احتجاج کے سواکوئی راستہ نہیں !
احتجاج کے سواکوئی راستہ نہیں ! پاکستان بڑی ہی جد جہد قر بانیاں دیے کر بنایا گیا تھا اوراس مقصد کے لیے بنا گیا تھا کہ یہاں پر عوام کو آزادانہ حق رائے دہی دیا جائے گااور عدو انصاف کا بول بالا ہوگا
تازہ ترین
احتجاج کے سواکوئی راستہ نہیں ! پاکستان بڑی ہی جد جہد قر بانیاں دیے کر بنایا گیا تھا اوراس مقصد کے لیے بنا گیا تھا کہ یہاں پر عوام کو آزادانہ حق رائے دہی دیا جائے گااور عدو انصاف کا بول بالا ہوگا
غیبت و بہتان تراشی ناقابل معافی جرم عظیم ہے ۔ نقاش نائطی ۔ +966562677707 چاہے یہ جرم فردی ہو یا ملک و وطن کے خلاف سازشی اجتماعی عمل ہو، اس کی مذمت کی جانی چاہئیے نہ کہ اسے بنا تحقیق آگے فارورڈ
بھنور سے کشتی کو نکلا جائے ! اتحادی حکومت اپنا پورازور اپوزیشن کو دبانے اور اپنے راستے سے ہٹانے پر لگا رہی ہے ، لیکن اس میں حکومت کامیاب ہو پارہی ہے نہ ہی اپنی ساکھ بحال کر پارہی ہے ، اُلٹا حکومت
حکومت کی اپوزیشن عوام ! ملک میںہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی اور معاشی بحران بڑھتا ہی جارہا ہے،اس کا بظاہر حکومت کے پاس کوئی ایسا حل نظر آرہا ہے نہ ہی حکومت اسے حل کر نے میں کوئی سنجیدگی دکھا رہی
تقابل ہم والی دنیا مسلمین اور کفار و مشرکین سے نقاش نائطی ۔ +966562677707 50 سال کی عمر میں ادتیہ برلا کے انتقال کے بعد 28سالہ کمار منگلم برلا کو برلآ ایمپائر کا سی ای او بننے کا اتفاق ہوا تو
ہمارے پشتینی علوم و آگہی کو مستقبل کی نوجوان نسل تک پہنچایاجانا چاہئیے نقاش نائطی ۔ +966562677707 بھارتیہ کلچر ہزاروں سال پرانا کلچر ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے زمین پر جب اتارا گیا تھا تو
نئے انتخابات پر نئی سودے بازی! ملک میں ایک بار پھر نئے الیکشن کی گونج سنائی دینے لگی ہے ، ایک بار پھر نئے الیکشن کو ہی سارے مسائل کا حل قرار دیا جارہا ہے ، مولانا فضل الر حمن بار بار اصرار کررہے
نماز ہم مسلمانوں کے لئے کس قدر ضروری ہے ملاحظہ کیا جائے ابن بھٹکلی . +966562677707 جس طرح سے، 140 کروڑ بھارت واسیوں والے عالم کی سب سے بڑی جمہوریت کے والی و محافظ و مالک بنائیے گئے،اہنے جوانی میں
حکومتی ریوڑیاں تقسیم کے بجائے عوام کو روزگار فراہم کیا جائے نقاش نائطی ۔ +966562677707 آپ صحیح کہتے ہیں گڈگری جی۔ یہ مفت میں بٹنے والی ریوڑیوں سے ملک ترقی نہیں کیا کرتا بالکہ لوگوں کو مفت کھانے
عوامی مفاد سب سے مقدم ہے ! ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا ہی جارہا ہے اور حکومت سیاسی استحکام لانے کے بجائے سیاسی عدم استحکام میں ہی اضافہ کررہی ہے ، ایک طرف تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے