الوادع سلطان ریاست
تحریر نعیم الحسن نعیم
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
ایک عہد تھا جو تمام ہوا
دہائیوں پر محیط جدوجہد استقامت اور بے لوث قیادت کی علامت ریاست جموں و کشمیر کے دونوں جانب بسنے والے لاکھوں کشمیریوں کے دلوں پر راج کرنے والی عظیم شخصیت قائد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری صاحب کا وصال ایک ایسا المیہ ہے جس نے دلوں کو خاموش اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ غم محض الفاظ میں بیان ہونے والا نہیں یہ وہ درد ہے جو سانسوں میں اتر گیا ہے۔یہ خبر سنتے ہی یوں محسوس ہوا
جیسے وقت یکایک تھم گیا ہو لمحے ساکت ہو گئے ہوں اور فضا پر ایک گہری بے نام اداسی نے قبضہ کر لیا ہو۔ کچھ صدمات ایسے ہوتے ہیں جن پر آنکھیں بھی آنسو بہانے سے قاصر ہو جاتی ہیں یہ غم بھی انہی میں سے ایک ہے۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری صاحب محض ایک فرد نہیں تھے وہ ایک فکر ایک تحریک اور ایک مسلسل جدوجہد کا نام تھے۔ ان کی آواز میں حوصلہ تھا ان کی باتوں میں سچائی کی حرارت اور ان کے عزم میں ایک ایسی روشنی جو مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کو زندہ رکھتی تھی۔ وہ جہاں ہوتے
وہاں حوصلے جاگ اٹھتے اور دلوں کو سمت ملتی۔آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کی کمی ہر لمحہ شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ ان کی جدائی نے دلوں میں ایسا خلا چھوڑ دیا ہے جو خاموشی میں بھی چیخ چیخ کر ان کی یاد دلاتا ہے۔ یادیں آنکھوں کے سامنے گردش کر رہی ہیں اور دل اب تک یہ ماننے سے انکاری ہے
کہ وہ اب ہم میں نہیں رہے۔یہ سچ ہے کہ کچھ غم وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتے وہ بس انسان کی عادت کا حصہ بن جاتے ہیں اور یہ غم بھی شاید ایسا ہی ہے۔قائدِ کشمیر آپ کی رحلت نے ہمیں اندر تک توڑ کر رکھ دیا ہے۔دل سوگوار ہیں سوچیں بوجھل ہیں اور فضا مسلسل اشک بار ہے۔آپ نہیں رہے مگر آپ کی جدوجہد آپ کا خواب اور آپ کی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔آزاد کشمیر کی تاریخ میں اگر کسی ایک رہنما کو مسلسل عوامی اعتماد جرات مندانہ مؤقف اور غیر متزلزل جدوجہد کی علامت کہا جا سکتا ہے
تو وہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری ہیں۔ یہ کوئی دعویٰ نہیں یہ تاریخ کا ناقابلِ تردید حقیقتی ریکارڈ ہے۔ نو مرتبہ ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہونا محض انتخابی کامیابی نہیں بلکہ عوام کی غیر معمولی تائید اور سیاسی ساکھ کا واضح ثبوت ہے ایسا اعزاز جو آج تک کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ 1996ء میں وزیر اعظم منتخب ہونا پھر 2001ء سے 2006ء تک اپوزیشن لیڈر کے طور پر مضبوط جمہوری کردار ادا کرنا اور 2011ء میں اپنی سیاسی بصیرت کے بل پر پیپلز پارٹی کی حکومت قائم کروانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اقتدار کے محتاج نہیں تھے اقتدار ان کی سیاسی وزن داری کا محتاج تھا۔ بعد ازاں آزاد کشمیر کے 28ویں صدر منتخب ہونا کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں کی جدوجہد کا منطقی انجام تھا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو سیاسی شعور وراثت میں ملا۔ ان کے والد چوہدری نور حسین مرحوم ریاست کے قدآور رہنما ممبر قانون ساز اسمبلی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے آزاد کشمیر کے لیے مشیر رہے۔ مگر تاریخ یہ بھی گواہ ہے کہ صرف وراثت قیادت پیدا نہیں کرتی قیادت کردار محنت اور قربانی سے بنتی ہے اور یہی سب کچھ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے سیاسی سفر میں نمایاں رہا۔سب سے اہم اور ناقابلِ انکار حقیقت یہ ہے
کہ وہ واحد کشمیری رہنما تھے جنہیں آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر دونوں اطراف کے کشمیریوں نے اپنا لیڈر تسلیم کیا۔ جب وہ وزیر اعظم تھے تو لائن آف کنٹرول کے اُس پار بھی کشمیری انہیں اپنا وزیر اعظم مانتے تھے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کا سرکاری دورہ کیا میرپور کے چوکِ شہیداں سے لے کر سرینگر کے لال چوک تک جلسہ عام سے خطاب کیا اور یہ کارنامہ آج تک کوئی دوسرا دہرا نہ سکا۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کشمیر کاز کو نعروں سے نکال کر عالمی سیاست کے ایوانوں تک پہنچایا۔ اسلام آباد کے ڈی چوک سے لندن کے ٹرافلگر اسکوائر تک برطانوی پارلیمنٹ سے پیرس کے ایفل ٹاور تک یورپی یونین نیٹو ہیڈکوارٹر یورپی پارلیمنٹ دیوارِ برلن ڈبلن جنیوا دی ہیگ نیویارک اقوام متحدہ اور واشنگٹن ڈی سی ہر جگہ وہ کشمیری عوام کی نمائندگی کرتے رہے۔ یہ محض دورے نہیں تھے یہ ایک مسلسل اور منظم عالمی جدوجہد تھی۔
سوال اب یہ نہیں کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے بعد کون آئے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ان جیسا بے خوف غیر مصلحت پسند اور نظریاتی لیڈر بن سکے گا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے کردار بار بار پیدا نہیں ہوتے۔انہوں نے اپنی پوری زندگی آزادی کشمیر کے لیے وقف کی اور آخری سانس تک اسی موقف پر قائم رہے۔ آج ان کا جانا محض ایک سیاسی شخصیت کا جانا نہیں یہ ایک ایسے عہد کا خاتمہ ہے جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں اور جسے فراموش کرنا ناانصافی ہوگی۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں مگر ان کا مؤقف ان کی جدوجہد اور ان کی گونج تاریخ میں زندہ رہے گی۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں کچھ شخصیات وقت کے ساتھ مٹتی نہیں وہ وقت پر اپنی مہر ثبت کر جاتی ہیں۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری بھی ایسی ہی ایک ہمہ جہت باوقار اور تاریخ ساز شخصیت تھے جو محض ایک نام نہیں بلکہ ایک پورا حوالہ تھیں۔ ان کے انتقال کی خبر نے آزاد کشمیر ہی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر سمیت پوری کشمیری قوم کو ایسی خاموش اداسی میں مبتلا کر دیا ہے جس کا بوجھ دلوں پر اتر آیا ہے
مگر اس اختلاف میں بھی خلوص کی خوشبو تھی۔ وہ تلخی کے بجائے دلیل شور کے بجائے شعور اور وقتی فائدے کے بجائے آئینی و اصولی راستوں پر یقین رکھتے تھے۔ نوجوان نسل کے لیے وہ صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک حوصلہ ایک سمت اور ایک امید تھے جو یہ سکھاتے تھے کہ سیاست خدمت کا نام ہے ضد کا نہیں۔آج ان کے بچھڑ جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کسی ایک منصب یا کرسی کا خلا نہیں۔ یہ ایک ایسے عہد کے اختتام کا احساس ہے جس میں قیادت بولتی کم اور وزن دار زیادہ ہوتی تھی۔ وہ ایک فرد نہیں تھے
وہ ایک پورا عہد تھے اور بعض عہد خاموشی سے رخصت ہوں تو دلوں میں ایک دیرپا سناٹا چھوڑ جاتے ہیں۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری چلے گئے ہیں مگر ان کی آواز ان کی جدوجہد اور ان کے خواب کشمیری قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں مگر تاریخ انہیں جانے نہیں دیتی۔اللہ تعالیٰ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان سمیت پوری کشمیری قوم کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔