آہ!!!!کرن وقار!!!!
آہ!!!!کرن وقار!!!! کومل شہزادی موت ایک اٹل حقیقت ہے اس سے کسی کو مفر نہیں ہے۔ یہ وہ قانون الٰہی ہے جس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ہر امت کے لیے موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ جب ان کا وقت آجاتا ہے تو
تازہ ترین
آہ!!!!کرن وقار!!!! کومل شہزادی موت ایک اٹل حقیقت ہے اس سے کسی کو مفر نہیں ہے۔ یہ وہ قانون الٰہی ہے جس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ہر امت کے لیے موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ جب ان کا وقت آجاتا ہے تو
عوام کے حالات نہیں بدلیں گے ! پاکستانی عوام تاریخ کی بدترین مہنگائی اور بیروزگاری کے عذاب سے گزر رہے ہیں، مہنگائی کی رفتار ہے کہ رکنے میں ہی نہیں آرہی ہے،ہر پندرہ دن بعد پٹرول کے دام بڑھادیے
عدل و انصاف سے ماورا معاشرے رونہ زوال ہوا کرتے ہیں نقاش نائطی ۔ +966562677707 جس معاشرے سے،صاحب مقتدر ارباب کے خلاف حق گوئی کا اختیار چھین لیا جائے، وہ معاشرہ بتدریج روبہ زوال ہوجایا کرتا ہے۔
وقت ہاتھ سے نکلا جارہا ہے ! ملک بھر میں ایک ہفتے بعد عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تاریخ متعین ہے ،لیکن اس انتخابات میںجمہوریت کے تقاضے پورے کیے جارہے ہیں نہ ہی جمہور کو آزادانہ حق رائے دہی دیا
خودکشی کرنے والے کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے نقاش نائطی ۔ ×966562677707 تعجب ہوتا ہے عالم کی سب سے معتبر بلومبرگ کی پئش کردہ ریورٹ مطابق ،اب کی کمزور ملکی معشیت کو صرف اور صرف عمران خان ہی سنبھال
بڑھتی آبادی سے بڑھتے مسائل ! پاکستان میں ایک جانب آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب وسائل کی کمی سر اٹھا رہی ہے، چند روز قبل لاہور ہائیکورٹ ایک مقدے کی سماعت کے دوران لاہور میں
دے دے ادھار بچپن جمہورکی آواز ایم سرور صدیقی حسرت موہانی نے کیاخوب کہا تھا لے لے شباب یارب دے دے ادھار بچپن یہ شعر کبھی تنہائی میں یادآجائے توبچپن کی درجنوںسنہری یادیں قطاراندرقطار یادآنے لگتی
اپنے اللہ کو بھولنے والے سابق مسلم شاہ ایران، کا عبرتناک انجام اور موجودہ طاقت ور ترین شیعی ایران نقاش نائطی ۔ +966562677707 ایران کے سنی بادشاہ شاہ محمد رضا پہلوی 16 ستمبر 1941 سے 19 جنوری 1979
بحران سے نکلنے کیلئے بڑے فیصلے کی ضرورت ! ملک میں انتخابی گہماگہمی میں معاشی عد استحکام کا شور بھی سنائی دینے لگا ہے ، سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں آنے کی جستجو کے ساتھ یہ فکر بھی لا حق ہو گئی ہے
تقدیر پر ایمان کامل کے ساتھ تدبیر بھی ضروری ہے نقاش نائطی ۔ +966562677707 موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے،نہ ایک لمحہ پہلے آتی ہے اور نہ ہزآر چاہنے کے کچھ لمحاتی زندگی کسی کو زائد مل سکتی ہے ۔