گول گھڑی مانند انسانی زندگی کا سفر اور وقت کی قیمت کا احساس

گول گھڑی مانند انسانی زندگی کا سفر اور وقت کی قیمت کا احساس

ابن بھٹکلی
. +919448000010

فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم مطابق، دنیوی ایک ہزار سال برابر آخرت کا ایک دن ہوتا ہے. اس حساب سے اگر حضرت انسان کو ہوش و حواس والے 80 سالہ زندگی بھی جینے کو ملیں تو،آخرت کے کم و بیش دو گھنٹے والی زندگی میسر ہوتی ہے۔اسی میں وہ پیدا ہوتا ہے لڑکپن کے کھیل، بچپن کی شرارتیں، جوانی کی خرمستیاں، ادھیڑ پن کے کچھ اچھے برے فیصلے، بچوں کی پیدائش، پوتے پوتیوں کے ساتھ بتائے حسین لمحات اور سب سے اہم، اپنوں اور اپنی اولاد کی بہتر پرورش کے لئے،حصول رزق کی تگ و دو، بالآخر پتہ ہی نہیں چلتا کہ والدین کی انگلیاں پکڑے چلنے والے ہاتھ، اسی گھر کے آنگن میں، اپنے بچوں پوتوں نواسوں کے ہاتھ تھامے چلنے پھرنے والے دنوں میں، زندگی کب تبدیل ہوگئی ہے۔دنیوی زندگی بعد، قبر وعالم برزخ والی زندگی، پھر روز محشر والا دن، اور تا ابد رہنے والی جنت و دوزخ کی زندگانی۔

 

حضرت آدم علیہ السلام و، آدم ثانی نوح علیہ السلام، ہزار لاکھ سال قبل،کب اس دنیا میں آئے تھے؟ اس کا حساب کتاب تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں، لیکن انسانی تاریخ میں قلمبند پانچ ہزار سالہ دنیوی زندگی میں،تمام تر انبیائے بنی اسرائیل کے تذکرے ملتے ہیں۔انسانی تاریخ میں برفانی علاقوں میں مدفون انسانی لاش جو، اب تک دستیاب ہوئی ہے وہ اسی ہزار سال پرانی ہے اسکا مطلب اس سے بہت پہلے حضرت آدم علیہ السلام کا نزول ہوا ہوگا۔
حضرت آدم علیہ السلام سے بنو اسرائیل والے انبیاءکرام تک،ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام جن کا نزول ہو تھا اور انکے ماننے والے، مسلمین و غیر مسلمین جو یقینا” لاکھوں کروڑوں میں رہے ہونگے،

وہ سب کے سب، ہزاروں لاکھوں سال سے عالم برزخ میں، جنت کے باد نسیم کے سائے میں،یا دوزخ کی جھلسا دینے والی گرم ہواؤں کے تھپیڑوں کے درمیان، روز محشر کے منتظر، جی رہے ہیں۔
ان کے علاؤہ رسول خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم والے ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور اسکے بعد والے ہم کروڑوں مسلمان کافر،سب کے سب بھی سابقہ دیڑھ ہزار سالوں سے، اسی قبر و عالم برزخ میں ہی، جینے مجبور ہیں چاہے کفار و مشرکین کو جلا کر بھسم ہی کیوں نہ کردیاگیا ہو۔
اب ذرا ہم اپنے دنیوی زندگی کے،اسی، چالیس سال والے، اخروی حساب سے دو گھنٹہ یا ایک گھنٹہ کی زندگی کو، بعد الموت ہزاروں لاکھوں سال والی قبر و عالم برزخ والی زندگانی سے تقابل کر دیکھیں تو، ہمیں وقت کی قیمت کا صحیح معنوں احساس ہونے لگ جائے گا،اور ہم اپنی موت بعد والی، قبر و عالم برزخ کی زندگانی، نیز عالم محشر و اسکے بعد والی جنت و دوزخ کی ابدی زندگانی، حصول کی تیاری کرنے والے بن پائیں گے۔ یاد رکھیں نماز روزے جیسے حقوق اللہ کی کوتاہیاں تو، بعد ہر نماز مانگی جانے والی دعاؤں، یا کبھی کبھار، پڑھی جانے والی تہجد کے وقت مانگی دعاؤں ہی کی طفیل، معافی تلافی ہوئے،

ایک حد تک ہم پاک و صاف ہوجائیں گے۔ لیکن ہمارے دنیوی زندگی میں، آپس میں ایک دوسرے کا دل دکھائے، کسی کا بھی جانے انجانے میں،حق سلب کئے، قرض لئے واپس دینے سے بھول گئے رہ جانے والے، بندوں کے بندے پر والے حقوق العباد، گر کچھ باقی رہ جائیں گے تو، نفلی دعاؤں، ذکر و اذکار کی محفلوں،حتی کہ، حج و عمرہ دوران، غلاف کعبہ اللہ پکڑے،گڑ گڑا کر مانگی جانے والی دعاؤں سے بھی، حقوق العباد والے گناہ معاف نہیں کروائے جائیں گے۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے مطابق، بعض سچےپکے مسلمان، اپنے دنیوی حقوق العباد کوتاہیوں کے بدلے، روز محشر اپنے نیک اعمال ثواب دئیے اور ثواب کم پڑنے پر، دوسروں کے گناہ اپنے لئے، حاصل کئے، فقط اپنے حقوق العباد کوتاہیوں کے چلتے، روز محشر کے مساکین بنتے پائے جائیں گے۔ اللہ ہی سے دعا ہے کہ ہمیں حقوق العباد سے امان پاتے، خاتمہ بالخیر ہوتے، اپنے مالک کے پاس لوٹنے والے خوش نصیبوں میں سے بنائے۔و ما التوفیق الا باللہ

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *