42

حج میں السلام کی اہمیت و فضیلت

حج میں السلام کی اہمیت و فضیلت

حج میں السلام کی اہمیت و فضیلت….
صباء شوکت
“حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے آخری اور تکمیلی رکن ہے!”
اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
” اللّٰہ کے واسطے بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے ان لوگوں پر ، جو اس کی استطاعت رکھتے ہوں “
اور جو کوئی استطاعت کے باوجود حج نا کرے اس کے بارے میں سخت وعید بھی سنا دی !
” جو کوئی کافرانہ روش اختیار کرے تو اللّٰہ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ، وہ ساری کائنات سے بے نیاز ہے”
یعنی یہ وعید ان لوگوں کے لیے ہے جو استطاعت کے باوجود حج نا کریں تو اللّٰہ کو بھی ان کی پرواہ نہیں ۔
حج کو اسلام میں ایک الگ مقام و مرتبہ حاصل ہے ۔
حج میں ایک ایسی خاص بات ہے جو اور عبادتوں میں نہیں ،وہ یہ ہے کہ اور عبادتوں میں کچھ عقلی مصلحتیں بھی سمجھ میں آجاتی ہیں مگر حج کے سارے افعال سراسر “عاشقانہ “ہیں .
یعنی ظاہراً ان افعال پر تعجب کیا جاسکتا ہے جیسے گھومنے ،دوڑنے ،کنکریاں مارنے میں عقلی مصلحت کیا ہوسکتی ہے مگر یوں سمجھنا چاہیے کہ اللّٰہ کا حکم ہے اس کو پورا کرنے سے اللّٰہ کی محبت حاصل ہوگی اور اس سے محبت کا امتحان بھی ہوتا ہے کہ جو بات عقل میں بھی نا آئے بس اللّٰہ کا حکم سمجھ کر ہر حال میں پورا کرنا ہے اور محبوب کے گھر میں اس کی محبت میں عاشقوں کی طرح دوڑے دوڑے پھرنا یہ کھلم کھلا عاشقانہ عمل ہے ۔
ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا:
” جب عرفہ کا دن ہوتا ہے اللّٰہ تعالیٰ فرشتوں سے فخر کے ساتھ فرماتا ہے کہ میرے بندوں کو دیکھو کہ میرے پاس دور دراز سے اس حالت میں آئے ہیں کہ پریشان حال اور غبار آلود بدن ہیں اور دھوپ میں چل رہے ہیں میں تم کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا” ( بیہقی و ابنِ خزیمہ)
حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
” جس شخص کو کوئی ظاہری مجبوری یا ظالم بادشاہ یا کوئی معذور کردینے والی بیماری حج سے نا روکنے والی ہو اور وہ پھر حج کیے بغیر مرجائے تو اس کو اختیار ہے چاہے یہودی مرے چاہے نصرانی”
نبی ﷺ نے فرمایا:
” حج اور عمرہ کرنے والے اللّٰہ کے مہمان ہوتے ہیں اگر وہ کوئی دعا کرتے ہیں تو اللّٰہ ان کی دعا قبول کرتاہے اگر وہ اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں تو ان کی مغفرت کردی جاتی ہے”

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” جو شخص حج کرکے میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کرے وہ ایسا ہے جیسے میری حیات میں میری زیارت کرے “
جو شخص اخلاص کے ساتھ حج یا عمرہ کرتا ہے وہ گویا اللّٰہ کے دریائے رحمت میں غوطہ لگاتا اور غسل کرتا ہے جس کے نتیجے میں وہ گناہوں کے گندے اثرات سے پاک صاف ہوجاتا ہے ۔مزید برآں” حج مبرور ” کے صلہ میں جنت کا عطا ہونا اللّٰہ کا قطعی فیصلہ ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں