71

موت انسانی جسم کو آتی ہے

موت انسانی جسم کو آتی ہے

تحریر جاوید اقبال بٹ
موت انسانی جسم کو آتی ہے کردار زندہ رہتے ہیں۔جن لوگوں نے اپنی زندگی کو بامقصد بنایا وہ برسا برس تک زندہ رہتے ہیں۔ان کو ان کی گفتگو ،ادا،کام اور کردار زندہ رکھتے ہیں۔باکردار اور درد دل رکھنے والے انسان نسلوں میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔انھی کرداروں میں ایک رچی بسی شخصیت چودھری رفیق احمد بجاڑوی مرحوم کی تھی۔رفیق احمد بجاڑوی کا شمار اسلام گڑھ میں صحافت کے بانیوں میں ہوتا ہے۔وہ تادم مرگ شعبہ صحافت سے وابستہ رہے۔ان کی صحافتی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔وہ ماضی قریب کے تعلیم یافتہ لوگوں میں شمار تھے

مرحوم چوہدری محمد رفیق بجاڑوی
مرحوم چوہدری محمد رفیق بجاڑوی

۔انھوں نے نہ صرف اسلام گڑھ میں صحافت کو فروغ دیا بلکہ غریب اور مظلوم کا بہترین رفیق ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہ حق اور سچ کا ساتھ دیا کرتے تھے۔وہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تو پھر کبھی پیچھے نہ ہٹتے۔رفیق احمد بجاڑوی مرحوم صحافی ہونے کے ساتھ بہترین سماجی شخصیت تھے۔انھوں نے نہ صرف علاقائی مسائل کو ارباب اختیار تک پہنچایا بلکہ انھیں حل کروانے کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔وہ ایک عام انسان تھے۔ان تک ہر شخص کو رسائی حاصل تھی۔عام لوگوں میں گھل مل جاتے۔

ان سے ہر ممکن تعاون کرتے۔مذہبی رجحان بھی بدرجہ اتم موجود تھا۔اپنے گھر کے قریب مسجد اور مدرسے کی بنیاد رکھی جو آج بھی اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔وہاں سے درجنوں بچوں نے حفظ کیا اور بے شمار بچوں نے ناظرہ قرآن سیکھا۔وہ خود بھی ایک درس گاہ کی حیثیت رکھتے تھے۔نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے۔اسلام گڑھ پریس کلب میں معتدد بار صدر رہے۔اسلام گڑھ پریس کلب ایک معیاری پریس کلب رہا۔جس میں درجنوں پڑھے لکھے لوگوں نے صحافت کو فروغ دیا۔وہ نئے لکھنے والوں سے شفقت فرماتے

۔ان کی حوصلہ افزائی کرتے۔پریس کلب کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی جیب سے خرچ کرتے۔ان کی وفات یہاں پریس کلب کے لیے ایک سانحہ تھا۔وہاں مظلوم اور غریب لوگوں کے لیے بھی ایک پھل دار شجر کٹ گیا۔مذہبی حوالے سے بھی ان کے چاہنے والوں کو ایک صدمہ سے گزرنا پڑا۔وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے

۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے دوست احباب کا ایک وسیع حلقہ رکھتے تھے۔ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادگان نے بھی اس مشن کو جاری رکھا ہوا ہے اور بالخصوص ذوالفقار رفیق احمد بجاڑوی نے اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ہر سال ان کی برسی 14فروری کو ان کے آبائی گاؤں بجاڑ میں مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی کامل بخشش فرمائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں