77

بن جہادی جذبات خود سپردگی کے, آسمانی امداد آیا نہیں کرتی ہے

بن جہادی جذبات خود سپردگی کے, آسمانی امداد آیا نہیں کرتی ہے

نقاش نائطی
۔ +966562677707

مدینہ منورہ سعودی عربیہ سے ایران فارس نہامن کے علاقہ میں ہزاروں کلو میٹر دور سپہ سالار مسلم افواج حضرت ساریہ رض سپہ سالار افواج صحابہ رضوان الاجمعیں کی معیت میں اسلامی افواج بھیجی گئی تھیں تو ابتدائی جھڑپ میں مسلمان اپنے جہادی جذبات سے سرشار فارسی افواج پر بھاری پڑ رہے تھے لیکن فارسی افواج نے جنگی حکمت عملی کے طوراپنے بہترین جنگجوؤں کی ایک ٹکڑی کو میدان کارزار سے تھوڑی دور پہاڑی کے پیچھے چھپائے رکھا ہوا تھا تاکہ وقت ضرورت مسلم افواج کی پشت والی پہاڑی سے فارسی افواج پشت سے اسلامی افواج پر حملہ آور ہوں اور دونون اطرف سے گھرے مسلم افواج کو شکست فاش دی جاسکے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ دے رہے تھے ۔ وہان فارس نہانن کے علاقے میں گھمسان کی جنگ ہورہی تھی۔ افواج فارس کی جنگی حکمت عملی کے تحت پہاڑ کے پیچھے چھپی افواج پشت سے حملہ کرنے والی ہی تھی

خالق کائینات نے میدان کارزار فارس کے دید مسجد نبوی میں خطبہ دے رہے امیرالمومنین کو کرادی۔آپ رض نے پہاڑی دامن سے بے خبر مسلمانون پر پیچھے سے حملہ کرتی افواج فارس سے سپہ سالار مسلم افواج کو باخبر کرنے ہی کی نیت سے, دوران خطبہ ساریہ کو آواز دی اور دو تین مرتبہ پشت کے پہاڑ کی طرف دیکھنے کو کہا اور پھر خطبہ جاری رکھا۔ بعد جمعہ عبدالرحمن بن عوف رض پوچھا ائے امیر المومنین ساریہ تو ہزاروں میل دور ایران کے قلب میں محو جنگ رہے ہونگے یہ آپ نے دوران خطبہ انکو مخاطب کئے کیا کہا۔

حضرت عمر رضی اللہ نے کہا اللہ کی قسم اس نے مجھے میدان کارزار کی دید کرادی اور میں نے دیکھا دشمن افواج کی ٹکڑی مسلم افواج پشت والی پہاڑی سے نکل کو ان پر پیچھے سے حملہ آور ہونے کو ہے اسی لئے میں امیر لشکر مسلم افواج ساریہ کو متبہ کرانے کی کوشش کی تھی۔ ایک مہینے بعد فارس سے جیت کی نوید نؤ لئے مسلم افواج واپس مدینہ پہنچی تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ساریہ سے روئداد جنگ کے بارے میں جاننا چاہا تو حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ نے کہا ایک دن جمعہ کے روز محو جنگ دوران ہم نے آپ کی آواز سنی کہ آپ باربار پیچھے پہاڑی کی طرف دیکھنے کا حکم فرما رہے تھے جب ہم نے پیچھے مڑکر دیکھا تو دشمن افواج پشت سے حملہ آور ہونے کی تیاری کررہی تھی چونکہ ہم باخبر کئے جا چکے تھے ہمارے ایک دستے نے انہی کھدیڑ دیا۔

آج کی جدت پسند ترقی پزیر لاسلکی موبائل ٹیکنالوجی سیٹلائیٹ راڈار سسٹم دشمن افواج پر نظر رکھے انکی نقل و حرکت سے اپنی افواج کو باخبر رکھے جیسا, جدت پسند حربی عمل, آج سے چودہ پندرہ سو سال قبل اس غیر ترقی یافتہ دور میں, یہ رب کائینات کی طرف سے اسکے شیروں کی مدد نہیں تو اور کیا تھا؟ بے شک اللہ اپنے مومن بندوں کو اپنی طرف سے حسب ضرورت تمام تر کوشش کئے جانے کے بعد ہی, وقت ضرورت غیب سے انکی مدد کیا کرتے ہیں۔

لیکن شرط ہم مسلمانوں کا اپنی طرف سے پوری دیانت داری کے ساتھ کوشش کرنے کے بعد اللہ کی طرف سے مدد آنی ممکن ہوتی ہے۔ یہی کچھ جنگ بدر کے وقت بھی ہوا تھا۔ کفار و مشرکین کے جنگی ہتھیاروں سے لیس لشکر جرار کے مدینہ پر حملے کی نیت سے نکل جانے کی خبر ملنے کے بعد آپ ﷺ نے ہم مسلمانوں کی کسم و پرسی کے پیش نظر مدینہ ہی میں رہتے دفاعی جنگ لڑنے کی سوچ مسجد میں نبوی میں دشمن کی ہلاکت کے لئے اجتماعی دعائیں مانگنے کے بجائے، جو کچھ ان ایام ان سے ممکن ہوسکتا تھا

پوری کوشش بعد بوڑھے بچوں جوانوں پر مشتمل 313 نہتے گھڑسوار افواج کو لئے مدینہ سے دیڑھ سو کلومیٹر دور اپنی پیدل افواج کے ساتھ بدر کے مقام پر پہنچے تھے تو حربی اعتبار بہتر موقع, دشمن افواج پہاڑے کے اوپری حصہ پر پہلے سے قابض ہوچکی تھی مسلمانوں کو پہاڑی کے دامن میں پڑاؤ ڈالنا پڑا تھا تھکے ہارے مسلم افواج موقعہ حرب بدر پہنچنے کے بعد اگلی صبح معرکہ میں کون کون کس کس مقام تعینات ہوئے لڑے گا, جنگی صف بندی کی ہدایات دئیے, بعد بماز مغرب و عشاء اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی طرف سے حتی المقدور کوشش بعد اللہ کے حضور گڑگُڑاکر مدد و نصرت کی گوہاڑ لگائی تھی اور بے شک اللہ اس موقع پر بھی اپنے جہادی جذبات سے سرشار اسلامی افواج کی مدد و نصرت اللہ نے کی تھی
آج کے ہم مسلماں ہم تک اس خبر کے مکرر پہنچنے کے باوجود کہ ہمارے سنگھی دشمن اپنے مندروں گھروں میں بندوق و نیزے ترشول جیسے غیر قانونی ہتھیار جمع کئے حملہ آوری کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور ہم نہاد مسلمان نہ حربی طور اپنے دشمنوں سے بھڑنے مہلک آتشیں ہتھیار تو دور کی بات, اپنے گھروں میں لاٹھی تک نہ رکھے, توکل علی اللہ عیش عشرت سے جی رہے رہے ہیں۔روزانہ سائبر میڈیا خبروں میں آتی خبریں ہمارے انکھوں کانون دید و سمع خراشی بعد ہمارے اذہان وقلوب کو نہیں جھنجھوڑتی ہیں

کہ کیسے ان کفار و مشرکین کے مذہبی و سیاسی لیڈران اپنی ھندو قوم کو ہم اقلیتی امن پسند مسلمانون سے مکرر ڈرائے انہیں تلوار ترشول نیزے جیسے مہلک ہتھیار اپنے پاس رکھنے کے پندو نصائح کرتے پائے جاتے ہیں, بالکہ بھارتیہ سیکولر قانون کی دھجیاں ادھیڑتے مناسب قیمتوں پر ہتھیار انکے گھروں تک پہچانے کی تشہر کرتے پائے جاتے ہیں

اور ہم مسلم امہ ہیں توکل علی اللہ کے سہارے خود کو چھوڑے خواب خرگوش کی نیند کے مزے لئے اچھے سے اچھا کھاتے پیتے ,اپنے اور اپنی آولاد کی فکر ہی میں غرق, “یہ دنیا مومنین کے لئے کھیتی مانند بنائی گئی ہے”دنیا ہی کو بہشت ارضی سمجھے دنیا کے مزے اڑانے ہی میں مست جئے جارہے ہیں۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے عالم انسانیت کی شیطان صفت نازی ہٹلری مسلم دشمن عالم کی سب سے بڑی تنظیم ارایس ایس بڑبولے سربراہ مشہور موہن بھاگوت کے تیس لاکھ مسلم عیسائیوں کو ھندو دھرم میں خوش امدید کہنے تہار کہے جملوں پر مدنی عالم دین دیوبند نے جہادی جذبات سے لیس بیان بازی ہی سے سوتی مسلم قوم کو جگائے ہمہ وقت تیار رہنے کی آگہی بڑے ہی خوبصورت انداز میں دی ہے*
*رمضان کا مہینہ ہم پر شروع ہوچکا ہے چھٹے رمضان کی شب ہے ہم سحری افطار و بعد العشاء تین وقت کے مختلف الذائقہ کھانوں کی لذت آفرینی میں مست جیئے جارہے ہیں۔ آج سے دس بارہ دن بعد سترہ رمضان المبارک دو ھجری آج سے ایک ہزار چارسو پینتالیس سال قبل اسی رمضان المبارک کا سترواں روزہ کھجور کھائے روزہ رکھے اسلامی حرب اولی غزوہ بدر میں ایک ہزار تربیت یافتہ جنگجو قریش کے مقابلہ پر, غیر تربیت یافتہ بچے بوڑھوں سمیت 313 صحابہ کرام, اپنے ہاتھوں ٹوٹی تلواریں لئے,

مگر جہادی جذبات سے سرشار اپنی جانیں ہتھیلیوں میں لئے کھڑے تھے۔ اور زمانے کی تاریخ نے ان حرب بدر کے لمحات کو تاریخ کے اوراق میں محفوظ مقید رکھا ہے غیر تربیت یافتہ مسلم افواج نے تربیت یافتہ دشمن افواج کے ابوجہل جیسے جرنیلوں سمیت ستر دشمن افواج کو واصل جہنم کئے,ستر کے قریب سینیر افواج کو اسیر بنائے, اپنے صرف 14 صحابہ رضوان اللہ اجمعین کی شہادت دئیے میدان کارزار غزوہ بندر جیت جاتے ہیں۔دشمن اسلام کفار و مشرکین سے دو دو ہاتھ لڑنے کی ہمت تو دور کی بات 17 رمضان المبارک کی شب,

بعد تراویح کسی اچھے شعلہ بیان مقرر سے غزوہ بدر کے جہادی جذبات سرشار تفاصیل سنے سنائے ہم وقت کے مسلم نوجوانوں میں جہادی جذبات سرایت کرانے کی فکریں تو کرسکتے ہیں۔تاکہ وقت پڑنے پر ہماری نوجوان سے, خود میں دوڑتے اپنے آل عرب صحابہ رضوان اللہ اجمعین والے جہادی جذبات سے لیس خون جگر کی گرمی کی شدت کو محسوس کریں اور اللہ نہ کرے مسلم امہ پر آنے والے خراب حالات میں, اہنی جانوں کی پرواہ نہ کئے دفاع امت مسلمہ ہی صحیح معنوں کرسکیں۔وماالتوفیق الا باللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں