اُستاد منورکو انصاف مل پائے گا !
اُستاد منورکو انصاف مل پائے گا ! دنیا کے ہر مذہب معاشرے میں استاد نمایاں مقام پر فائض ہوتا ہے ، لیکن دنیائے علم نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کبھی اس طرح اجاگر نہیں کی ہے کہ جس طرح اسلام نے استاد
تازہ ترین
اُستاد منورکو انصاف مل پائے گا ! دنیا کے ہر مذہب معاشرے میں استاد نمایاں مقام پر فائض ہوتا ہے ، لیکن دنیائے علم نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کبھی اس طرح اجاگر نہیں کی ہے کہ جس طرح اسلام نے استاد
پاسپورٹ آفس شیخوپورہ مافیاز کے ہاتھوں میں تحریر: محمد اشفاق بٹ شیخوپورہ قارئین کرام ! آج ہم بات کریں گے شیخوپورہ پاسپورٹ آفس کی- پاکستان کی ہسٹری ہے کہ یہاں پر کوئی بھی ادارہ وفاقی ہو یا صوبائی
خودکو بدلیں جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی اس نے کہا تھا یقینا سچ ہی تھا کہ ہم اپنے مسائل کے خود ذمہ دار ہیںکون نہیں جانتا کہ آج معاشرے میں پھیلی فرسٹریشن نے ہر شخص کو پریشان کررکھاہے اس کی ایک بڑی
اصل منزل خود انحصاری ہے ! اس جھوٹی حکومت کا کون اعتبار کرے گا، جو کہ چند گھنٹے پہلے تک کہتی ہے کہ ملک میں پٹرول کی قیمت نہیں بڑھائی جاٗے گی اور چند گھنٹوں کے بعد ہی پٹرول کی قیمت میں ایک دو روپے
پھر وہی دہشت گردی ، پھر وہی لہو لہان ! پا کستان میں ایسا لگتا ہے کہ جیسے دشمنوں نے چاروں طرف سے ہلہ بول دیا ہے ، ایک طرف معاشی طور پر مفلوج کیا جارہا ہے تو دوسری جانبدہشت گردی کی لہر میں یکدم سے
اقتدار کی دوڑ تحریر:محمد کاشف اکبر رب کریم نے انسان کو اپنا نائب بنایا تو اسے اختیار حاکمیت بھی دیا اور دنیا کو تسخیر کرنے کی طاقت بھی یہی بات ہے کہ ناصرف چرند پرند اس کے تابع ہیں بلکہ خاص لوگ
سیاسی بت شکن خاتون تحریر:سردار طیب خان [email protected] محترمہ زرتاج گل وزیر عام آدمی جب برسر اقتدار آئے تو عوام کے دلوں سے( جاگیردارانہ )دور کی وحشت ،بربریت،ناانصافی،اقرباء
اقتدار کی رسہ کشی میںرُلتے عوام ! ملک صرف سیاسی و معاشی بحران ہی نہیں ،دیگر مختلف قسم کے بحرانوں کا بھی شکار ہے ،سیاسی پارٹیوں کے پاس درپیش بحرانوں پر قابوں پانے کا کوئی پروگرام ہے نہ ہی کوئی مل
سیاسی محاز آرائی کیا رنگ لائے گی؟ ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے اورمعیشت وینٹی لیٹر پر ہے ، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں کچلا گیا ہے، آٹے کے بحران نے غریب
عشق ِ حقیقی جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی محبت بھی کیا چیزہے جس کے دل میں موجزن ہوجائے دنیا کا ہر عیش و آرام اس کے سامنے ہیچ ہوجاتاہے یہ جذبہ ہر جذبے پر حاوی ہے درویش اپنی دھن میں کہے جارہاتھا یہ