سانحہ مری المیہ بھی، قومی سانحہ بھی
سانحہ مری المیہ بھی، قومی سانحہ بھی تحریر: ایس ایم طیب عالمی سطح پر سانحہ مری پر اظہار افسوس کیا گیا اگر ہم اس سانحے کے تلخ پہلوؤں کا جائزہ لیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں میزبان مہمان نوازی کرتا
تازہ ترین
سانحہ مری المیہ بھی، قومی سانحہ بھی تحریر: ایس ایم طیب عالمی سطح پر سانحہ مری پر اظہار افسوس کیا گیا اگر ہم اس سانحے کے تلخ پہلوؤں کا جائزہ لیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں میزبان مہمان نوازی کرتا
ذراسی غفلت جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی سانحہ مری اپنے پیچھے بہت سے سوال اور کہی ان کہی کہانیاں چھوڑ گیایہ لالچ میں ڈوبے،خوف ِ خداسے عاری اور شتربے مہار ان انسانوںکی کہانیاں ہیںجو نوچنے
غیر سیاسی رویئے میں بدلتی عوامی سوچ کالم نگار: تحریر :شاہد ندیم احمد اپوزیشن کے احتجاج میں حکومت نے منی بجٹ پیش تو کردیا ہے ،مگر اس منی بجٹ کو پارلیمان سے منظور بھی کروانا ہے ،اس حوالے سے آئی یم
انسانیت نہیں تھی جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی وہ خوشی سے اٹھلاتی پھررہی تھی ایک بارپھر اپنے بہن بھائیوںسے ساتھ دورکہیں دور سیرکوجانا تھا اسے جب بھی مری،ایوبیہ،نتھیاگلی جانے کا موقعہ ملتاوہ اسی
لوٹی دولت واپس لانے کا عزم کالم نگار: تحریر :شاہد ندیم احمد دنیا بھر میںوائٹ کالر کرائم کے ذریعے ترقی پذیر ممالک سے سالانہ ایک کھرب ڈالر غیر قانونی طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں منتقل ہو جاتے ہیں،
سوچیے گاضرور کالم۔ثناء اللہ گھمن۔ ہرآنے والے بجٹ سے عوام کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں،مہنگائی،غربت اوربے روزگاری کی دلدل میں دھنسی عوام کی منی بجٹ سے بھی بہت سی توقعات تھیں،جواس وقت دم توڑ گئیں،جب
سیاحتی مقام ملکہ کوہسار مری ۔ گاڑیاں تابوت بن گئیں اورخوشیاں ماتم میں بدل گئیں نگاہ حقیقت تحریر ۔ خالد حسین ملکہ کوہسار مری ، شمالی علاقہ جات کا شہر ہے اور صوبہ پنجاب کے ضلع راولپنڈی کا ایک صحت
سانحہ مری مجرمانہ غفلت کا شاخسانہ کالم نگار: تحریر :شاہد ندیم احمد حکومت کی جانب سے ملک کو سیاحت میں سوئٹزر لینڈ کے مدمقابل بنانے کا تصور تو بہت پیش کیا جاتاہے ،مگر جس دارلحکومت میں بیٹھ کر سیاحت
ترقی میں سرمایہ کاری کرنی ہے یا نہیں کالم نگار:عبدل راشد شاکر (پی آر او پرائم منسٹر پاکستان) ترقی میں سرمایہ کاری کرنی ہے یا نہیں، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہی سوال ہے۔ ان کی مجموعی
روشن مثالیں جمہورکی آواز کالم نگار: تحریر : ایم سرورصدیقی اچھی خاصی دکان چل رہی تھی روزانہ ہزاروںکی سیل ، چھٹی کے دنوںمیں لاکھ سے بھی تجاوزکرجاتی گاہک پرگاہک ہر وقت رش نے سہیل کو کچھ بدمزاج بھی