69

سناتن دھرمی برادران وطن تک دین اسلام کی دعوت پہنچانے کی ذمہ داری کیا ہم بھارتیہ سلمانون کی نہیں ہے؟

ناتن دھرمی برادران وطن تک دین اسلام کی دعوت پہنچانے کی ذمہ داری کیا ہم بھارتیہ سلمانون کی نہیں ہے؟

سناتن دھرمی برادران وطن تک دین اسلام کی دعوت پہنچانے کی ذمہ داری کیا ہم بھارتیہ سلمانون کی نہیں ہے؟
. یا
کوئی بھی آسمانی مذہب نساء سمیت انسانیت کو شرمسار کرتا حکم, اپنے پیروکاروں کو نہیں دیا کرتا ہے

۔ نقاش نائطی
۔ +966562677707

آسمانی مذاہب کا ہر عمل انسانی بھلائی کے پیش نظر ایشور اللہ کی طرف سے دیا ہوا ہوتا ہے وہ ایشور اللہ کا بتایا کوئی بھی فرض و سنت عمل یا لازم ملزوم یا عمل آوری چھوٹ کے ساتھ دیا حکم بھی, انسانیت کےخلاف نہیں ہوسکتاہے۔ انسانی معاشرے میں تا ابد سے اب تک خالق کائینات کی طرف انسانیت کی آگہی کے لئے صدا نبی و رسول بھیجے جانے کے باوجود, ہر آسمانی مذاہب والے ادیان میں, بھٹکا ہوا یا راہ راست سے ہٹا ہوا ایک گروہ چاہے وہ دین بیزار ہو یا دین کے ٹھیکے داروں میں سے ہی کیوں نہ ہو وہ صدا پایا جاتا تھا اور اب کے اس موجودہ اعلی تعلیم یافتہ جدت پسند دور میں بھی پایا جاتا ہے۔مثلا” مسلم معاشرے میں جڑ پکڑے, چندنام نہاد ملا مولویوں کی ہوس پرستی و انکی معشیت سنبھالتی برہمنی سوچ کا غماز مسلم معاشرے کا بدنام و رسوا کرتا یا مہذب انسانیت کے سامنے شرم سار کرتا عمل “حلالہ” دراصل مسلم نساء کی عزت و احترام و پاکیزگی کو بحال رکھنے اور انکے ساتھ انصاف کئے جانے کے لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے مسلم معاشرے کے لئے لازم ملزوم کیا گیا تھا لیکن ان نام نہاد ملا مولیوں نے, اسی پاکیزہ حلالہ عمل کو, مسلم معاشرے کی بدنامی اور حکم اسلامی کو نہ صرف غیر انسانی بالکہ نساء پاکیزگی کو شرمسار کرنے کا سبب بناکر رکھ دیا ہے۔
دراصل اسلام سے قبل والے مرد آہن ہی سب کچھ ہیں,درشاتے عرب معاشرے میں, نساء کی
کوئی عزت و تکریم نہ تھی۔ بیوی گھر کی لونڈی اور مرد آہن کی غلام سمجھی جاتی تھی ایام حیض اسے مرد آہن کی نظروں سے دور بند کمرے میں رکھا جاتا تھا۔بیوہ نساء کو بھی کہن زدقرار دئیے, گو اسے مردانگی والے معاشرے سے کٹا کٹا گھر کے نیم روشن کمروں میں مقید, غیض و غضب و جلالی کیفیت مرد آہن کے آہنکار کی بھینٹ چڑھتے, نہ صرف زد و کوب,بالکہ مطلقہ بنے زندگی بھر شرمسار ہوئے رہنے,اسے مجبور کیا جاتا تھا۔ لیکن بیوہ اگر جوان ہو تو صدا بن بیاہے, اسے گھر کے کسی بھی مرد آہن کی ہوس کاری کے لئے نعمت غیر مترقبہ سمجھا جاتا تھا۔ کچھ اسی قسم کی نساء محرومیوں کو درشاتی ھندی فلم پریم روگ میں نساء کو اسے ملنے والے جائز حقوق سے کس طرح محروم رکھا جاتا ہے

بعین ہی دیکھا جاسکتا پے۔ عموما” ہر معاشرے کے نصف آبادی والے نساء طبقہ کو اسے مہیا کئے جانے والے ہر حقوق سے ماورا, شرمسار و تضحیک زد جس عرب معاشرے میں رکھا جاتا تھا اسی عرب معاشرے میں دین اسلام نے عورت کو عزت و توقیریت سے جینے لائق مواقع عطا کئے تھے ۔آہنکار سے سرشار عرب مرد آہن کو کسی بھی مجبوری کی حالت میں اگر بیوی کو طلاق دینے کی ضرورت بھی پیش آئے, تب بھی اپنی بیوی کو کیسے طلاق دیا جائے قرآن مجید میں طلاق کا طریقہ بتانے والی آیات سورۃ البقرہ (2) کی آیات 228 سے 232 تک ہیں، خاص طور پر آیت 229 (جس میں تین طلاق کا ذکر ہے کہ شوہر کو اختیار ہے کہ وہ طلاق دے یا عدت میں رجوع کرے، اور تین مرتبہ کے بعد بیوی حرام ہو جاتی ہے) اور آیت 228 (جس میں عدت کی تفصیل ہے

اور کہا گیا ہے کہ رجوع کا حق ہے) وہ آیات ہیں جو طلاق کے وقفے اور شرعی طریقہ کار کو واضح کرتی ہیں، جس میں طلاق کے بعد عدت کا انتظار اور پھر رجوع یا نکاح ثانی کا آپشن جواز و اختیار شامل ہے، اور یہ عمل “تین ماہ دس دن” کے وقفے (عدت) کے اندر ہوتا ہے، جس میں ہر طلاق کے بعد رجوع کا موقع ملتا ہے، یہ عمل سورہ بقرہ کی آیات میں واضح بیان ہوا ہے. ان تمام شروط کے بعد کوئی اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور وہ بیوی اس کے لئے حرام قرار دی جاچکی ہوتی اور تب پھر زوجین کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہوجائے تب اس مطلقہ کو اپنی زوجیت میں دوبارہ لے آنے کے لئے اتنی کڑی شرط رکھی ہوئی ہے کہ ہر مسلمان اپنی بیوی کو تین طلاق دینے سے پہلے سو بار سوچے ۔پہلی طلاق بھد تین مہینے دس دن والی والی عدت دوران زوجئین رجوع نہ ہوپائیں تب پھر دوسری طلاق اور پھر تین مہینے دس دن والی عدت مہلت درمیان زوجین آپس میں رجوع نہیں کرنے حتمی فیصلہ کرلیتے ہیں تب پھر تیسری اور آخری طلاق دینی ہوتی پے گویا محض غصے والے جذبات سے پہلی طلاق دی بھی ہوتو جملہ چھ مہینے بیس دن میں انہیں اپنی طلاق والی غلطی سدھار ازدواجی بندھن جاری رکھنے جواز باقی رہتے , اگر زوجین واقعی رجوع نہیں کرتے ہیں

تو اسکا مطلب انکے درمیان اختلاف سطحی نہیں بالکہ ٹھوس دلائل والے اختلافات کے باعث طلاق ہوا ہوتا ہے طرفین کو جدا جدا یہ اختیار حاصل ہے کہ اپنی اپنی ازدواجی زندگی کسی اور کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔ چونکہ جدائی بعد ایک دوسرے کو ایک دوسرے کی قدر و منزلت کا احساس ہوا کرتا ہے اس لئے تین طلاق دوران مکرر چھ ماہ بیس دن کی طویل مدت بعد اگر انہیں اپنے کئے پر گر پچھتاوا بھی ہوجائے تو طلاق رجوع پھر طلاق کا کھیل مکرر کھیلا نہ جاسکے اسی لئے تین طلاق کے بعد اپنی مطلقہ سے رجوع کے لئے اسلام نے یہ تضحیک آمیز شرط رکھی ہے کہ مطلقہ نساء کا اس طلاق بعد کسی اور سے نکاح ہوچکا ہو اور وہ نکاح بھی, کسی بھی سبب سے بغیر کسی دباؤکے طلاق تک پہنچ چکا ہو تب پھر وہ نساء اگر چاہے تو اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں لائی جا سکتی ہے

۔گویا پہلے شوہر سے قرآنی احکام پر عمل پیرا تین طلاق بعد وہ مطلقہ کسی اور شوہر کے ساتھ نکاح کے لئے حلال کردئیے جانے کے بعد, اگر وہ دوسرا بندھن بھی ٹوٹ وہ نساء دوسری مرتبہ بھی بغیر کسی دباؤ مطلقہ بن جاتی ہے اس عمل کو “حلالہ” والا عمل کہتے ہیں۔ لیکن دین کے کچھ مفاد پرست ٹھیکیداروں نے, اتنے واضح قرآن و حدیث احکامات باوجود, ایک محفل دی ہوئی تین طلاق کو اجماع علماء آئیمہ اربعہ کا نام دئیے, طلاق واقع قرار دئیے,اس مطلقہ کو پہلے سے طہ شدہ ایک شب باشی والے شرطیہ نکاح و پھر ایک محفل والی تین طلاق سے گزارے, اس کریہہ و بے شرمی والے غیر اسلامی عمل کو, “حلالہ” کا نام دیئے, اپنے تمام تر اوصول سے موست سائنٹیفک مہذب قرار دئیے جانے والے دین اسلام کو,انسانیت درمیان بدنام و رسوا کرنے کا انتظام, خود ہم ٹھیکیداران اسلام کررہے ہوتے تھے۔

یہ تو اچھا ہوا اللہ رب العزت نے, اپنے قرآن مجید میں وآضح طور بتائے اسلامی احکامات کو, اسلامی احکام طلاق عمل آوری ہی کو, یا عمل نہ کئے جانے والے تین طلاق حکم کو, اسلام دشمن سنگھی مودی جی کے مسلم دشمن عمل کے طور زبردستی ہی صحیح, مسلم امہ ھند کے لئے عمل پیرآئی کو لازم ملزوم کردیا ہے۔
بالکل اسی طرح انسانیت کے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور کچھ آل بعد آدم ثانی مشہور حضرت نوح علیہ السلام والے صحوف اولی و زبر الاولین جیسے رک وید, اتھر وید اور یجر وید سمیت مختلف گرنتھ والی ھند و ایشیائی مختلف ملکوں میں آباد سناتن دھرمی قوم بھی آسمانی قوم ہے۔ 1447سال قبل والے خاتم الانبیاء محمد مصطفی ﷺ والی, تاقیامت خالق کائینات کی طرف سے مکمل حفاظت کی گارنٹی والے رشد ہدایت کتاب قرآن مجید اپنے درمیان صدا پاتے ہوئے بھی, اپنےاللہ و اسکے رسول ﷺ کے مکرر تنبیہ باوجود, ہم نام نہاد مسلمانوں۔ نے وحدت الوجود و قبرپرستی جیسے انیک شرک و بدعات رسوم و حلالہ جیسے انسانی معاشرے میں دین اسلام کو بدنام کرتے غیر اسلامی رسوم رواج کو مسلم معاشرے کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔ دین اسلام نے مرد و نساء کے آپس میں نکاح و شادی کو جتنا آسان و سہل بنایا گیا تھا اور زنا کو مختلف عذاب والی وعیدوں کے ساتھ مشکل تر کیا گیا تھا,

ہم مسلمانوں نے اپنے بے جا معاشرتی نام نامود کے لئے خود ساختہ گڑھے رسوم و رواج کو ناک کا مسئلہ بنائے مسلم سماج میں نکاح شادی کو مشکل تر اور زنا کو آسان بنایا ہے۔ ایسے میں پانچ دس ہزار یا اس سےبھی زیادہ سال قبل والے آسمانی سناتن دھرمی برادران وطن نے, اپنے آسمانی سناتن (وحدانییت والے) دھرم میں اپنے سناتن دھرمی اوصول و اقدار کے عین خلاف, بنی اسرائیل کے طرز اپنے نبیوں یا رشی منیوں ہی کو بھگوان بنائے اسکی مورتیاں تخلیق کئے پوچا ارچنا کرنے لگے ہیں تو اس میں کونسی بڑی بات ہے۔ المحترم مولانا مرحوم عالم,عبد الکریم پاریکھ علیہ الرحمہ کی تحقیق کو گر صحیح مانیں تو سناتن دھرمیوں والے بھگوان رام اور بھگوان شنکر بھی انکے رشی منی منو حضرت نوح علیہ السلام کی طرح بھگوان ایشور اللہ کے انسانیت کی آگہی کے لئے بھیجے گئے

نبی یا رسول ہی تھے۔ دینی احکامات پر پڑتی زمانے کی دھول نے,انہیں۔ سناتن دھرمیوں کےدرمیان لائق پرستش بھگوان بنادیا ہے۔ سناتن دھرمیوں کے رشی منی منوکے زمانے میں آئے پرلئے یا سیلاب جو پوری دھرتی کو لے ڈوبا تھا اور رشی منی منو کی بنائی سب سے بڑی کشتی میں منو کے ماننے والے سناتن دھرمی ہی بچ پائے تھے کیا بھارتیہ سناتن دھرمیوں کے بتائے یہ واقعات قرآنی تعلیمات کی روشنی میں حضرت نوح علیہ السلام ہی کی امت, بگڑی ہوئی سناتن دھرمی یا وحدانیت سے سرشار حضرت نوح علیہ السلام کی امت ہی ہیں, یہ حقیقت ہم پر واشگاف کیا نہیں کرتے ہیں؟ اگر آج علم و آگہی کی کمی کے فقدان باعث یہ ھندستانی سناتن دھرمی انہی اپنے سناتن دھرمی اقدار کے خلاف پوری آستھا کے ساتھ ان بتوں کی پوجا ارچنا کرنے کے باوجود وہ ہمارے مذہبی یقین ایمانی رو سے جہنمی ہوریے ہیں تو انہیں جہنم کی آگ سے بچانے کی ذمہ داری آخر کس کی ہے؟
مکہ کے دین ابراھیمی کے ماننے والے قریش جیسے انیک عرب قبائل کی طرح کعبہ اللہ میں لات وعزہ و منات کے بت رکھے اسکی پوجا کئے مشرک قوم بن گئے جیسا, اب والے انیک بتوں کی پوجا ارچنا کرنے والے ان نام نہاد سناتن دھرمیوں کو دین اسلام کے قرآنی پیغام پہنچانے کی ذمہ داری آخر کس کی ہے؟ آج کے دھرتی پر بکھرے 200 کروڑ ہم نام نہاد مسلمانوں کی یہ ذمہ داری کیا نہئں ہے؟ کہ مذہبی بھگتی میں سرشار ان نام نہاد سناتن دھرمیوں تک,انہی کے رشی منی منو یعنی حضرت نوح علیہ السلام کے اصلی وحدانیت والے پیغام کی صورت انہی کے مختلف ویدوں اشلوکوں میں پیشین گوئی کردہ کل کی اوتار آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کے دین اسلام پیغام وحدانیت کو ان تک پہنچائیں؟

حج الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں اس وقت جمع ایک لاکھ چوبیس ہزار ہم مسلمانوں کے جد امجد کو مخاطب کئے,اللہ کے رسول محمد مصطفی ﷺ کے, ہم مسلمانوں کو نبی کے مقام تبریک پر براجمان کئے, تاقیامت آنے والی انسانیت تک دین اسلام کی دعوت پہنچانے والی ذمہ داری ہمارے ناتواں کندھوں پر کیا نہیں رکھی گئی تھی، آج کے ہم نام نہاد مسلمان اس عظیم ذمہ داری پر کیا پورا اتر رہے ہیں؟ کل قیامت کے دن,روز محشر اللہ رب العزت ان سناتن دھرمیوں تک دین اسلام کی دعوت پہنچانے والی رسول اللہ ﷺ کے تفویض کردہ ذمہ داری کے بارے میں جب ہم سے سوال کریں گے تو,کیا دنیا میں رہتے بوریا بستر کندھوں پر اٹھائے گاؤں گاؤں شہرشہر اپنی اصلاح کے نام سے گھومتے, لاکھوں کے ہم مسلمین ہی کے ریکارڈ ساز اجتماعات انتظام کئے, کارگزاری سنائے,مشرکین تک دین اسلام کی دعوت و آگہی نہ پہنچانے پر غیض و غضب خداوندی سے اپنی ماورائیت پر ہم کیا

آمان پاسکیں گے؟ اب بھی وقت ہے اگر ہم چاہیں ہمیں احساس ہوجائے تب ہم میں سے دین اسلام آیات قرآنی و علوم احادیث کے ماہرین, ذرا محنت سے ان سناتن دھرمیوں کے وید گرنتھ کو دلجمعی سے پڑھ لئے, رٹ لئے, ان ویدک اشلوکوں کا تقابل قرآن و احادیث سے کئے, ان میں مشترک پائے گئے احکامات ہی کو پرت درپرت کھول کھول کر سناتن دھرمیوں کے سامنے رکھے,انہی کی ویدک تعلیمات سے ان سناتن دھرمی ہم وطنوں تک, دین اسلام کی دعوت کیا پہنچائی نہیں جاسکتی ہے؟ اس پر ہم مسلمانوں کو ابھی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ابھی مہینے بھر پہلے ایک دینی مدرسہ سے فارغ التحصیل عالم دین المحترم مولانا شمائیل ندوی کے دنیوی عصری علوم حاصل کئے

معتبر دنیوی شخصیت المحترم جاوید اختر سے میڈیا کے سامنے دو بدو تبادلہ خیال جاوید اختر کو اس کے لادین نظریات پر ایک حد تک جس علمی بحث و تمحیض سے لاجواب چھوڑا تھا, کیا علم دین اسلام اور قرآنی تعلیمات حاصل کئے ماہر عملاء دین حضرت آدم و آدم ثانی حضرت نوح علیہ کی بنی نوع انسانیت کی اولین امت سناتن دھرمیوں کے انکے پاس ۔موجود انکے آپنے آسمانی وید گرنتھ جو ہمارے ایمان و یقین کے مطابق قرآن مجید میں اللہ رب العزت کے بیان کئے صحوف اولی اور زبرالاولین بھی ہو سکتے ہیں!

اسے پڑھے رٹے اس پر مہارت حاصل کئے کیا ہمارے دین سناتن دھرمی وطنی بھائیوں کے مذہبی لوگوں سے آحمددیات اور ڈاکٹر ڈاکٹر نایک جسے خوشگوار دوستانہ ماحول میں ڈبیٹ یا تبادلہ کئے, انہیں انہی کےرشی منی منو یاحضرت نوح علیہ السلام والے آسمانی وحدانیت تعلیمات کا قائل کئے, انہیں راہ راست پر لانے کی جستجو مکرر کئے, دعوت دیں اسلام کفار و مشرکین تک پہنچانے کی اپنی ذمہ داری پر پورا اترتے کیا پائےنہیں جاسکتے ہیں؟ ومالتوفیق الا باللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں