ٹیکس نیٹ بڑھانا آسان نہیں ! 50

قومی معاملات پرسیاسی ہم آہنگی!

قومی معاملات پرسیاسی ہم آہنگی!

ملک میں انتخابات ہو گئے اور نئی حکومت کو بھی آئے دو ماہ ہو رہے ہیں ، مگر سیاسی استحکام آرہا ہے نہ ہی معاشی عدم استحکام جارہا ہے ، وزیر اعظم شہباز شر یف ہر حلقہ احباب سے جہاں بھی ملنے جاتے ہیں ،وہاں انہیں مشورا دیا جاتا ہے کہ ملک میں سیاسی و معاشی استحکام لانے کیلئے باہمی مفاہمت کی پش رفت کر نا ہو گی ، گزشتہ روز کراچی کی تاجر برادری نے بھی وزیراعظم کو تجویز دیتے ہوئے

کہ آپ نے پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں سے ہاتھ ملایا،اب دو ہاتھ اور ملائیں، ایک ہاتھ بھارت سمیت پڑوسیوں سے ملائیںاور دوسرا ہاتھ اڈیالہ جیل کے باسیوں سے ملائیں،لیکن وزیر اعظم کے ہاتھوں میں میں تو کچھ بھی نہیں ہے ، اُو پر والے جب تک نہیں چاہیں گے ، وزیر اعظم کیسے اپنا ہاتھ آگے بڑھاسکتے ہیں اور بلا اجازت کیسے کسی سے ملا سکتے ہیں۔
یہ اس ملک کی رویت رہی ہے کہ ہرحکومت بے ساکھیوں کے سہارے ہی اقتدار تک پہنچتی رہی ہے، یہ عوامی مینڈیٹ کے ذریعے کبھی اقتدار میں آئے ہیں نہ ہی انہیں کبھی عوام کی حمایت حاصل رہی ہے، یہ جن کے سہارے آتے ہیں اوراقتدار میں رہتے ہیں ،انہیں کی مالا جا نپتے ہیں اور انہیں کے فیصلوں کو لے کر آگے چلتے ہیں ، اس وقت بھی فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں اور اتحادی ان فیصلوں پر ہی عمل پیراں آگے چلے جارہے ہیں ،اس ملک کے باسی ان حالات سے بخوبی آگاہی رکھتے ہیں ، اس لیے جہاں بھی موقع ملتا ہے ،اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور اپنی بات حکمرانوں کے ذریعے فیصلہ سازوں تک پہچاتے رہتے ہیں ، کراچی کی تاجر برادری نے بھی اپنی تجاویز مقتدرہ تک پہنچائی ہیں ،اب دیکھنا ہے کہ ان تجاویز پر کس حد تک غور کیا جاتا ہے یا پھر ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا جاتا ہے۔
یہ وقت اچھی تجاویز رد کرنے کا نہیں ہے ،بلکہ ان تجاویز پر عملی اقدامات کر نے کا ہے ، کیو نکہ اس ملک کے مسائل جس نہج پر پہنچ چکے ہیں ، انہیں آزمائے ہوئے حل کر سکتے ہیں نہ ہی ان کی پشت پناہی کرنے والے کوئی حل نکال سکتے ہیں ، اس بہنور سے نکلنے کیلئے معاشرے کے ہر طبقے کو ہی اپنا حصہ ڈالنا ہو گا ، ملکی مفاد میں ہر طبقہ اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہے ،لیکن اس کیلئے صاحب اقتدار کے ساتھ اقتدار میں لانے والوں کو اپنی سوچ بدلنا ہو گی اور مفاہمت کو ہی اولین تر جیح دینا ہو گی ،

گزشتہ ڈیڑھ ،دوبرس میں سیاسی مخاصمت اور خلفشار کے باعث بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہے ، اب مزید نقصان نہیں ہو نا چاہئے، اس ملک کے تمام سٹیک ہو لڈر کو اپنی ذاتی ، گروہی اور انفرادی مفادات سے اُ وپر اُٹھ کر قومی مفادات کو اولیت دینا ہو گی ، اگر ایک بار ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے سیاسی اتفاق رائے سے ملک میں استحکام لانے کا عزم کرلیا جائے تو کچھ دنوں میں ہی کایا پلٹ سکتی ہے۔
اس میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ وفاق اور صوبے مل کر درپیش چیلنجز کا سامنا کر نے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں ، تاہم ضرورت مفاہمت و یگا نگت کی جانب قدم بڑھانے کی ہے ، حزب اقتدار کو حزاب اختلاف سے ہاتھ ملانے کی ہے اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کی ہے ،اس ملک کے سارے ہی سنجیدہ حلقے تاجر برادری کی مفاہمتی تجویز کی تائید کررہے ہیں تو پھر دیر ی کس بات کی ہے،

حکومت اور مقتدرہ ڈنگ ٹپائو پروگرام پر کیوں عمل پیراں ہیں ،یہ وقت زبانی کلا می باتیں کرنے کا نہیں ، عملی اقدامات کرنے کا ہے ، قمی معاملات پر سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے کا ہے ،اس مفاہمت کی تجویز پر فوری ردعمل آنا چاہئے ، اس سے نہ صرف تاجر برادی کے حوصلے بڑھیں گے ،بلکہ دیگرحلقوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہو گااور ملک احتجاج و انتشار سے نکل کر استحکام کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
اس وقت ملک کسی احتجاج و انتشار کا مزید متحمل ہو سکتا ہے نہ ہی عوام چاہتے ہیں کہ انہیں کسی بڑی آزمائش میں ڈالا جائے، عوام اپنے مسائل کا فوری حل چاہتے ہیں ، اگر اس ملک کی ساری قومی قیادت قومی ایشو ز اور مسائل کو حل کرنے میں سنجیدگی کامظاہرہ کریں اور ملک وقوم کو ان مشکلات سے نجات دلانے کے لیے ذمہ داری کا ثبوت دیں تو حالات کوبہتری کی طرف لانے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی،

لیکن اگر ہمارے سیاسی رہنماوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں نے ماضی کا شرمناک رویہ اور کھیل تماشاایسے ہی جاری رکھا اور اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہی کوشاں رہے تو پھرپاکستان کا تحفظ ایک خواب بن کر ہی رہ جائے گا ،اس کا خمیازہ کسی ایک جماعت یا سیاستدان کو ہی نہیں ، اس ملک کے ساتھ پو ری قوم کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں