلوس منعقد کرکے ان سے
برگد کا تاریخی درخت تحریر: اکرم عامر سرگودھا محبت کی لازوال داستان ہیر رانجھا کے ایک کردار دھید و رانجھا کاتعلق مڈھ رانجھا کے علاقے تخت ہزارہ سے تھا، جو کہ سرگودھا سے 60 اور اسلام آباد سے 248
معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی ایک بڑی وجہ؟ تحریر :محمدکاشف اکبر کسی بھی معاشرے میں جرائم کے بڑھنے کے بہت سے محرکات ہوتے ہیں جن میں تعلیم وتربیت کی کمی،والدین کی عدم توجہ، بری صحبت،بے روزگاری اور
پٹرول کی بڑھتی قیمت اورعوام کی مشکلات تحریر:شاہد ندیم احمد عوام ابھی گزشتہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے منفی اثرات سے حواس باختہ تھے کہ حکومت نے ایک بارپھرمہنگائی کا بم گراتے ہوئے