49

اسلام میں حج کی اہمیت و فرضیت

 اسلام میں حج کی اہمیت و فرضیت

اسلام میں حج کی اہمیت و فرضیت
فاطمہ لیاقت ( بورے والا)

حج کی اہمیت و فرضیت ایک اہم موضوع ہے جو ہر مسلمان کی زندگی میں نہایت خاص مقام رکھتا ہے۔ حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور یہ ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
“اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو” (سورۃ آل عمران: 97)

حج ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے، اس کے بغیر ایمان کے ارکان نا مکمل سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ایمان کی پختگی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ایک اعلیٰ شکل ہے۔
حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ حج مبرور (یعنی صحیح طریقے سے ادا کیا گیا حج) گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص اللہ کے لئے حج کرے اور (اس دوران) کوئی فحش بات نہ کرے اور نہ کوئی گناہ کرے، تو وہ ایسے واپس لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے اسے پیدا کیا ہو۔” (بخاری و مسلم)
حج دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان اخوت و بھائی چارے اور یک جہتی کی علامت ہے، ہر سال لاکھوں مسلمان مختلف ممالک سے مکہ مکرمہ آکر ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، جو امت مسلمہ کی وحدت اور یکجہتی کا بہترین مظاہرہ ہے۔ حج کے دوران عبادت گزار مختلف روحانی تجربات سے گزرتے ہیں۔ خانہ کعبہ کا طواف، صفا و مروہ کی سعی، عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں قیام، اور منیٰ میں رمی جمار یہ سب عبادات انسان کے روحانی مقام کو بلند کرتی ہیں۔ قرآن مجید میں واضح طور پر حج کی فرضیت کا ذکر ہے، اس کی فرضیت کا انکار کفر کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے متعدد احادیث میں حج کی فرضیت اور اس کی ادائیگی کی تاکید فرمائی ہے۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: “اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اللہ کی وحدانیت کا اقرار، نماز قائم کرنا، زکوة دینا، رمضان کے روزے رکھنا، اور حج کرنا۔” (بخاری)
تمام اسلامی فقہی مکاتب فکر حج کو فرض تسلیم کرتے ہیں اور اس کی ادائیگی کو ہر صاحب استطاعت مسلمان کے لئے لازم قرار دیتے ہیں۔
حج کے فرض ہونے کے لئے چند شرائط ہیں:

1. اسلام
حج صرف مسلمانوں پر فرض ہے۔

2. بلوغت
حج بالغ مسلمانوں پر فرض ہے۔

3. عقل و شعور
حج ان لوگوں پر فرض ہے جو عقل و شعور رکھتے ہوں۔

4. استطاعت
حج ان پر فرض ہے جو مالی، جسمانی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے اس کی استطاعت رکھتے ہو۔

حج کی ادائیگی میں مختلف مناسک شامل ہیں جو ذوالحجہ کے مہینے میں ادا کیے جاتے ہیں:

1. احرام باندھنا
حج کی نیت سے احرام باندھ کر تلبیہ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ جانا۔

2. طواف قدوم
خانہ کعبہ کے گرد طواف کرنا۔

3. سعی
صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگانا۔

4. وقوف عرفات
9 ذوالحجہ کو عرفات کے میدان میں قیام کرنا۔

5. مزدلفہ میں قیام
عرفات سے مزدلفہ جاکر وہاں رات گزارنا۔

6. رمی جمار
منیٰ میں جاکر شیطان کو کنکریاں مارنا۔

7. قربانی
عیدالاضحی کے دن جانور کی قربانی کرنا۔

8. طواف زیارت
خانہ کعبہ کا طواف کرنا۔

9. طواف وداع
مکہ مکرمہ سے روانگی سے قبل و داعی طواف کرنا۔

حج ایک عظیم عبادت اور دین اسلام کا اہم رکن ہے۔ اس کی ادائیگی ہر صاحب استطاعت مسلمان پر فرض ہے اور اس کی انجام دہی کے ذریعے نہ صرف گناہوں کی معافی ملتی ہے بلکہ یہ روحانیت اور ایمان کی تکمیل کا ذریعہ بھی ہے۔ حج مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کا پیغام بھی دیتا ہے اور دنیا کے مختلف گوشوں سے آئے ہوئے مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عظمت کی گواہی دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں