یہ ملک کی بقاء کا سوال ہے!
یہ ملک کی بقاء کا سوال ہے! الیکشن کی گہماگہمی میں سارہ ہی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے راگ الاپ رہی ہیں ،ہر آزمائی سیاسی جماعت وہی پرانے دعوئے وہی ہرانے وعدے دہرائے جارہی ہے ،لیکن کسی کے پاس عوامی
تازہ ترین
یہ ملک کی بقاء کا سوال ہے! الیکشن کی گہماگہمی میں سارہ ہی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے راگ الاپ رہی ہیں ،ہر آزمائی سیاسی جماعت وہی پرانے دعوئے وہی ہرانے وعدے دہرائے جارہی ہے ،لیکن کسی کے پاس عوامی
رام مندر افتتاح اور ہم ہندستانی 30 کروڑ مسلمانوں کے جذبات نقاش نائطی ۔ +966562677707 محمد شبیر قریشی عرف عام منا ایودھیہ شہر سابقہ بابری مسجد کے پڑوسی، کیسے اپنے ایمانی درد و کرب کا اظہار کررہے
جمہوریت ایسے ہی مرتی ہے ! دنیا بھرمیں الیکشن کے انعقاد سے جمہوریت مستحکم ہوتی ہے، ملکی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے، ملک کا دفاع مضبوط ہوتا ہے ،ملک کی نیک نامی میں اضافہ ہوتا ہے، مگر یہاں
رام رام ستیہ ہے یعنی رام کا رام ستیہ ہیں گویا رام بھگوان نہیں تھے انکا بھی کوئی بھگوان تھا نقاش نائطی ۔ +966562677707 *وشؤگرو ہندستان کے لئے نفرتی نہیں بلکہ محبت اخوت شانتی والا ماحول چاہئیے**رام
تبدیلی کا رنگ ختم نہیں ہو پائے گا ! ملک میں حالات خراب ہو نے کے باوجود آٹھ فروری کو انتخابات ہو نے جارہے ہیں، لیکن کیا یہ انتخابات آزادانہ شفاف ہوپائیں گے؟ اگریہ سوال مسلم لیگ (ن )سے کیا جائے
ایک اللہ ایک نبی کی یہ امت مسلمہ،شیعہ سنی تفکرات میں بٹی اسلام دشمن امریکہ کی غلام بن چکی ہے نقاش نائطی ۔ +966562677707 1973حرب عرب اسرائیل میں،یہود و نصاری اسلام دشمن حربی قوتوں کو, دن میں تارے
قومی سلامتی کے دفاع کا عزم ! پاکستان اور ایران کے مابین گہرے برادرانہ تعلقات ہیں،اس خطے کے لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور تجارتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں،بین الاقوامی سطح پر
اس بار عوام کی باری ہے! ملک میں انتخابات کے قریب آتے ہی مخصوص سیاسی جماعتوں کی انتخابی سر گرمیاں دکھائی دینے لگی ہیں ،اس انتخابی سر گر میوں کیلئے کسی کیلئے ساز گار توکسی دوسرے کیلئے جبرکا ماحول
یہ بازی پلٹ بھی سکتی ہے ! ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لیے جانے کے بعد اس کیلئے بطور سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ لینے کی راہ میں روکاوٹ حائل ہو چکی ہے ،اس پارٹی کے گزشتہ
عوام کا دمادم مست قلندر ہو کر رہے گا ! آٹھ فروری کو انتخابات کرانے کا اعلان ہو چکا ہے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسے حتمی تاریخ بھی قراردے دیا ہے، اس کے باوجود چند ہفتے بعد