92

دہشت گردی کیخلاف ایک ہیں!

دہشت گردی کیخلاف ایک ہیں!

بلوچستان ایک بار پھر دہشت گردی کی منظم اور مربوط لہر کی زد میں آیا ہوا ہے، گزشتہ چند دنوں کے دوران صوبے کے بارہ مختلف مقامات پر ہونے والے حملے محض کوئی اتفاقی نہیں تھے، بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیے گئے کہ جن کا مقصد ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنا، عوام میں خوف پھیلانا اور سکیورٹی فورسز کی مسلسل کامیابیوں کا بدلہ لینا تھا، تاہم ان حملوں کا انجام وہی ہوا ،جو کہ ہر بار ہوتا آیا ہے

،سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور موثر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے وابستہ 67دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا اور یوں ایک بڑے سانحے کو جنم لینے سے نہ صرف پہلے ہی روک دیا گیا، بلکہ ملک مخالف قوتوں کو بتادیا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف سب ایک ہیںاور ایک ہی رہیں گے۔
یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ بھارت براستہ اور بذریعہ افغانستان دہشت گردی کے ہر واقعے کا ذمہ دار ہے، یہ پاکستانی قوم کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے کہ دشمن کے معاندانہ حربوں اور ناپاک منصوبوں کو ناکام بنایا جائے اور یہ ہی ترقی پذیر خوشحال پاکستان کا راستہ ہے ،یہ کام صرف سکیورٹی فورسز کے کرنے کا نہیں ہے ،اس دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو بروئے کار آنا ہوگا، یہ قومی ترقی اور انفرادی واجتماعی خوشحالی کی بقا کا مظہر ہے

،اس کا ادار ک کرتے ہوئے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف عوامی رائے کو تقویت دینے‘ باہمی مسائل کو حل کرنے اور ترقی وخوشحالی کے مشترکہ مقصد کی جدوجہد کیلئے سیاسی رہنمائوں اور رائے عامہ پر اثر رکھنے والے سبھی حلقوں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے،اس کام میں سیاسی اختلافات کو بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے،اس قومی ہم آہنگی کی پہل یہیں سے ہونی چاہیے کہ سیاسی قائدین اپنے اختلافات کو بھلا کر قومی مقصد کیلئے مل بیٹھیںاورکوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کر یں تو ہی در پش چیلنجز سے نمنٹ پائیں گے۔
بلوچستان جیسے علاقے میں جہاں قبائلی روایات اب بھی موجود ہیں‘ سیاسی بڑوں کا عوام کو اعتماد میں لینا اور انہیں ان کے فائدے نقصان سے آگاہ کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے ،اس کے برعکس عام آدمی کے ساتھ حکومت کا کم رابطہ‘ ان کی ضرورتوں اور مسائل سے لاتعلقی اور بے قدری دہشت گردوں کے مقاصد میں مددگار ثابت ہو رہی ہے ،عام آدمی کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری‘ اعتماد سازی اور فلاح وبہبود کے اقدامات میں اضافہ دہشت گردوں کے پراپیگنڈے کا توڑ کر سکتا ہے، لیکن ہمارے ہا ں عام آدمی شاذ ونادر ہی حکومتی ترجیحات میں آتا ہے ، یہ خلا ہی ملک دشمن عناصر کے منفی مقاصد کی آبیاری کیلئے موافق ماحول پیدا کرتا ہے اور اس میںمحرومی‘ غربت اور ناراضی کے احساسات مزید تقویت دیتے ہیں،اس لیے دہشت گردی کو ایک ہمہ جہت خطرہ سمجھتے ہوئے، اس کے سدباب کی ہر ممکن تدبیر کرنا ہو گی۔
دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی آپریشنل کارروائیاں اپنی جگہ، مگر سماج میں سوچ کی تبدیلی کے ضروری عمل کے بغیر دہشت گردی کی آگ کو پوری طرح نہیں بجھایا جا سکتا،سماجی شعور میں موجود تلخیاں اور غلط فہمیاں راکھ کی تہہ میں دبی چنگاری کی طرح ہوتی ہیں‘ جو کہ جب حالات پیدا ہوں گے ،یہ چنگاری بھڑک اُٹھے گی،ہمیں راکھ میں دبی چنگاریوں کو بھی بجھانا ہے ، تاکہ اس کا فائدہ دشمن نہ اُٹھا سکے

، کیو نکہ دشمن معرکہ حق میں منہ کی کھانے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ روایتی جنگ میں تو وہ پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے دشمن کی جانب سے تخریب کاری‘ دہشت گردی اورسماجی تلخیوں کو ہوا دینے کے حربے آزمائے جارہے ہیں،اس میں بھارت کا ساتھ افغا نستان بھر پور انداز میں دیے رہا ہے۔
یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں ،بلکہ پورے خطے کے امن سے جڑا ہوا ہے، اگر افغان سرزمین پر موجود ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جاتی تو یہ عدم استحکام سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا، پاکستان کی سکیورٹی فورسز نہ صرف پیشہ ورانہ صلاحیت رکھتی ہیں، بلکہ مشکل ترین حالات میں بھی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ بھی نہیں کرتیں ہیں، لیکن اس خطے اور بلخصوص بلوچستان میں امن کا قیام صرف بندوق کے زور سے ہی ممکن نہیں ہو گا ،اس کیلئے مذاکرات کر نے والوں سے مذاکرات بھی کر نا ہوں گے

، مگر بندوق اٹھانے والوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جا سکتی ، ترقی، سیاسی شمولیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ساتھ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ناگزیر ہے،بلوچستان آج ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے یا تو بیرونی آقائوں کے اشاروں پر چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑا جائے، یا پھر انہیں مزید مہلت دے کر معصوم جانوں کو دائوپر لگایا جائے، ریاست نے اپنا انتخاب واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کا مستقبل بلوچستان میں تاریک ہے، جبکہ امن، ترقی اور استحکام ہی ہر صوبے اور پاکستان کا مقدر ہوں گے،پاکستان دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور یہ اتحاد ہیدہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے بڑی طاقت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں