79

نیا سال 2026 اور پاکستان کے چیلنجیز

نیا سال 2026 اور پاکستان کے چیلنجیز

ثناء اللہ گھمن
[email protected]
سیکرٹری جنرل” پناہ”

سماجی’ عوای اورطبی نشست میں اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ 2026 معاشی’ سیاسی اور طبی لحاظ سے کیسا ہوگا؟ ماہرین اقتصادیات،معاشی اور سیاسی استحکام کو ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم قرار دیتے اور اس پر رائے بھی دیتے رہے۔ ہمارے نزدیک دونوں محاذ کا استحکام ثانوی حیثیت رکھتا ہے اصل مسئلہ قوم کے لیے صحت مند اور صحت کی دولت کا سائبان ہے۔ انفرادی واجتماعی سطح پر صحت کے گلاب اور اسکی مہکاریں شامل ہوں تو زندگی خوشگوار، قابل رشک اور مطمئن نظر آتی ہے۔
قربان علی سالک یاد آگئے
ہم اپنی بات اور مدعا بعد میں عرض کریں گے پہلے کوہ طور سے منسوب چھوٹے سے غیر معمولی مکالمے کا تذکرہ کر دیں جس سے صحت کی اہمیت اور حیثیت دو چند ہوجائے۔ حضرت موسی علیہ السلام استسفار کرتے ہیں اے مالک ارض وسماء اگر تو میری جگہ سوالی بنتا تو کون سا سوال پہلا ہوتا؟ صاحت جبروت نے آسمان سے آواز بلند کی” موسی میں صحت کا سوال کرتا” موسی اور اس کے رب سے محبت و ارادت کا یہ مکالمہ صحت سے جڑی باتوں اور نعمتوں کو آشکار کرتا ہے اللہ کریم سب کے دامن کو صحت کی دولت اور سرمایہ سے معمور و مرقع رکھے آمین…دنیا نئے سال کی خوشیوں میں مصروف ہے

مگر پاکستان کے دروازے پر ایسا خاموش طوفان دستک دے رہا ہے جو نہ صرف ہماری معیشت بلکہ پورے نظامِ صحت کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ طوفان بموں اور زلزلوں کا نہیں، بلکہ غیر متعدی بیماریوں (NCDs) کا ہے دل کے امراض، ذیابیطس، بلڈ پریشر؛ کینسر اور سانس کی دائمی بیماریاں جو آہستہ آہستہ مگر یقینی طور پر جانیں بھی لے رہی ہیں اور قومی وسائل بھی!!
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہونے والی کل اموات کا تقریبا 58 فیصد انہی بیماریوں کے باعث ہوتا ہے۔ روزانہ لگ بھگ 2400 پاکستانی NCDs کی نذر ہو جاتے ہیں،

ہر ایک منٹ میں دل کا دورہ پڑتا ہے، 1100 افراد روزانہ ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں سے جان ہار جاتے ہیں، جبکہ تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے 450 سے زائد اموات روز کا معمول بن چکی ہیں۔ یہ سب بیماریاں ایسی ہیں جن پر قابو پایا جا سکتا ہے اگر بروقت فیصلے کیے جائیں۔سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ بیماریاں تیزی سے ہماری نوجوان آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ نوجوان، جو کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی اور مستقبل کی افرادی قوت ہوتے ہیں، آج غیر صحت مند طرزِ زندگی اور ناقص خوراک کی قیمت اپنی صحت سے ادا کر رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بیماری صرف فرد کا مسئلہ نہیں رہتی،

بلکہ معیشت پر بوجھ، پیداوار میں کمی اور سماجی عدم استحکام کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ذیابیطس کی صورتحال تو قومی ایمرجنسی کا روپ دھار چکی ہے۔ انٹرنیشنلذیابیطس فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں 3 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد شوگر کے مریض ہیں اور آبادی کے تناسب سے ہم دنیا میں پہلے نمبر پر آ چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ذیابیطس ہی پاکستان کی معیشت کو سالانہ کھربوں روپے کا نقصان پہنچا رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ذیابیطس کی دوا پر سالانہ اخراجات 2.6 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں

جو آئی ایم ایف سے ملنے والی ایک قسط سے بھی زیادہ ہیں جبکہ ہمارا مجموعی صحت کا بجٹ جی ڈی پی کے محض 2 فیصد کے آس پاس ہے۔پاکستان نے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے تحت 2030 تک غیر متعدی بیماریوں میں ایک تہائی کمی کا وعدہ کیا ہے، مگر یہ ہدف محض دعوں سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
ا سں مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہماری روزمرہ خوراک ہے، جو چینی، نمک اور ٹرانس فیٹس سے بھرپور ہو چکی ہے۔ جنک فوڈ، سستے میٹھے مشروبات، نمکین اسنیکس اور الٹرا پروسیسڈ مصنوعات ہماری میزوں پر عام ہو چکی اور ان کا سب سے آسان شکار بچے اور نوجوان بن رہے ہیں۔ کئی ممالک نے اس بحران کو سنجیدگی سے لیا اور سادہ مگر معثر پالیسیاں نافذ کیں اور نتائج سامنے ہیں۔
ان میں غیر صحت بخش الٹرا پروسیسڈ فوڈز پر
ٹیکس، فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز،
بچوں کے لیے جنک فوڈ کی تشہیر پر پابندی
اور تعلیمی اداروں میں ان مصنوعات کی فروخت پر قدغن۔
ٹیکس پالیسی نہ صرف استعمال کم کرتی ہے بلکہ حکومت کے لیے اضافی ریونیو بھی پیدا کرتی ہے، وہ بھی بغیر کسی اضافی خرچ کے، جسے صحت اور آگاہی پروگراموں پر خرچ کیا جا سکتا ہے-
ا سی طرح فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلزجیسے زیادہ چینی یازیادہ نمک چند سیکنڈ میں صارف کو باخبر فیصلہ کرنے کا موقع دیتے ہیں اور تحقیق بتاتی ہے کہ یہ عوامی رویوں میں فوری تبدیلی لاتے ہیں۔
بچوں کے لیے اسکولوں میں صحت مند فوڈ گائیڈ لائنز، غذائیت کی تعلیم، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جنک فوڈ مارکیٹنگ کی روک تھام بھی ناگزیر ہے۔
یہ سب آزمودہ اقدامات ہیں جن سے بیماریوں کی شرح میں واضح کمی آئی ہے۔ ہمیں بھی ایک قوم بنتے ہوئے جس میں معاشرے کے تمام طبقات جن میں پالیسی میکرز، پارلیمنٹیرینز؛ علما، نوجوان، ماہرین صحت اور اکانومیسٹ شامل ہیں مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہو گا جس طرح ہم نے مل کے کرونا کا مقابلہ کیا۔حقیقت سادہ اور کڑوی ہے: صحت کے بغیر کوئی معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی، اور بیمار قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ اگر پاکستان واقعی معاشی استحکام، سماجی بہتری اور SDGs کے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے

تو غیر متعدی بیماریوں کے خلاف فوری اور جرات مندانہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ نقصان دہ خوراک پر کنٹرول، مضبوط قوانین، سخت ریگولیشن اور معثر آگاہی ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک صحت مند، مضبوط اور محفوظ مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔نیا سال 2026 محض کیلنڈر کی تبدیلی نہ ہو یہ وہ موڑ بنے جہاں پاکستان نے خاموش قاتل کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ آج کے درست فیصلے ہی کل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں