بنوں سانحہ اوردہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ !
پاکستان کی سرزمیں ایک بار پھر لہو لہو ہے اور اس بار اس بربریت کا نشانہ بنوں کا نیم قبائلی علاقہ برغنتو بنا ہے ،تھانہ احمد زائی کی حدود میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دو خوفناک بم دھماکوں نے نہ صرف ہاتھی خیل قوم کے سات خاندانوں میں صفِ ماتم بچھا دی، بلکہ پورے ملک کو ایک بار پھر گہرے دکھ، ملال اور شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے،دہشت گردوں نے ایک ایسی گاڑی، جو کہ عام پرامن شہریوں اور دیہاڑی دار طبقے سے بھری ہوئی تھی، اسے بارودی مواد کا نشانہ بنایا اور پھر جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیوں کے دوران بھی دوسرا دھماکہ کر دیا، یہ تلخ حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، کوئی اصول اور انسانیت سے کوئی واسطہ نہیں ،یہ سفاک درندے صرف اور صرف تباہی، خوف اور بربریت کی زبان جانتے ہیں اور ان کا مقصد صرف ریاست کو غیر مستحکم کرنا ہے۔
اگر دیکھا جائے تواس بزدلانہ واقعے کی ٹائمنگ اور طریقہ کار انتہائی سفاکانہ اور سوچی سمجھی سازش کا حصہ دکھائی دیتا ہے، پہلا دھماکہ عام سواریوں پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں چیخ و پکار مچ گئی ،روایتی پشتون ولی، قبائلی اقدار اور خالص انسانی ہمدردی کے تحت آس پاس موجود لوگ اور لواحقین اپنے بھائیوں کی امداد اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے دوڑے تو عین اس وقت دوسرا دھماکہ کر دیا گیا، یہ گھناؤنا اور شاطرانہ حربہ واضح کرتا ہے کہ دشمن کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں تھا، بلکہ وہ معاشرے میں خوف و ہراس کی ایسی فضا پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جہاں انسان دوسرے انسان کی مدد کرنے سے بھی کترانے لگے، یہ حملہ آور ہماری سماجی اقدار، ہماری ہمدردی اور ہمارے اتحاد پر وار کر رہے ہیں،لیکن اس مقصد میں پہلے کا میاب ہوئے نہ ہی آئندہ کا میاب ہوں گے۔
اس دہشت گردی کے حملے کی زد میں سب ڈویژن وزیر کے تحصیلدار عابد اللہ کی گاڑی بھی آئی ہے ،اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کی رٹ، سول انتظامیہ اور انتظامی مشینری کو براہِ راست چیلنج کرنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے، اگرچہ وہ خود محفوظ رہے، لیکن یہ واقعہ سیکورٹی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا خطرے کا سگنل ہے ،اس پر ڈی پی او یاسر آفریدی کی قیادت میں فوری سرچ آپریشن اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل تو شروع کر دیا گیا ہے، مگر اب روایتی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر وار کرنے کی ضرورت ہے ، اس سانحے پر اعلی سیاسی قیادت کے آنے والے فوری بیانات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں،
مگر اب قوم ان بیانات سے آگے کا لائحہ عمل دیکھنا چاہتی ہے ،صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بالکل درست اور دوراندیشانہ نشان دہی کی ہے کہ یہ بیرونی اور اندرونی قوتیں پاکستان کی عالمی سفارتی کامیابیوں، معاشی بحالی اور خطے میں امن کے لیے جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں، پاکستان جب بھی بین الاقوامی سطح پر ابھرنے کی کوشش کرتا ہے، یا ملک میں کوئی بڑا بین الاقوامی ایونٹ یا سفارتی کامیابی حاصل ہونے والی ہوتی ہے، ملک دشمن عناصر اپنے سلیپر سیلز اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو متحرک کر دیتے ہیں، تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ملک ہے۔
صدر مملکت اوروزیراعظم محمد شہباز شریف کا عزم کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے گی، پوری قوم کے دل کی آواز ہے۔ لیکن اب ان مذمتی بیانات، تعزیتی پیغامات اور عزم و حوصلے کی باتوں کو زمین پر ایک عملی اور سخت پالیسی کی شکل میں نافذ کیا جائے ،پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف دنیا کی طویل ترین اور صبر آزما جنگ لڑی ہے اور اسی ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے،
ہماری معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور ہماری نسلیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ہولناکیوں کو جھیلتے ہوئے بڑی ہوئی ہیں، بنوں، وزیرستان اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع کی مٹی گواہ ہے کہ یہاں کے غیور عوام، قبائلی عمائدین اور ہماری سیکورٹی فورسز نے ہمیشہ انتہا پسندی کے سامنے سینہ تان کر مقابلہ کیا ہے اور کبھی ان کے آگے سر نہیں جھکایا۔ ایسے بزدلانہ حملے اس فولادی عزم کو کبھی کمزور نہیں کرسکتے، بلکہ اس یقین کو مزید پختہ کرتے ہیں کہ ان درندوں کا صفایا کیے بغیر ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
اس وقت پاکستان کو ایک جامع اور مربوط سیکیورٹی اسٹریٹجی کی ضرورت ہے ، اس میں نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے، دہشت گرد اب صرف پہاڑوں یا غاروں میں نہیں چھپے، بلکہ وہ ہمارے شہروں اور قصبوں میں عام لوگوں کے بھیس میں موجود سلیپر سیلز اپنے سہولت کاروں کی مدد سے کارروائیاں کرتے ہیں،اس ملک میں جب تک ان کے مالیاتی ذرائع، ان کی پناہ گاہوں، ان کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والوں کا جڑ سے خاتمہ نہیں کیا جاتا، تب تک پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا،قبائلی علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کی رفتار کو تیز کرنا ہوگا
اور بارڈر مینجمنٹ سسٹم کو مزید سخت بنانا ہوگا تاکہ سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی قسم کی دراندازی کا موقع نہ مل سکے،اس سانحے کا ایک اور اہم پہلو ہے کہ قبائلی اور نیم قبائلی علاقوں میں ترقیاتی عمل اور تعلیم کے فروغ کو تیز کیا جائے، دہشت گرد عام طور پر ان علاقوں کے پسماندہ اور مایوس نوجوانوں کو مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اگر حکومت ان علاقوں میں روزگار کے مواقع، صحت کی بنیادی سہولیات اور جدید تعلیم فراہم کرے، تو دہشت گردوں کے لیے بھرتی کا گراؤنڈ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
آج پورا پاکستان بنوں کے شہدا کے پسماندگان کے غم میں نڈھال ہے اور ان معصوم بچوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہے، جو کہ اس بربریت کا شکار ہوئے ہیں،یہ وقت سیاست چمکانے یا ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نہیں ہے، بلکہ یہ وقت قومی یکجہتی، سیاسی ہم آہنگی اور یکسوئی کا ہے، تمام سیاسی جماعتوں، مذہبی قیادت اور مقتدر حلقوں کو ایک پیج پر آ کر دشمن کو پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان کے امن اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ہم اپنی مٹی کے ایک ایک انچ کی حفاظت کرنا جانتے ہیں
اور ان بزدل دشمنوں کو ان کے عبرت ناک انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے ،یہ بنوں میں ہو نے والا سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور ہمیں اپنے شہدا کے خون کا قرض چکانے کے لیے ایک نئے عزم اور نئی حکمتِ عملی کے ساتھ میدانِ عمل میں اترنا ہوگااور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا خا میابی سے خاتمہ کر نا ہو گا۔