78

ملک کی تقدیر ایسے تو نہیں بدلے گی !

ملک کی تقدیر ایسے تو نہیں بدلے گی !

حکومت کشکول توڑنے اور سر مایہ کاری لانے میں سر گرداں ہے ، وزیر اعظم شہباز شریف ایک کے بعد ایک بیرونی دورے کررہے ہیں اور اپنے ساتھ بڑے بڑے وفود بھی لے کر جارہے ہیں ، ان وفود کے ساتھ جہاںبڑی کانفرنسوں میں شر کت ہورہی ہے ،وہیں بہت ساری یادشتوں پر دستخط بھی کیے جارہے ہیں ، اس کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ ملک میں بیرونی سر مایہ کاری آئے گی ،اس پر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اپنے ہی سرمایہ کا عدم استحکام اور عدم تحفظ کے باعث باہر جارہے ہیں تو بیرونی سر مایہ کار کیسے آسکتے ہیں ؟ اس ملک میں جب تک استحکام اور امن و آمان نہیں آئے گا ، بیرونی سر مایہ کاری کا خواب ادھورا ہی رہے گا ۔
اتحادی حکومت دعوئیدار ہے کہ ملک میں استحکام اور امن و آمان کو یقینی بنائیں گے ، وزیراعظم شہباز شریف بھی بیرون ممالک اپنے دوروں میں یقین دلانے میں لگے ہوئے ہیں کہ حکومت مشترکہ منصوبوں کے استحکام کے لیے نہ صرف ہر ممکننہ سپورٹ کرے گی ، بلکہ سر مایہ کاروں کو ہر ممکن تحفظ بھی فراہم کرے گی

،لیکن بیرونی سر مایہ کار زبانی کلامی باتوں پر یقین کرنے والے ہیں نہ ہی دیکھے بغیر سر مایہ کاری کر نے والے ہیں ، بیرونی سر مایہ کار پا کستانی حالات کو بغور دیکھ رہے ہیں ، ملک میں بڑھتی دہشت گردی اور عدم استحکام سب کے سامنے ہے ، حکومت جب تک سنجیدگی سے اپنے اندرونی معاملات درست نہیں کرے گی ، یہ بیرون ممالک میں آنیاں جانیاں ماسوائے سیر وسیاحت کے کوئی مثبت نتائج نکال نہیںپائیں گے ۔
ہمارے وزیر اعظم پہلے سعودی عرب ،کویت اور اب چین کے دورے پر گئے ہیںاورہر دورے پر اپنے ساتھ بڑے وفود بھی لے کر گئے ہیں،ہر دورے میں اتنی بڑی بارات ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت ہے،جبکہ ملک انتہائی بد حالی کا شکار ہے ، اس بد حالی کے دور میں اتنے افراد کو ساتھ لے جانا، سیر تفریح کرانا ،ایک طرح کی سیاسی رشوت ہی کہلاتی ہے، پچھلے دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب کی بم پروف گاڑی کے ٹائر بدلوانے پرتین کروڑ روپے کے اخراجات کیے گئے ہیں، ایک طرف ملک کو قرض در قرض میں ڈبویا جارہا ہے

تو دوسری جانب حکمرانوں کی عیاشیاں ختم ہونے میں ہی نہیں آرہی ہیں، اس وجہ سے ہی آئی ایم ایف نے وزرائ، ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اثاثے ظاہر کرنے پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے ،جبکہ آئندہ بجٹ میں انسداد بدعنوانی کے لیے سخت اقدامات کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
یہ کتنی عجب بات ہے کہ جب آئی ایم ایف عام عوام پر ٹیکس لگانے اور ٹیکس نیٹ میں لانے کی بات کرتے ہیں تو فوری عمل در آمد شروع ہو جاتا ہے ، لیکن حکمران شرافیہ کی جب اپنی باری آتی ہے تو کچھ بھی نہیں ہوتا ہے ،آئی ایم ایف کے بار بار مطالبے کے باوجود وفاقی حکومت اثاثے عوامی سطح پر ظاہر کرنے کے لیے پورٹل بناتی ہے نہ ہی دوبئی پراپرٹی لیکس پر کوئی کاروائی کراتی ہے ،حکمرانوں کاکام خود کو بچانا اور عوام کو ہی قر بانی بکرا بنائے رکھنارہا ہے ، اس لیے ہی ملک کا نظام درست نہیں ہو پارہا ہے

، آئی ایم ایف کے مطالبات کا مقصد پاکستان کے نظام کو درست کرنا نہیں، بلکہ اس مطالبے کے نتیجے میں پاکستانی حکمرانوں کو بلیک میل کرنا ہے، کیو نکہ وہ جانتے ہیں کہ ارکان پارلیمنٹ کے آمدن حلال ہے نہ ہی ان کے اثاثے جائز ٓمدن سے بنائے گئے ہیں، اس لیے ہی اپنے اثاثے چھپائے جاتے ہیں اور عوام کے سامنے نہیں لائے جاتے ہیں،اگر سامنے آبھی جائیں تو ان کے خلاف کوئی کاروائی نہین ہوتی ہے کیو نکہ اس حمام میں سارے ہی گندے ،سارے ہی ننگے ہیں ۔
اگر دیکھا جائے تو اس ملک میں سارے ہی مل کے لوٹ رہے ہیں ،اس لیے کسی پر کوئی ہاتھ ڈالنے والا نہیں ہے، اس ملک میں پکڑ دھکڑ سیاسی انتقام پر ہوتی ہے اور ڈیل ڈھیل پر رہائی ہو جاتی ہے ، اگر اس کے خلاف کوئی آواز اُٹھاتا ہے یا مزحمت کرتا ہے تو اسے پا بند سلاسل کر کے سزائیں دیے کر خوف زدہ کیا جاتا ہے،

نشان عبرت بنایا جاتا ہے ، لیکن یہ ظلم و جبر اب زیادہ دیر تک چلایا جاسکتا ہے نہ ہی عوام کو ور غلایا جاسکتا ہے ، عوام جان چکے ہیں کہ آزمائے حکمران اہلیت رکھتے ہے نہ ہی ملک کو بھنور سے نکلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، یہ جتنی مرضی کمیٹیاں بنا لیں ، یہ جتنی مرضی منصوبہ سازیاں کر لیں اور جتنے مرضی بیرونی دورے کر لیں ، ملک میں جب تک سیاسی ستحکام نہیں آئے گا ، امن و امان قائم نہیں ہو گا ،کوئی سر مایہ کاری آئے گی نہ ہی کوئی معاشی تبدلی لائی جاسکے گی۔
اس وقت عام آدمی دو وقت کی روٹی سے بھی عاجز آچکا ہے،آئے روز بڑھتی مہنگائی بے روزگاری پھن پھیلائے ہوئے ہے، کسمپرسی کا عفریت چہار سو رقص کناں ہے،لیکن آزمائے حکمران کشکول توڑنے اور سر مایہ کاری لانے کے دعوئوں سے ہی باز نہیں آرہے ہیں ، یہ کشکول توڑنے کے دعویدار کشکول توڑیں یا نہ توڑیں ، بیرونی سر مایہ کار لائیں نہ لائیں، پاکستان ایشیئن ٹائیگر جب بنانا ہو گا، تب بنالیں، سر دست عوام کی زندگی میں آسانیاں لائیں ،عوام کو قرض کے بوجھ سے نجات دلائیں ، اپنے بیرونی اثاثے بیچ کر سر مایہ پا کستان لائیں اور پا کستان کو خوشحال بنائیں ، پا کستانی حکمران جب تک لوٹی دولت واپس نہیں لائیں گے، عوام کی حمایت حاصل کر پائیں گے نہ ملک کی تقدیر بدل پائیں گے نہ ہی حکومت زیادہ دیر تک چلا پائیں گے،اس پرشگفتہ نسیم ہاشمی نے کیا خوب کہا ہے کہ
ہندسوں کے بدلنے سے تقدیر نہ بدلے گی
چہرہ جو نہ بدلا تو تصویر نہ بدلے گی
جب ہونی اٹل ہو تو پھر ہو کے ہی رہتی ہے
جو لوح پہ لکھی ہے تحریر نہ بدلے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں