ڈاکٹر صائمہ بتول بڑے گھر کی بیٹی
ڈاکٹر صائمہ بتول بڑے گھر کی بیٹی تحریر:سچ /عبدالجبار گو ڈاکٹر محمد رمضان سمرا لیہ کے ایک معروف اور قابل قدردوست اور انسان ہیں جن کی پیشہ ورانہ خدمات سے انکار ناممکن ہے مگر ڈاکٹر صائمہ بتول سمرا
تازہ ترین
ڈاکٹر صائمہ بتول بڑے گھر کی بیٹی تحریر:سچ /عبدالجبار گو ڈاکٹر محمد رمضان سمرا لیہ کے ایک معروف اور قابل قدردوست اور انسان ہیں جن کی پیشہ ورانہ خدمات سے انکار ناممکن ہے مگر ڈاکٹر صائمہ بتول سمرا
یومِ آزادی:کون کہتا ہے ہم آزاد ہیں تحریر:کومل شہزادی ماہ اگست شروع ہوتے ہی ملک بھر میں جشن آزادی جوش و جذبے سے منانے کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں آزادی کا مطلب ہوتا کہ آپ آزاد ہوں کوئی جرائم و
یوم آزادی منانے کا مقصد تحریر:شازیہ کیانی سب سے پہلے تاریخ کا مطالعہ کر کے یہ جانتے ہیں کہ پاکستان چودہ اگست کو یوم آزادی کیوں مناتا ہے اس کے متعلق تاریخ سے ہمیں کیا معلومات ملتی ہیں پاکستان
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے تحریر :کومل شہزادی اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں دہقاں تو مرکھپ گیا اب کس کو جگاؤں کیا اقبال کی شاعری میں جس غفلت کی نیند سے اٹھانے کا جذبہ سرشار ہے کیا آج کا معاشرہ
یوم آزادی اور نسل نو تحریر نعمان نذیر کسی بھی آزاد قوم کے لئے اس کا پرچم اس کی عظمت سربلندی اور وقار کی علامت ہوتا ہے۔جدید دنیا میں اقوام عالم میں ایسے ملکوں کی اکثریت ہے جو کسی نہ کسی استعماری
ڈاکٹر عافیہ کو آزاد کروایا جائے تحریر: عصمت اسامہ فکرونظر تقریبا” دو سال کے قرنطینہ دور نے دنیا کو سمجھا دیا کہ قیدوبند کی زندگی کیسی ہوتی ہے۔۔۔ایک آزاد انسان جب محبوس ہوجایء تو اس کی
اسلامی کیلنڈر کی شروعات اور خلافت عثمانیہ ترکیہ تحریر :نقاش نائطی ۔ +966504960485 اسلامی ھجری سال کی شروعات ہر مومن مسلمان کے لئے مبارک ہو۔ویسے عیسوی شمشی سال ہو یا اسلامی قمری ھجری سال ہو اس سے
فقراء فری معاشرہ بنانا کیا ناممکن کام ہے کیا؟ تحریر :نقاش نائطی ۔ +966504960485 ضرورت مند کی بے مطلب مدد کرتے ہوئے اسے صدا کا فقیر بنائے رکھنے کے بجائے، اسے روزگار یا چھوٹی موٹی تجارت پر لگا محنت
نیلی آگ حقیقت کا آئینہ تحریر :شہزادافق افسانوں پرمشتمل کتاب ”نیلی آگ ”ہمارے معاشرے کی عکاسی ہے۔نیلی آگ کے مصنف ندیم افضال صاحب ایک معلم ہیں جنہوں نیکتاب ”نیلی ” لکھتے
آہ و فغاں تحریر : صباء ناصر سیکریٹری جنرل آواز خلق فاؤنڈیشن پچھلے دنوں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں یکے بعد دیگرے تین انتہائی دلخراش اور دردناک واقعات رونما ہوئے جس میں سے ایک کے بارے میں