کوئی در میانی راستہ نکلا جائے !
کوئی در میانی راستہ نکلا جائے ! اتحادی حکومت کی مدت ختم ہونے میں آٹھ ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے ،لیکن انتخابات کے انعقاد پر اب بھی ابہام ہی پا یا جارہاہے،اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ
تازہ ترین
کوئی در میانی راستہ نکلا جائے ! اتحادی حکومت کی مدت ختم ہونے میں آٹھ ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے ،لیکن انتخابات کے انعقاد پر اب بھی ابہام ہی پا یا جارہاہے،اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ
برساتی ریلوں میں چلائی جانے والی موٹر سائکل سیلاب کے دوران موٹر سائیکل چلانا ناممکن ہوجاتا ہے ۔ انڈونیشیا میں زیادہ تر لوگ اپنے روزگار پر آتے جاتے موٹر سائیکل چلایا کرتے ہیں اور چونکہ انڈونیشیا
گور نس کے بحران میں مہنگائی کا طوفان ! ملک بھر کی کھلی مارکیٹوں میں ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور مافیا کا بھرپور راج ہے ،مہنگائی مافیا کھلے عام اپنی من مانیاں کررہے ہیں اور حکومتی رٹ کہیں
انسانوں سےمدد کی طلب اور ننھے ہرن کا اظہار تشکر ملاحظہ کیجئے ابن بھٹکلی ۔ +96656277707 ایک ہائی وے سے ملحق جنگل میں جنگلی بیل ڈالیوں درمیان پھنسی اسکی اپنی ماں کی مدد کے لئے ہرن کا ننھا بچہ پاس
راغب کینسر کولاکولا سے اجتناب برتنا شروع کیجئے نقاش نائطی ۔ +966562677707 ماشاء اللہ مختلف اداروں کی طرف سے بھی کوکاکولا یا اس جیسی تمام کاربونیٹیڈ مشروبات کے نقصانات سے، متبہ کئے جانے کے باوجود
اپنے اور اپنی آل کو جنات و شیاطین کی نظر بد سے آمان میں رکھئے نقاش نائطی ۔ +966562677707 عموما جدت پسند اعلی تعلیم یافتہ گھرانوں میں صبح نواکرنی کے آکر صفائی کا نظام سنبھالتے پس منظر میں، شام کے
بارش امتحان بن گئی ہے ! پاکستان میں ہر برس مون سون کے موسم میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں سے جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے ،لیکن حکومت وقتی اور نمائشی اقدامات کر کے بری الزمہ ہو جاتی ہے،اس بار
بھارت کو بیچنے کی مودی اسکیم”کچھ دو کچھ لو والا دلچسپ کاروباری ماڈل نقاش نائطی ۔ +966562677707 کرناٹک انتخابی ہار کے بعد، اور راجستھان مدھیہ پردیش, تیلنگانہ، میزورم، چھتیس گڑھ پانچ ریاستی
زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مرا ہواہاتھی تیس لاکھ کا افکار سحر ڈاکٹر عبدالرزاق سحرؔ عمران خان نے تینوں صوبوں اور وفاق پر برسرِاقتدار ہونے کے باوجود ایسے اقدام نہیں کئے ۔جو ملک اور قوم کو مالی بحران سے
ایسا کب تک چلے گا ! پا کستانی عوام عرصہ دراز سے شفاف انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں ،مگر ہر بار ان کے مطالبے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ،اس ملک میں ویسے کے کئی بار انتخابات ہو ئے ہیں، متعدد بار