59

مثبت معاشی اشاریے !

مثبت معاشی اشاریے !

حکو مت بہت سے وعدئوں اوردعوئوں کے ساتھ آئی ہے اور اپنے تائیں سارے وعدے پورا کر نے میں کوشاں ہے،لیکن سر کاری اداروں کا مجموعی سالانہ خسارہ اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ جہاں محض اصلاحات کے نعروں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ فوری نجکاری کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے،حکومت کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے سرکاری اداروں میں گورننس کی بہتری‘ اصلاحات اور رائٹ سائزنگ کے دعوے کیے جا رہے ہیں لیکن یہ تمام کوششیں وقتی اقدامات سے کچھ زیادہ ثابت نہیں ہورہی ہیں،

اس لیے مسلسل خسارے میں جانے والے اداروں کو بند کرکے نا صرف پرائیوٹائز کیا جارہا ہے،بلکہ اس نجکاری کے عمل کو بڑی شفافیت کے ساتھ آگے بھی بڑھایا جارہا ہے،لیکن کیا یہ تمام کائوشیں وقتی اقدامات سے کچھ زیادہ بھی ثابت ہو پائیں گی؟اگر دیکھا جائے تو ہر دور اقتدار میں خسارے میں چلنے والے اداروںکو کبھی قومی وقار تو کبھی اصلاحات کے نام پر چلایا جاتا رہا ہے،لیکن سیاسی مداخلت‘ نااہلیت اور فرسودگی نے ان اداروں کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے کہ جہاں اصلاحات کا اثر نہ ہونے کے برابر ہے

،قومی ادارے جب عوامی خدمت کے بجائے سیاسی بھرتیوں اور ذاتی مفادات کے حصول کا مرکز بن جائیں تو ان کا زوال پذیر ہونا طے شدہ بات ہے، اس صورت میں بنیادی خرابیوں کا ازالہ کیے بغیر کوئی اصلاحاتی ماڈل کامیاب ہی نہیں ہو سکتاہے، گزشتہ چار برسوں سے خسارے میں چلنے والے اداروں کی ایک بار پھرنجکاری کا عندیہ دیا جا رہا ہے، مگر اب تک محض پی آئی اے کی نجکاری کا عمل ہی مکمل کیا جا سکا ہے،

جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور سٹیل مل جیسے بڑے خسارے والے اداروں کی نجکاری کا عمل یا تو تعطل کا شکار ہے یا اسے دانستہ طور پر لٹکایا جا رہا ہے،یہ تاخیر ملکی معیشت کیلئے زہرِِ قاتل ثابت ہو رہی ہے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ان اداروں کی واجب الادا رقوم کا حجم بھی بڑھتا جا رہا ہے اور ان کی مارکیٹ ویلیو بھی متاثر ہو رہی ہے۔
یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ ایک جانب وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ سر کاری اداروں میں بہتری لا نا حکو مت کی ذمہ داری ہے تو دوسری جانب کہتے ہیں کہ پچیس کروڑ کی آبادی کو حکومت روز گار مہیا نہیں کر سکتی ،اس کیلئے نجی شعبے کو فعال بنانا ہوگا ،تو پھر خسارے میں چلنے والے اداروں کو کیوں کرانٹ دی جارہی ہے

اور کیوں ان کا بوجھ در بوجھ غریب عوام پر ڈالا جارہا ہے؟گزشتہ مالی سال حکومت کی جانب سے خسارے کے شکار اداروں کو 2078 ارب روپے سے زائد کی گرانٹ دی گئی‘ جو 2024ء کے مقابلے میں 37فیصد زائد ہے، اس بھاری بھرکم گرانٹ سے عوام کا کتنا بھلا ہو رہا اور بدلے میں حکومت کو کیا مل رہاہے‘ یہ جاننا چنداں کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے ،ایک ایسے وقت میں جب کہ معیشت آئی ایم ایف کی سخت شرائط سے نبرد آزما ہے اور عوام کو ملنے والی ہر سہولت ختم کی جا رہی ہے‘ سینکڑوں ارب روپے سرکاری اداروں کو گرانٹس کی صورت میں فراہم کرنا کسی طور پر ٹھیک نہیں ہے۔
یہ کہاں کا انصاف ہے کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں‘ پٹرول اور بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، مگراضافی ٹیکسوں سے اکٹھا کیا گیا پیسہ، ترقیاتی منصوبوں یا عوامی فلاح پر خرچ ہونے کے بجائے ناکام سرکاری اداروں کے سوراخوں کو بھرنے میں ضائع کیا جا رہا ہے،یہ معاشی نااہلی ہی نہیں، بلکہ حکومتی بدانتظامی بھی ہے،اس کے باوجود اصلاتی ایجنڈے سے بہلایا جارہا ہے،لیکن اب وقت آ گیا ہے

کہ اگر ریاست کاروباری ادارے چلانے کے اہل نہیں تو خسارتی ادارے چلانے پر بضد رہنے کے بجائے محض ریگولیٹر کا کردار ادا کرے، کیو نکہ نجکاری کے عمل کو عملی قالب میں ڈھالنا اب معاشی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے ، یہ خسارے میں چلنے والے ادارے جب تک نجی شعبے کے حوالے نہیں کیے جائیں گے ،ان کے خسارے کا خاتمہ ہو گا نہ ہی عوام پر سے ٹیکسوں کا بوجھ ہلکا ہو گا ،حکو مت کو اب سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جرأت مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے،کیا حکو مت عوامی مفاد میں ایسے جرأت مند نہ فیصلے کر پائے گی ؟
یہ سب سے اہم سوال ہے اور اس کے عملی جواب کے سارے ہی منتظر ہیں اور سارے ہی حکو مت کی جانب دیکھ رہے ہیں، حکو مت بھی کاروباری اصلاحاتی ایجنڈے میں بار بار فعل ہو نے کے بعد بخوبی جانتی ہے کہ کاروباری اداروں کی نجکاری کے ذریعے ہی خسارے سے چھٹکارا پایا جاسکتاہے اور آئی ایم ایف سمیت عالمی ادارے بھی یہی تجاویز دے رہے ہیںتو دیری کیوں کی جارہی ہے؟

اگرچہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد چند دوسرے اداروں کی بھی نجکاری کا عمل شروع ہو چکا ہے ،تاہم دانشمندی کا تقاضا ہے کہ خسارے کے شکار دیگر اداروں کا بوجھ بھی بروقت اُتار پھینکا جائے اور جتنی جلد ہو سکے‘ شفافیت کے ساتھ ان کی نجکاری کی طرف بڑھا جائے تو ہی مثبت اشاریے کا ادھوراخواب پورا ہو پائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں