38

تمہاری زندگی

تمہاری زندگی

نظم
از قلم : بنت صدیق
تمہاری زندگی میں، ہمیشہ خوشیوں کے خزانے آئیں
ہمیشہ رہیں بہاریں، نہ کبھی خزائیں آئیں

زندگی کے جھمیلوں کو کہیں دور چھوڑ آئیں
چلو آج پھر سے مل کے بے وجہ مسکرائیں

چھوڑ کر جانا جو چاہو تم، نہ میسر ہوں کوئی بہانے
جس طرف بھی جاؤ، تیری سب راہیں میری جانب آئیں

دل توڑ کر کسی کا ،کیسے لیتے ہو مسکرا
کچھ ایسے خوش رہنے کہ گر ہمیں بھی تو سکھائیں

یہ آرزو ہے دل کی، رہو رو برو تم میرے
کاش میری زندگی میں بھی وہ پل سہانے آئیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں