53

کامیاب تجارتی، اہل نائطہ قوم، کیا کامیاب انڈسٹریلسٹ نہیں ہوسکتے ہیں

کامیاب تجارتی، اہل نائطہ قوم، کیا کامیاب انڈسٹریلسٹ نہیں ہوسکتے ہیں

نقاش نائطی
۔ +966562677707

سہانے سپنوں میں حقیقت کا رنگ بھرنے جہد مسلسل کرنی پڑتی ہے۔اپنے ذہن و قلب میں انگڑائی لینے والے،سہانے سپنوں کو، محنت جفاکشی سے ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔ خوابوں کی دنیا کے سہانے سپنوں میں جینے والے، صرف خوابوں کی دنیا میں خوش و خرم رہا کرتے ہیں لیکن کچھ فیصد لوگ اپنی محنت و جفاکشی سے، اپنے خوابوں کو،حقیقت کا روپ دینے میں کامیاب بھی ہوتے ہوئے،اپنی روکھی سوکھی زندگانی کو بھی جنت سے حسین تر بنانے میں کامیاب رہتے ہیں۔
ہندستان کے سب سے بڑے اپنے وقت کے انڈسٹریلسٹ برلا کے دادا جی، بمبئی چوپاٹی بیچ پر،اس وقت کی گرمی میں کچھ پیسوں کے عوض، ٹھنڈا پانی پلایا کرتے تھے،لیکن اپنے خواب کی تعبیر میں جٹے رہے،

اتنا بڑا برلا انڈسٹریل ایمپائر تعمیر کرنے میں کامیاب رہے، لیکن اپنے معاشی سفر کی ابتدا ،اس چاندی کے لوٹے کو، تا عمر سنبھال کر رکھا اپنی گھٹارہ سائیکل پر, ہبلی دھاڑوار کو جوڑنے والی 15 کلومیٹر شاہراہ پر، روزانہ صبح جاکر، ایک جگہ رک کر، آنے جانے والوں کی خراب ہوتی سائیکل ریپیر کرنے والے، انکے سائکل کی پنکچر نکالتے ہوئے عزت کی روٹی کمانے والے، اپنے خوابوں کی دنیا کی تعبیر میں بستر پر سوئے سوئے، خوابوں کی دنیا کے مزے اڑانے کے بجائے، محنت و مشقت سے روزی روٹی کماتے رہے اور اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی فکربھی پالتے رہے،

بالآخر دو پاؤں سے دوڑاتی سائیکل کو خود کار طریقے سے دوڑانے، اپنے تدبر سے، چھوٹی موٹر، سائکل میں لگواتے، روزانہ ہزاروں آنے جانے والوں کی سائکل کو، خود کار سائیکل میں تبدیل کر،سائیکل دوڑانے کی مشقت سےانہیں آزاد کرانے والے،اپنی زندگی کی دوڑ میں ایسے کامیاب ہوئے کہ کرلوسکر نامی جنریٹر موٹر بنانے والی ہبلی دھاڑوار کی کمپنی نہ صرف ہندستان میں، بلکہ عالم کی جہازران کمپنیوں کے بڑے جنریٹر موٹر بنانے والی کمپنیوں کے اعتبار سے، دنیا کی نامور کمپنی میں تبدیل ہوگئی

خلیج ہی کے عراق کے صحراؤں میں تپتی دھوپ و گرمی میں پیٹرول پمپ پر، ہر آنے جانے والے کی گاڑی میں پیٹرول بھرنے والے مزدور، دھیرو بھائی امبانی نے بھی اپنے خوابوں کی دنیا بسا رکھی تھی۔ خلیج کی ان تھک محنت سے کمائی کل پونجی لئے وطن واپس لوٹے دھیرو بھائی نے،شادی میں بیوی کو ملے زیور بیچ کر، مایا نگری بمبئی کی شیر مارکیٹ میں اپنی قسمت آزمائی اور دیکھتے ہی دیکھتے، گجرات و مہاراشٹرا سے دورکرناٹک کے سنڈیکیٹ بنک ذمہ داروں سے ربط قائم کر، انہیں اعتماد میں لے، بینک کے پیسوں سے صنعتی دنیا میں قدم رکھا تو پھر پلٹ کر نہ دیکھا اور نتیجہ آج ہم، ہندستانی کےامیر ترین پونجی پتی انڈسٹریلسٹ کے روپ میں،سنگھی حکمرانوں کے کندھوں پر، سیاست کا باگراں رکھے ہندستانی سیاست پر اپنے تجارتی صنعتی داؤ کھیلتے، ہم مکیش امبانی کو پاتے ہیں۔

ان حضرات کے خوابوں کو دیکھنے اور اپنی محنت و جفاکشی سے ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھنے کے، ان کے فن پر بھی، ہم اہل نائط تجار قوم کو تدبر کرنے کی ضرورت ہے۔ان کے والد کی ترقی کا سب سے اولین سنگ میل،خلیج کے صحراوؤں میں پیٹرول اسٹیشن پر پیٹرول بیچتے، ان کے والد کے گرتے پسینے کی دمک و تڑپ کو،انہوں نے نہیں بھلایا۔ پیٹرول بیچتے ہوئے، اس وقت کے غریب پس ماندہ ملک ہندستان میں پیٹرول صاف کرنے والی ریفائینری کو قائم کرنے کے خواب کو ،جام نگر دنیا کی سب سے بڑی اور ترقی یافتہ ریفائینری بنانے میں بھی کامیابی حاصل کر، اپنے خواب کو نہ صرف شرمندہ تعبیر کردکھایا بلکہ اس جام نگر ریفائینری کے بل بوتے پر، دنیا کی سب سے بڑی خام پٹرول بیچنے والی سعودی آرامکو کمپنی کے ساتھ ساجھے داری میں، بندوستان کے انیک شہروں میں پیٹرول ریفائینری بنانے کی اشتراکی کمپنی بھی قائم کرلی ہے

عام کیرالہ والوں کی طرح ایک چھوٹا سا بقالہ بنائے،18 سے 20 گھنٹے ہمہ وقت محنت کر، علاقے کے لوگوں کا دل جیتنے والے، یوسف علی ،اپنے چھوٹے سے بقالے میں،ہمہ وقت محنت وجفاکشی میں مصروف رہتے ہوئے بھی، یورپ اسٹائل کی ایک بہت بڑی سوپر مارکیٹ بنانے کا خواب اپنے ذہن و افکار میں سجائے جی رہے تھے۔ امارات کے مختلف شہر دوبئی وغیرھم میں، تجارتی طور مصروف عمل، درمیانے درجے کی، چویترام سوپر مارکیٹ کے مالکان، گجراتی تجار کی طرف سے، بابری مسجد انہدام بعد، خوشیاں منانے اور مٹھائیاں تقسیم کرنے کے ان کے عمل نے، مسلم اکثریتی ہندو پاک کے مسلم خریداروں کو،اتنا دل برداشتہ کیا کہ کچھ لوگوں کے تعاون سے یوسف علی نے، لؤلؤ سوپر مارکیٹ کے نام، پار دوبئی میں اپنی پہلی لؤ لؤ سوپر مارکیٹ کی بنیاد کیا ڈالی، پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

اب یوسف علی اپنے سو ڈیڑھ سو لؤلؤ سوپر مارکیٹ وہائپر مارکیٹ کے ساتھ، خلیج کے کنزیومر سپلائی کے سب سے بڑے تاجر بن چکے ہیں۔ یہی تو ہوتا آیا ہے کہ خوابوں کی دنیا میں سہانے سپنےدیکھنے والے، شیخ چلی کی طرح، صرف خوابوں کی دنیا میں مست رہتے ہیں، تو ناکارہ بن کر،دوسروں کی مدد کے سہارے جی رہے ہوتے ہیں۔

لیکن اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کی جستجومیں مشغول لوگ، اپنی محنت و لگن سے اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسا سنہرا موڑ (ٹرننگ پوائینٹ) پاتے ہیں جہاں سے وہ ترقی و کامیابی کی سیڑھیاں طے کرنے لگتے ہیں،اور اپنے دیکھے خوابوں کی تعبیر بالآخر پاہی لیتے ہیں۔لیکن ان تمام کے پیچھے محنت لگن کے ساتھ مشترک جو خوبی پائی جاتی ہے وہ ہے ایمانداری اور اپنے کسٹمر کے ساتھ وفا شعاری

ہزار بارہ سو سال قبل سے عربستان سے تجارت کی غرض سے ہندستان آئے، کرناٹک بھٹکل کے ساحل پر مختلف گاؤں قریوں میں آباد ہم اہل نائط ہوں کہ تامل ناڈو کلیکیرے کے ساحل پر آباد اہل نائط یاکہ بمبئی کونکن کی ساحلی پٹی پر آباد اہل نائط،یا حیدر آباد شہر میں بسے یمنی یا حضرمی کہلانے والے اہل نائط، اپنے آبائی وراثتی تجارتی فن سے, ہم نے،نہ صرف ہندستان کے مختلف شہروں میں بلکہ خلیج کی منڈیوں میں بھی کپڑا تجارت ہو کہ ہوٹل عوامی سہولیات تجارت و دیگر کسی بھی نوع کی تجارت میں،جب جب بھی طبع آزمائی کی ہے، ہم نے ایک کامیاب شہشوار کی طرف اس راہ گزر کو فتح کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ہمارے اپنے عصری تعلیم یافتگان کی اکثریت، دوسرے مالکان کی فرموں، کمپنیوں و مصنعوں کو کامیاب انداز، چلانے میں،جہاں ممد و متعاون رہے ہیں، وہیں پر ہمارے ارباب حل و عقل اپنے تدبر تفکر و مشاورت سے تجار وقت حاضر، اہل نائط کو انڈسٹریلسٹ شاہراہ پر دوڑانے کی جستجو کرتے تو،یقینا ہم میں سے کسی ایک کی انڈسٹریل لائن کامیابی پر، ہمارے اپنے وصف آل عرب، دنبوں یا بھیڑ بکریوں کی چال چلتے، پوری آل نائط قوم، انڈسٹریلسٹ بننے کی جستجو میں کامیاب ہوتے

،ہم اہل نائط،ایک اچھے انڈسٹریلسٹ قوم بھی بن سکتے تھے۔ کل کی بمبئی اسٹاک ایکسچینج پر حاوی گجراتی تاجر قوم، اپنے بابائے قوم دھیرو بھائی امبانی کی لیڈر شب میں ایک کامیاب تاجر قوم کے ساتھ ہی ساتھ، انڈسٹریلسٹ قوم بھی بن سکتی ہے! تو کیا ہزار دیڑھ ہزار سالہ اپنے آباء و اجداد کے وراثتی تجارتی فن کو،ابھی تک اپنے دامن میں سجائے،نہ صرف ھند کے مختلف علاقوں میں، بلکہ خلیج کی منڈیوں کو بھی فتح کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ہم اہل نائط، مسلم تجار ، مسلم انڈسٹریل زون قائم کرنے میں،کیا کامیاب نہیں ہوسکتے تھے؟ کیا ہم، اپنے اہل نائط کے اس ثپوت کو بھول گئے جو کچھ کمانے کی نیت سے امریکہ کی سرزمین پر اترتا ہے، امریکن فاسٹ فوڈ کمپنی، کے ایف سی کو مرغیوں کی ترسیل کرتے کرتے ، نہ صرف امریکہ میں ڈیڑھ سو سے زاید، کے ایف سی آؤٹ لیٹ کا مالک بن جاتا ہے، بلکہ امریکہ چھوڑ عالم کے، کے ایف سی رائٹ کا حقدار بنتے بنتے، اپنی چار دہوں کی محنت و جفاکشی سے، برگر کنگ نامی عالمی فاسٹ فوڈ کمپنی کو بھی، اپنے دائرہ تجارت کا حصہ بناتے ہوئے

، کئی سو ایکڑ پر مشتمل اپنے شرمپ یعنی جھینگا فارمنگ تجارت بشمول انیک تجارت سے،امریکہ کے سو، سب سے کامیاب تاجروں میں، اپنا نام درج کرانے میں بھی کامیاب رہتا ہے۔ کیا ہم اپنے فرزند نائط کے قائم کئے، مولانا لنگی کی عالمی شہرت کو بھول چکے ہیں؟ تو پھر کیوں، تجارتی دنیا میں اپنے ذاتی صلاحیتوں سے بڑے بڑے معرکہ حل کرنے والے ہم اہل نائط، اپنے میں موجود بیشمار، ایف سی اے،سی اے، آئی سی ڈبلیو ،ایم کام ، ایم بی اے، ایم بی ایم ، بی بی اے،اور بی بی ایم مل بیٹھ کر، آپسی تعاون سے اشتراکی کمپنی قائم کر، قوم کو انڈسٹریلسٹ قوم میں تبدیل کرنے کی جہد و فکر نہیں کرتے؟ ہمارے اپنے بے شمار اہل نائط سپوتوں کی صلاحیتوں کے سہارے، گجراتی مارواڑی و عرب تجار و انڈسٹریلسٹ، کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں

اور ہم وہیں کے وہیں، اپنے آبائی تجارتی فن کے شاہکار بنے، اپنی دنیا میں مست جی رہے ہیں۔ دوبئی کی مشہور تجارتی تعمیری کمپنی گلیداری کے مالک کی جوئے میں ہار, بربادی کے بعد، اپنی اعلی تعلیمی صلاحیت و اپنے تدبراتی مشوروں سے ،پام بیج رہائشی و تجارتی مراکز کی کامیاب پلاننگ سے، گلیداری کمپنی کو، ایک مرتبہ پھر خلیج کے سماء پر کامیابی و شہرت کی اونچائی پر لیجانے میں ممد و مددگار بننے والے، سپوت اہل نائط، نوئے کے دیے کے، حکومت ھند کے معاشی صلاح کار، اکانومسٹ قوم اہل نائط، المحترم مرحوم ایف سی اے خلیل صاحب دوبئی کو، ابھی سال دو سال قبل کھونے کے باوجود,انکی ذاتی نگرانی میں, معشیتی و معاشرتی طرز تربیت پائے, قوم نائطہ کے اعلی تعلیم یافتہ نونہالان , اور ہم ارباب حل وعقل و فہم و ادراک اہل نائطہ، اپنی قوم کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن رکھنے کے لئے، مل بیٹھ ایسی مکرر کانفرنسیں منعقد کئے, کیا ٹریڈر یا تاجر قوم مشہور ہم اہل نائطہ قوم کو صنعتی تاجر قوم میں کیا تبدیل نہیں کرسکتے ہیں

۔آج تک ہم فرزندان اہل نائط نے تجارتی دنیا میں جو بھی کامیابی و کامرانی حاصل کی ہے وہ سب فرزندان اہل نائط کی ذاتی کاوشوں کے نتیجہ میں ہی پائی ہے۔ کاش کے ارباب حل و عقل و فہم اہل نائط،گجراتیوں ہی کے طرز پر یا ہمارے پڑوسی کیرالہ تجار کے نقش قدم پر، اشتراکی کمپنیاں قائم کر ، لؤلؤ ہائپر مارٹ چین، نیسٹو ہائیپر مارٹ چین،گرینڈ ہاپیپر مارٹ چین، سٹی فلور ہایپر مارٹ چین اور کیرالہ میڈیکل سروس چین میمس طرز اہل نائط کی بھی، کئی اشتراکی کمپنیوں کو وجود بخشتےہوئے، تجارتی و صنعتی میدان کے شہشوار بن، معاشی میدان پر راج کر رہے ہوتے! اور آج زوال پذیر یا انحطاط پزیر خلیجی منڈیوں کی وجہ سے، ہزاروں بے روز گاروں کی کھیپ کو،وطن عزیز میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہم نہ پاتے! ہم نے اپنے اہل نائط قوم میں بے شمار، باصلاحیت ایسے شباب کو بھی پایا ہے،

جو مناسب سر پرستی نہ ملنے کے سبب، حوالہ، اڑان پرندوں کی مآنند ہمہ وقت محو پرواز رہتے,کسی بھی حکومتی باز نظروں میں آئے, جیل کی کال کوٹھریوں میں سالوں سڑنے تیار رہنے والے کرب سے ماورا، زیر قانون, ملٹی ملین اشتراکی فنڈ تجارتی شہنشاہ یا صنعتی راہ گزر کے مسافر بن شان سے جی رہےہوتے ہیں؟ الحمد اللہ ہم اہل نائطہ قوم میں خالق کائیبات نے یہ خداداد صلاحیت ودیعت کی ہوئی ہے کہ ایک حد تک غیر قانونی تجارتی دنیا کی راہ گزر پر بھی ہم چلتے ہیں تو، اس دنیا کی نیابت و امارت کرنے سے بھی پیچھے نہ رہے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کی دنیا میں قدم رکھا تو، لینڈ مافیا جیسی سنڈیکیٹ سے قوم و وطن کو جہاں متعارف کیا ہے، وہیں پر ہندستان کے نقشہ پر بہت ہی تیزی کے ساتھ اپنی جگہ بناتے، شہر منگلور کی فلک شگاف عمارتوں پر اور عالیشان تجارتی مراکز پر، اپنے حضرمی جد امجد، المحتشم کے نام کو کنندہ ہم بڑے ہی فخر سےپاتے ہیں۔
ایسے باصلاحیت شباب قوم کو اہل تدبر و تفہم، اعلی تعلیم یافتہ ارباب قوم کی سرپرستی حاصل رہتی ہے اور اشتراکی کمپنی قائم کر، ان کی صلاحیتوں کو حسب ضرورت، استعمال کیا جاتا ہے تو، یقینا تین چار دہائیوں کے سابقہ، باد بہاراں خلیج کے قوم و وطن پر، برستے پیٹرو ڈالر کے تناظر میں، یہ قوم نائطہ، معاشی و صنعتی ترقی کے کون کونسے سنگ میل اب تک سر کرچکی ہوتی، اندازہ لگانا مشکل تر ہوتا*
*باد بہاراں صحرائے خلیج کے دروازے وا ہونے سے قبل،ہمارے مصروف تجارت مستقر، ہماری پڑوسی ریاست کیرالہ سے ، اپو، پوٹو، پتری روٹی, نیر دوسا,شینونیا نھوریو، ہلدی پانا نھوریو وانیک مچھلی کے سالن، جہاں ہم نے ناشتہ، کھانے کی کیرالہ مختلف ڈشز کو، قومی طور اپنایا ہے، وہیں پر انکے سب سے بڑے وصف، باصلاحیت افرادی قوت پر بھروسہ کر، مالی اشتراکی کمپنیوں کی کمان انکے ہاتھوں میں دیئے ،احباب مال و ثروت و احباب حل و عقل کے اشتراک سے لؤلؤ، نیسٹو،سٹی فلور، گرانٹ مارٹ اور ممس جیسی متعدد کامیاب تجارتی کمپنیوں کو،ہم نے اب تک وجود بخشا ہوتا، ہماری اپنی قائم اہل نائط کی کئی ایک تجارتی صنعتی کمپنیاں، ہم اہل نائط کو، اس انحطاط پزیر خلیجی منڈیوں میں ابھی تک مصروف عمل رکھنے میں کامیاب پاتے۔
قوم و وطن کی معاشی نیابت کے لائق، ہم اپنے آپ کو نہ پاتے ہوئے بھی، ہم نے ذہن و تفکر کی جولان گاہوں میں وقوع پزہر، پنپتی اپنی آراء کو، وقت وقت سے قومی سطح پر بلائی جانے والی میٹنگوں, خلیجی و بین الجماعتی کانفرنسوں کے ذریعے سے، ارباب حل و عقل قوم نائط و صاحبان مال ثرورت تک پہنچانے کی، ہمہ وقت کوشش کی تھی۔ یہ اور بات ہے مال ثرورت کے وقتی شہنشاؤں نے، بغیر ریال درھم کی کھنک کے، ہماری آراء کو، بے سر راگنی قرار دیئے، اسے درکنار کرنا ہی بہتر جانا ہے۔
ہمیں امید ہے یہ ہماری بے سر والی راگنی، وقت کے بے رحم تھپیڑوں کے آگے،صدا سرد وخاموش ہونے سے قبل ، اپنی تجارتی اہل نائط قوم کو، صنعتی ترقیاتی شاہراؤں پر محو سفر ہم دیکھ پائیں گے۔ وما علینا الا البلاغ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں