85

” حضرت ابراہیم علیہ السلام اور قربانی “

” حضرت ابراہیم علیہ السلام اور قربانی “

ازقلم: ام حبیبہ ، سیالکوٹ

قربانی عربی زبان کے لفظ ” ق ، ر ، ب “ سے نکلا ہے ۔ لفظ ”قرب“ کے معنی ” کسی شے کے نزدیک ہونا،ایثار یا اپنی جان قربان کرنا کے ہیں۔

قربانی سے مراد اللہ کا قرب حاصل کرنے کی غرض سے کسی مال و دولت ، انسان ، جانور وغیرہ کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا ۔

تمام مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد میں قربانی کرتے ہیں ۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لختِ جگر کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربان کرنے کے لیے فورا تیار ہو گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم کی یہ ادا بہت پسند آئی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا خواب تو محض ایک آزمائش تھی جس کا مقصد محض حضرت ابراہیم کی محبت دیکھنا تھا اور یہ بتانا مقصود تھا کہ قربانیوں کی ابتداء انبیاء سے ہوئی ۔ قربان جائیں اللہ کے نبی کی محبت پر کہ جب اللہ کا حکم ہوا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرو تو بنا کسی لیت ولعل کے فورا اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔

رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَO فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍO فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَO فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِO وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُO قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَO إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُO وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ0
” اے میرے رب! مجھے ایک صالح (لڑکا) عطا کر۔پس ہم نے اسے ایک لڑکے حلم والے کی خوشخبری دی۔پھر جب وہ اس کے ہمراہ چلنے پھرنے لگا کہا اے بیٹے! بے شک میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں پس دیکھ تیری کیا رائے ہے، کہا اے ابا! جو حکم آپ کو ہوا ہے کر دیجیے، آپ مجھے ان شا اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔پس جب دونوں نے تسلیم کر لیا اور اس نے پیشانی کے بل ڈال دیا۔اور ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراھیم!۔تو نے خواب سچا کر دکھایا، بے شک ہم اسی طرح نیکو کاروں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔البتہ یہ صریح آزمائش ہےاور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض دیا۔“
(الصفت37، آیت نمبر 100-107)

بیٹے کو دعاؤں سے اللہ سے مانگا اور بیٹا بھی نہایت اطاعت گزار لیکن جب خواب آیا تو بغیر کسی توقف کے بیٹے کو خواب سنایا اور قربان جائیں اس پیغمبر زادے کی ایمانی عظمتوں پر کہ باپ کے خواب کو اللہ کا حکم سمجھ کر سر تسلیم خم کر لیا اور فوری رضامندی دے دی اور تاریخ میں ذیبح اللہ کا اعزاز پایا۔
غور کریں تو یہ حیرت و استعجاب کی بات ہے لیکن قربان جائیں ایسے عشق اور محبت پر کہ شیطان تو بہت ورغلایا لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہاتھ نہ ڈگمگایا۔ شیطان تو مختلف روپ میں آیا اور اللہ کا حکم ماننے سے روکنے کی کوشش کی ۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہہ کر شیطان کو جھٹک دیا کہ اللہ کے حکم پر ایسے ہزاروں بیٹے قربان ، اور ثابت کر دیا کہ اپنی عزیز ترین اولاد جیسی متاع کو بھی اللہ کی راہ میں قربان کیا جا سکتا ہے ۔

اور قربان کرنے کے لیے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری رکھی ہی تھی کہ اللہ کے حکم حضرت اسماعیل کی جگہ دنبہ کو ذبحہ کیا۔ کیونکہ اللہ کی ذات کیسے گوارہ کرتی کہ اپنے اتنا محبت کرنے والے نبی کی محبت کی قدر نہ کریں فورا حضرت جبرائیل کو حکم دیا کہ حضرت اسماعیل کی جگہ دنبہ لٹا دو۔ یہ تو محض آزمائش تھی ابراہیم کی محبت کی آزمائش جس پر ابراہیم علیہ السلام پورا اترے۔
کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آنکھوں میں پٹی باندھی ہوئی تھی کہ بیٹے کی محبت اللہ کی نا فرمانی نہ کروا دے ۔کہیں ان کے ہاتھ ڈگمگا نہ جائیں ۔ لیکن جب آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو بیٹے کی جگہ دنبے کو ذبحہ پایا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
غیب سے آواز آتی ہے!

وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُO قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَO
اور ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراھیم! تو نے خواب سچا کر دکھایا، بے شک ہم اسی طرح نیکو کاروں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔
(الصفت، آیت نمبر104-105)

اور اس طرح مسلمان ہر سال عیدالاضحی کے موقع پر جانور زبح کرتے ہیں اور سنت ابراہیمی ادا کرتے ہیں ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسماعیل کو بچانا ہی تھا تو پھر قربانی کا حکم کیوں ہوا ؟؟ جس کا جواب یہ ہے کہ امت مسلمہ کو بتانا غرض تھا کہ اللہ کی راہ میں قربانیاں دینے کی ابتدا انبیاء سے ہوئی ۔ جس سے ہمیں اپنی پسندیدہ چیزوں کو اللہ کی یاد میں قربان کرنے کا درس ملتا ہے۔
جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے

کہ قربانی نہ صرف جانور قربان کرنے کا نام ہے بلکہ اپنی خواہشات کو بھی قربان کرنے کا نام ہے ۔ اللہ کی رضا میں راضی رہنے کا نام ہے ۔ اس کے ایک حکم پر سر تسلیم خم کرنے کا نام ہے ۔ برائیوں سے بچنے کا نام ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سنت ابراہیمی ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی رضا میں راضی رہنے والا بناۓ اور ہمیں برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں