106

جس معاشرے سے انصاف آٹھ جاتا ہے اس معاشرے کو تباہی سے بچایا نہیں جاسکتا

جس معاشرے سے انصاف آٹھ جاتا ہے اس معاشرے کو تباہی سے بچایا نہیں جاسکتا

نقاش نائطی
۔ +966562677707

عالم کی سب سےبڑی سیکیولر مملکت بھارت اور شہنشاہیت والے مملکت سعودیہ کے عدل و انصاف کا تقابل انصاف کی صدا دہائی دینے والے, اس اعلی معیار کا انصاف بھی کیا کرپاتے ہیں؟عیاش, خدا بیزار اور ملکی تجارتی ترقی کے لئے اسلامی اوصول و اقدار تک کی پرواہ نہیں کرنے والا الزام, علماء مقلدین ھند و پاک بنگلہ دیش کی طرف سے, جس مملکت سعودیہ کےحکمرانوں پر لگائے, انہیں اسلامی دنیا میں بدنام و رسواء کیا جاتا ہے۔ وہاں عدل و انصاف کے لئے اپنے بااثر شہزادوں تک کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے

دیکھئے اور بتائیے عالم کے کس جمہوری و شہنشاہیت والے ملک میں عدل وانصاف کے اتنے بلند و عظیم معیار و مقام کو سر آنکھوں پر رکھا جاتا ہے؟ﯾﮧ 18 ﺳﺘﻤﺒﺮ 2002عیسوی ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﻧﺮﻭﺍ بادشاہ ﺍﻭﺭ متوفی ﺷﺎﮦ ﻓﮩﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺷﺎﮦ ﺳﻌﻮﺩ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﮐﮯ ﭘﻮﺗﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﻨﺬﺭ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺘﮭﻢ ﮔﺘﮭﺎ اسے زیر کرنے کی کوشش میں محو و مصروف ہے۔ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺨﺖ ﻃﯿﺶ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ،

ﮐﻼﺷﻨﮑﻮﻑ ﺍُﭨﮭﺎﻻﯾﺎ ﺍﻭﺭ 15 ﺳﺎﻟﮧ ﻣﻨﺬﺭ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺮﻧﮓ ﮐﺮﺩﯼ۔ ﻣﻨﺬﺭ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﮔﻮﻟﯿﺎﮞ ﻟﮕﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺟﺎﮞ ﺑﺤﻖ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﮐﻮ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﮐﻢ ﻭﺑﯿﺶ 19 ﻣﺎﮦ ﺗﮏ ﭼﻠﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﺳﻌﻮﺩﯼ “ﻭﺯﺍﺭﺕ ِ ﻋﺪﻝ” ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻗﺘﻞ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮐﯿﺲ ﮐﻮ 13 ﻗﺎﺿﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ 14 ﺟﻮﻻﺋﯽ 2003 عیسوئﮐﻮ ﺻﺎﺩﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ “ﺍﮔﺮ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﮐﮯ ﻭﺭﺛﺎ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﺍُﮌﺍﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔” ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﺱ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﮯ لئے ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ہی ﺫﮨﻨﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﯿﺎﺭ تھے ﻟﮩٰﺬﺍ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﻧﮯ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮨﯽ ﭼﮫ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﻨﺬﺭ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﯿﺎ

ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﭘﺮ ﻗﺎﺋﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ, ﻣﮕﺮ ﻣﻨﺬﺭ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ لئے ﮨﺮﮔﺰ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺏ ﺟﺐ ﺳﺰﺍ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ 30 ﺍﭘﺮﯾﻞ ﮐﻮ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﻌﺰﺯ ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎﮐﮧ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﮐﮯ ﻭﺭﺛﺎ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﮐﮯ لئے ﮐﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﯾﺖ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﺮﺩﯼ۔ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻧﮯ ﺩیتﮑﮯ لئے ﺟﺲ ﺭﻗﻢ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﮐﯽ، ﯾﮧ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﺭﻗﻢ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ 70 ﻣﻠﯿﻦ ﺭﯾﺎﻝ بقدر کم و بیش 170 کروڑ روپئیےﮐﯽ ﺧﻄﯿﺮ ﺭﻗﻢ ﺑﮭﯽﭨﮭﮑﺮﺍ ﺩﯼ۔ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮯﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮑﻢ ﻣﺌﯽ 2004عیسوی ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﻃﻠﻮﻉ ﮨﻮﮔﯿﺎ

ﺍﻭﺭ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﮔﮭﮍﯼ ﺁﭘﮩﻨﭽﯽ۔ ﺻﺒﺢ ﺳﻮﯾﺮﮮ ﺭﯾﺎﺽ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺍﻣﯿﺮ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻓﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﻣﻨﺬﺭ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﮯ لئے ﺑﻼﻟﯿﺎ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﻗﺎﺗﻞ ﺳﮯ ﻗﺼﺎﺹ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ “ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺪﺍﺧﻠﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ , ﻧﮧ ﮨﯽ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﭘﺮ ﺍﺛﺮﺍﻧﺪﺍﺯ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﺎﮞ ! ﺍﻟﺒﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺳﮯ ﺿﺮﻭﺭ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺍﻋﻠﯽٰ ظرف و ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮨﻮﮔﺎ

ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻗﺼﺎﺹ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ۔” ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮔﺮﺩﻥ ﺯﺩﻧﯽ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺟﺘﻨﺎ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺗﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻏﯿﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺻﻮﺭﺕِ ﺣﺎﻝ ﮐﺎ ﻧﻘﺸﮧ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﺎﯾﻒ ﺑﻦ ﺳﻌﻮﺩ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ “ﺟﺲ ﺩﻥ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﺣﮑﻢ ﮐﺎ ﻧﻔﺎﺫ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﺭﻭﺯ ﺻﺒﺢ ﺳﻮﯾﺮﮮ ﺍﯾﮏ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﺍﮨﻠﮑﺎﺭ ﻧﮯ ﻓﻮﻥ ﭘﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﻡ ﺍُﻣﯿﺪﯾﮟ ﺩﻡ ﺗﻮﮌﮔﺌﯿﮟ۔ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺗﻮ ﺷﺪﺕ ﻏﻢ ﺳﮯ ﮔﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻓﻮﺭﺍً ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﻤﺖ ﻣﺠﺘﻤﻊ ﮐﯽ! ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺩِﻟﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﻮﻥ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭼﻨﺪ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﺗﮍﭘﺘﺎ ﺟﺴﻢ ﺍﻭﺭ ﮐﭩﺘﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺗﮭﯽ” ﯾﮑﻢ ﻣﺌﯽ 2004ﺀ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺻﻠﺢ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺍُﻣﯿﺪﯾﮟ ﺩﻡ ﺗﻮﮌ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻟﻮﮒ “ﻗﺼﺮ ﺍﻟﺤﮑﻢ” سپریم کورٹ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ, ﻣﯿﺪﺍﻥِ ﻗﺼﺎﺹ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﻟﻤﺤﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﮌﯼ ﺳﮯ ﺍُﺗﺎﺭﺍ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﮍﯾﺎﮞ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ,

ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺎ ﮨﻮﺍ تھا ﺍﻭﺭ ﺳﯿﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﮨﻠﮑﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﺯﻭ ﺗﮭﺎﻣﺎ ﮨﻮﺍ تھا۔ ﻣﯿﺪﺍن ﻘﺼﺎﺹ ﻣﯿﮟ ﻻﮐﺮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﮐﮯ ﺍﮨﻠﮑﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ “ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟ ” ﺍﺱ نے اور ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﭽﺎﺯﺍﺩ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﯿﻠﮯ ﮐﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯼ، “ﮨﺎﮞ ! ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻗﺎﺗﻞ ﮨﮯ” ﺍﺩﮬﺮ ﺟﻼﺩ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﻣﯿﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯽ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﻧﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﭘﮑﺎﺭﺍ “ﺍﮮ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ! ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﮟ” ﻣﻘﺘﻮﻝ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ “ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻭﻗﺖ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﻗﺼﺎﺹ ﮨﯽ ﭘﺮ ﺯﻭﺭ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﭽﺎﺯﺍﺩ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ “ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﺗﮏ ﻣﺰﯾﺪ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﻟﻮ” ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﮯ ﭼﯿﻒ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ” ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐﯿﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ہے؟ ” ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ” ﻗﺼﺎﺹ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﻗﺼﺎﺹ” ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻼﺩ ﮐﻮ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﺩﯾﺎ

…. ﺟﻼﺩ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﻧﯿﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻧﮑﺎﻟﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺏ ﻭﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﺎ …. ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺒﯿﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺾ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﺘﺨﺎﺭﮦ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﻣﺸﻮﺭﮨ ﻄﻠﺐ ﮐﺮﻟﻮﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﺳﺘﺨﺎﺭﮦ ﮐﺮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻗﺼﺎﺹ ﭼﺎہئیے۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﺘﺨﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﻗﺘﻞ ﮔﺎﮦ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﯿﭩﺮ ﺩﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺭُﺥ ﻗﺒﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﯿﺎ۔ ﺁﺩﮬﺎ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮔﮍﮔﮍﺍﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺗﻤﯿﻢ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ

“ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺍﺅ” ﻓﻮﻥ ﭘﺮ ﺍﮨﻠﯿﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ “ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐﯿﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ہے؟” ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ “ﺗﻢ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻭگے، ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮨﮯ۔” ﺍﺏ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﺎﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ۔ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﻼﺩ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﻮﻧﺘﮯ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟﻣﻘﺘﻮﻝ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﻤﯽ ہوئی ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺗﻤﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﮐﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﺸﻮﺭﮮ ﮐﮯلئے ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﮑﺪﻡ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ “ﺟﺎﺅ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﮯ لئے ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﺎ ،ﻟﯿﮑﻦ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ ! ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻟﯽ ﻻﻟﭻ ﮨﮯ۔ ﮨﺎﮞ ! ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻗﺮﺁﻥ ﺣﻔﻆ ﮐﺮﻧﺎ ہوگا ﺍﻭﺭ ﺑﻘﯿﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ” ﯾﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﺳﻨﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺪﺍﻥ “ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ” ﮐﮯ ﻧﻌﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮔﻮﻧﺞ ﺍُﭨﮭﺎ۔ ﺁﺝ ﻋﻔﻮ ﻭﺩﺭﮔﺰﺭ ﺍﻭﺭ ﻋﺪﻝ ﮐﺎﯾﮧ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﺮ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﺷﮑﺒﺎﺭ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ، ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﮐﻮ ﮔﻠﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ

۔ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﻓﮩﺪ ﻧﮯ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺑﻮﺳﮯ لئے! ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻌﻞ ﭘﺮ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ۔ ﯾﮧ ﺗﺼﻮﺭﺍﺗﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﯾﺎ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻭﻣﺎﻧﯽ ﺭﻭﺩﺍﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﺍﺳﯽ ﺻﺪﯼ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﭽﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ “ﻧﻈﺎﻡ ﻋﺪﻝ” ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭘﮑﻮ ﺑﮯ ﺑﺲ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ! ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ “ﻧﻈﺎﻡِ ﻋﺪﻝ” ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺷﺎﮦ ﺳﻌﻮﺩ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﮐﺎ ﭘﻮﺗﺎ ﺑﮭﯽ ﺳﺮﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔
اللہ ہر جگہ اسلام اور عدل کا نظام قائم فرمائے .

اسلامی تاریخ ایسے عدل و انصاف والے واقعات سے بھری پڑی ہے۔خلافت راشدہ حضرت عمر کے زمانے میں ایک یہودی کی شکایت پر گورنر مصر اور اسکے بیٹے کو مدینہ بلاکر انصاف کیا واقعہ
حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ مصر کے گورنر تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک قبطی یہودی مصری نے شکایت کی کہ ہم گھوڑا دوڑ کا مقابلہ کر رہے تھے اور میرا گھوڑا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے آگے ہوا تو اس کے بیٹے نے مجھ کوڑے سے مارا کہ پیچھے ہو جاؤ میں بڑے باپ یعنی گورنر کا بیٹا ہوں۔اس وجہ سے میں ڈر کے پیچھے ہوگیا اور گھڑ دوڑ دانستہ ہار گیا
مجھے پتہ چلا ہے کہ اسلام میں ہر کسی کے ساتھ برابری کے لحاظ سے انصاف ہوتا ہے اسی لئے اسلامی نظام عدل سےانصاف مانگنے میں مصر سے مدینہ آیا ہوں مجھے انصاف چاہئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تم اپنے بیٹے کے ساتھ فورا مدینہ حاضر ہوجاؤ
جب باپ بیٹا مدینہ پہنچے تو اسلامی عدالت سجی۔ مدعی نے مدعا علیہ پر فرد جرم عائد کردیا, مدعا علیہ کی طرف سے خاموشی کو اقرار جرم تصور کرتے ہوئے,حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس قبطی یہودی مصری لڑکے کو کوڑا دیا اور فرمایا کہ “مار اس بڑے باپ کے بیٹے کو اور اس کے باپ کے سرپر بھی ایک کوڑا مار”
گورنر مصر نے تڑپ کر کہا ” یا امیر المومنین اس میں میرا کیا قصور؟”
تب حضرت عمر رض نے کہا “تیرے عہدے کے غلط استعمال نے, تیرے بیٹے کو یہ جرات بخشی کہ وہ سرعام ان کو غلاموں کی طرح مارتا ہے جنہیں انکی ماوؤں نے آزاد رینے کے لئے جنا تھا”
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔۔ کہ پہلے ہم چاہتے تھے کہ قبطی یہودی مصری اس گورنر کے لڑکے کو مارے لیکن وہ اسے اتنا مارا کہ اب ہمیں اس لڑکے پر ترس آیا کہ اب اس کو چھوڑنا چاہیے
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قبطی یہودی مصری سے کہا کہ “اس کے باپ کو بھی ایک درہ مار, کیونکہ اس باپ کی وجہ سے اس کے بیٹے نے یہ کہنے کی جرات کی ہے کہ میں گورنر کا بیٹا ہوں”
لیکن اس مصری نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو معاف کیا اور لوگوں نے بھی سفارش کی کہ باپ کی تو کوئی غلطی نہیں ہے
لیکن اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک تاریخی جملہ کہا اور فرمایا “کہ تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنانا شروع کیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے تو انکو آزاد جنا تھا”

ایک مرتبہ ایک یہودی نے اپنے مسلمان غلام پر چوری کا الزام لگائے اس پر “اسلامی سزا حد چوری” ہاتھ کاٹنے کاجب مطالبہ کیا توحضرت عمر رضی اللہ نے غلام کو بلاکر چوری کئے جانے پر استفسار کیا مسلم غلام نے کہا “یا امیر المومنین مجھے چوری کی قباحت کا علم ہے لیکن میں چونکہ اس یہودی کا غلام ہوں اس لئے مجھ سے یہ ممکن نہیں کہ کہیں اور کچھ کما اپنے بچوں کی کفالت کر سکوں اور پوری تندہی ایمان داری سے کام کرنے کے باوجود میرا مالک یہودی مجھے اتنی اجرت نہیں دیتا ہے کہ میں اپنے بچوں کی کفالت کرسکوں اسی لئے میں مالک کے گھر سے بغیر اجازت کچھ روٹیاں لئے جاتا ہوں

تاکہ میں اپنے بچوں کو کھلائے انہیں زندہ رکھ سکوں” یہ سن کر حضرت عمر نے اس یہودی سے پوچھا کہ “تمہیں اس بات کا ادراک رہتے ہوئے کہ وہ تمہارا غلام کہیں اور کام کئے کچھ زاید رقم کما نہیں سکتا تو تم کیوں کراسے اس کی آل کو زندہ رہنے لائق نان نطقہ نہیں دیتے ہو؟ چونکہ تمہاری لاپرواہی نے اسے چوری کرنے مجبور کیا ہے تو تم مالک غلام رہتے, تم پر اسکی چوری کی حد گر جاری کی جائے تو کیسا لگے گا؟” اس واقعہ سے بھی یہ معلوم ہوتا پے اپنے ماتحین مکفولین کو انکی مجبوری کا فائیدہ اٹھائے عمومی تنخواہ سے کم اجرت یا تنخواہ دی جائے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قحط پڑا تو آپ نے چوری کی حد معطل کردی بلکہ کوتوال کو اپنی طرف سے سزا دینے پر, اسے سزا دی تھی
وقت خلافت راشدہ حضرت عمر رضی اللہ کا کیا عدل و انصاف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے چوری کی حد کو بوجہ شُبہ ساقط کرنے اور چور کے مالک پر تاوان مقرر کرنے سے متعلق ایک اور واقعہ (جس میں غلام پر بوجہ شبہ کہ مالک نے اپنے غلام کو بھوکا رکھا جس کے سبب وہ چوری کرنے پر مجبور ہوا، حد ِسرقہ نافذ نہ کی گئی) روایات میں ملتا ہے، امام مالک رحمہ اللہ (المتوفى: 179ھ) کے ہاں یہ واقعہ کچھ یوں منقول ہے:

“یحیي بن عبد الرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ حاطب رضی اللہ عنہ کے غلاموں نے’’مُزینہ‘‘ (قبیلہ) کے ایک آدمی کی اونٹنی چرا کر ذبح کرلی ، یہ مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اونٹنی کے مالک سےکہا کہ میرا خیال ہے کہ تم اپنے غلام کوبھوکا رکھتے ہو، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں تمہارے اوپر اتنا تاوان ڈال دوں گا کہ تم گرانی محسوس کرو گے، پھر مُزنی سے فرمایا کہ تمہاری اونٹنی کی قیمت کیا ہوگی؟ مُزنی نے کہا: خدا کی قسم !میں نے تو وہ چار سو درہم میں بھی نہیں دی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے(بیت المال سے) آٹھ سو درہم دے دو۔”بحالت مجبوری زندہ رہنے کے لئے کی گئی چوری کے لئے چور پر اسلامی حد سزاء چوری لاگو نہ کئے جانے والا یہ واقعہ یہ درشاتا ہے کہ اپنے ماتحتین مکفولین کو مناسب تنخواہ دی جائے تاکہ انہیں بمجبوری چوری کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
بعد آزادی ھند دستور ساز کمیٹی کی پہلی نشست میں, ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے جب مہاتما گاندھی کو حاضر مجلس رہنے بلایا تھا تواس وقت مہاتما گاندھی نے دستور ساز اجلاس میں شرکت سے معذرت پیش کرتے ہوئے جو کچھ کہا تھا وہ تاریخ کے صفحات کا حصہ بنے حیات دوام پائے ہوئے ہے۔ اس وقت مہاتما گاندھی نے کہا تھا “کہ رام اور کرشن تو ھندو مائیتھولوجی کے قصے کہانی کے کردار ہیں اسلئے ان کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کرتے ہوئے مسلمانون کے خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی سللہ عنہ کی زندگی کے بارے میں,میں پڑھا ہے کہ وہ اپنی رعایا کو خوش و مطمئین رکھنے کے بڑے فکرمند تھے انہوں نے اپنے زمانے میں آپنی عوام کو انصاف دلانے کی۔ بڑی کوششیں کی تھیں۔ ان کی زندگی کو سامنےرکھےہندستانی دستور ترتیب دیا جائے تاکہ ہندستانی عوام کو چین و سکوں راحت کے ساتھ پورا پورا انصاف مل پائے”

آج کے دور والے عالم کی سب سے بڑی سیکیولر جمہوریت ملک بھارت میں, اپنے ہزاروں سالہ گنگا جمنی عدل و انصاف کے چرچوں کتھاؤں کے سائے میں, وہی پرانے سناتن دھرمی آسمانی ویدک قانون والے رام راجیہ بنانے کے دعوے والی سنگھی سرکار,اپنے رام راجیہ میں, سنگھی سرکاری نازی قانون کے خلاف احتجاج کرتے کسانوں کے ہجوم پر 3 اکتوبر 2021 کو لکھیم پور کھیری ضلع، اتر پردیش میں زرعی قوانین کے خلاف مظاہروں کے دوران,ایک تیز رفتار ایس یو وی، جو مبینہ طور پر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کے قافلے کا حصہ تھی، پرامن طریقے سے مارچ کرنے والے کسانوں کے ایک ہجوم سے ٹکرا گئی تھی۔ اس دانستہ حادثہ کے نتیجے میں چار کسان اور ایک صحافی مارے گئے تھے اور احتجاجی کسانون کے ہاتھوں بی جے پی کے دو کاریہ کرتا اور گاڑی کا ڈرائیور بھی مارے گئے تھے۔
آشیش مشرا کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ وہ کسانوں کو کچلنے والی کار میں سوار تھے۔ وائرل ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ گاڑی کسانوں کو پیچھے سے ٹکراتی ہے۔ وزیر اور ان کے بیٹے نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کار پر مظاہرین نے حملہ کیا تھا اور ڈرائیور کنٹرول کھو بیٹھا تھا۔
سپریم کورٹ نے پیر کو سابق مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کو 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد سے متعلق کیس میں ضمانت دے دی جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے، اور ان کی نقل و حرکت کو دہلی یا لکھنؤ تک محدود کر دیا تھا۔
کلدیپ سنگھ سینگر کو 2017 کے اناؤ کیس میں ایک نابالغ بھارتیہ ناری کے اغوا اور عصمت دری اور اسکے رشتہ داروں سمیت اس کے وکیل تک کو بھی حادثے میں مروانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔دسمبر 2019 میں، دہلی ہائی کورٹ نے بی جے پی کے سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو ضمانت دے دی تھی، جو اناؤ عصمت دری کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے،
2017 کے واقعے کے لئے ان کی سزا کو دسمبر 2025 تک معطل کر دیا گیا تھا۔ اس سے ملک گیر احتجاج ہوا،

جس کے اثر سے سپریم کورٹ نے اس ضمانتی حکم پر روک لگا دی ہے۔اس سے پرے گجراتی ھندو بابا آسارام باپو پر اس بڑھاپے میں نابالغ لڑکی کی عصمت دری سمیت انیک لڑکیوں کی عصمت دری کیسز میں عدالتی حکم سے مجرم قرار دئے سزا کاٹ رہے مجرم بابا کو یہ سنگھی حکومت موقع موقع اور بہانے بہانے سے پیرول پر آزاد کرتی رہتی ہے۔بابارام رحیم بھی نابالغ لڑکیوں کی عصمت دری کیس میں سزا کاٹ رہے ہوتے جیل میں عیش و عشرت والی زندگی گزار رہے ہیں۔ کسی ملک میں پوری طرح عدل و انصاف کی شفافیت مشکل تر امر ہوتا پے لیکن ایک حد تک مجرموں کو سزا دئیے عوامی راحت و چین و سکوں کو بنائے رکھنے کی پوری کوشش بھی ہوتی ہے۔ تین چوتھائی عالم پر پورے بارہ سو سال کبھی خلافت راشدہ بنو امیہ فاطمیہ تو کبھی خلافت عثمانیہ والی اسلامی خلافت رہتی ہے

جو نامناسب حالات میں بھی اپنے عدل وانصاف والے عملی کردار سے عام رعایا پر ظلم و جبر ہونے سے سختی سے روکتی پائی جاتی ہے اور موجودہ جدت پسند دور کے لوگوں کی طرف سے چنی گئی عام باشندوں پر منتخبہ لوگوں کی حکومت اور عدل وانصاف میں برابری کے ببانگ دہل وعدوں دعوؤں باوجود, بھارتیہ عام عوام کو کس قدر خواص کے ہاتھوں کچلا، دبایا عدل و انصاف سے ماورا جینے مجبور کیا جاتا ہے کوئی آزاد بھارت کے اس سنگھی رام راجیہ میں آکر دیکھ سکتا ہے 2019 دہلی فساد کے ماسٹر مائینڈ اور عوامی جلسوں میں تک “گولی مارو سالوں کو (مسلمانوں کو) ببانگ دہل نعرے لگائے

, دہلی فساد کی آگ کو بھڑکانے والوں کو انعام میں حکومتی وزارت سے نوازا جارہا پے اور بے قصور مسلمانوں کو مارنے والے درندے ایوان حکومت کے سائے میں آزاد دنیوی زندگی کے مزے لوٹ رہے ہوتےہیں اور رام راجیہ کی دعویدار سنگھی حکومت جے این یو ہیومن ایکٹیویسٹ, بے قصور طلبہ عمرخالد شرجیل امام جیسے بے قصوروں کو فرضی الزامات سے گھیرے, ضمانت تک سے محروم رکھے سابقہ چھ سالوں سے سنگھی جیلوں میں سڑایا جا رہا پے۔ یہ ہے عالم کی سب سے بڑی عوامی سیکیولر جمہوریت میں عدل وانصاف سے ماورائیت کا حال۔ کیا انصاف سے بیگانہ بدحال چھوڑی عام جنتا رام راجیہ کے نعروں والے اس سنگھی سیاست دانوں کو نکارتے ہوئے عدل وانصاف کرنے والی مسلم خلافت کی منتظر کیا پائی جارہی ہے؟وما التوفیق الا باللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں