ابن بھٹکلی 2

مسلمانوں میں اخوت اجتماعیت فروغ دیتی تمثیل بھٹکلی برادری

مسلمانوں میں اخوت اجتماعیت فروغ دیتی تمثیل بھٹکلی برادری

۔ نقاش نائطی
۔+966562677707

تفریح طبع سامانی،ہر عقل و فہم ادراک رکھنے والوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ کوئی کسی میں، تو کوئی کسی میں، تفریح طبع سامانی کا متلاشی پایاجاتا ہے۔اگر وقفہ وقفہ سے، مثبت انداز تفریح طبع سامانی کے مواقع دستیاب نہ کروائےجائیں،تو معشیتی مصروفیات، ذہنی کوفت سے نجات کے لئے،اکثریت کو منفی راہ پر لےجاتے پایا گیا ہے

ذہنی کوفت کو دور کرتے، ایک نئے سرے سے تازہ دم ہوئے، پھر مصروف معاش رہنے کے لئے، اپنوں سے کوسوں دور دیارغیر، سر زمین سنگلاخ ریگزار، ہمہ وقت مصروف معاش رہنے والوں کے لئے، سال میں کم از کم ایک مرتبہ،اپنوں کے ترتیب پائے، جماعتی نظم سے منسلک رہتے، اجتماعی جماعتی سالانہ عید ملن پروگرام میں، وطن عزیز سے خصوصی مہمان کے طور تشریف لائے، قاضی صاحبان کے پند و نصائح، ذوق اردو اپنے میں برقرار رکھنے، کسی عمدہ شاعر کے کلام سنتے پس منظر میں، حالیہ 18 اپریل 2024 منطقہ شرقیہ دمام، منعقدہ عید ملن پروگرام، اس لحاظ سے قابل تعریف تھا

کہ اس میں یہاں خلیج کی وادی الحرمین شریفین میں، مصروف معاش،ہم تارکین وطن، احباب بھٹکل کی ننھی اولادوں کو، اپنے محدود وسائل باوجود، جس محنت و جانفشانی سے،انکی تدریب و تربیت کرتے ہوئے،آٹھ سو ہزارکے مرد و نساء، جدا جدا مجمع کے سامنے، انہیں پیش کیا گیا تھا، انہیں تربیت دینے والی،عام گھر گرہستن سنبھالتی نساء کی تعریف کئے بنا رہا نہیں جاسکتا ہے۔ایسے دیکھنے میں معمولی تفریحی پروگرام سے، جہاں سامعین کا دل بہل جاتا ہے وہیں، انکے ایسے تفریح طبع پروگرامات سے، ہم سامعین کے ساتھ ہی ساتھ،ہمارے درمیان پروان چڑھ رہی، اپنی اولادوں کی،ذہنی و فکری تربیت میں بھی، نہایت موثر کردار ادا کیا کرتی ہے۔
یہ اللہ کا فضل و کرم ہے آج سے ہزار ڈیڑھ ہزار سال قبل، اپنے بادبانی کشتی سمندری سفر سے، ھند و عالم سے تجارت کرنے والے، ہمارے عربی النسل آباء و اجداد، جو بعد حج الوداع بحکم خاتم الانبیاءﷺ، اپنے وادی جدعرب کو مستقلاً چھوڑ،اس وقت کے ہندستانی ساحل سمندر، گجرات احمد آبادکھمبات، مہاراشٹر کونکن،تمل ناڈ کلیکیرے،کیرالہ کوچین، کالیکٹ کے ساتھ کرناٹک بھٹکل و آس پاس کے، سابقہ قلعہ آباد کمٹہ سے، ہوناور،ولکی،سمسی،ہیرانگڈی،کوپا، منکی،کائیکنی مڑدیشور، بھٹکل، ٹینگن گنڈی،شیرور،بیندور، بسرور، کؤپ، ہونللا، تونسے اڈپی تک ساحلی علاقوں میں آباد ہم آل عرب آل نائطہ میں سے اکثر جوان نسل،خلیج کے مختلف ریگزاروں میں جہاں مصروف معاش ہے، وہیں اپنےجدامجد اسلاف کے وطیرہ کو اپناتے ہوئے،

ھند و بیرون ھند،جہاں جہاں مصروف معاش کچھ احباب مستقل سکونت اختیار کئے پائے جاتے ہیں، وہاں وہاں، اپنے آبائی وطن بھٹکل میں، کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال قبل، اپنے اسلاف کے قائم کئے،بھٹکل مسلم جماعت اور اسکے ماتحت قائم محکمہ شرعیہ کے طرز ہی پر، اپنے اپنے مستقل سکونت اختیار کئے، گاؤں شہروں میں، کسی بھی نام سے فرع جماعت قائم کئے،اپنے آبائی گاؤں بھٹکل و اطراف بھٹکل کے مختلف مرکزی تعلیمی سماجی و دینی اداروں سے جڑے رہتے، اور حسب الحیثیت انکی مالی متعاونت کئے، اپنی آل اولاد کے ساتھ،اپنے گاؤں شہر کے غرباء و مساکین کی بھرپور مدد و نصرت کرتے ہوئے،

انہیں بھی اپنے ساتھ ترقی پزیری کے مدارج طہ کراتے پائے جاتے ہیں۔ بھٹکل اہل نائطہ مسلمان اپنے اباء و اجداد سلف و صالحین ہی کے طرز پر، اپنے عائلی ازدواجی و ملکیتی، معاشرتی و تجارتی اختلافات کو، خود کے اسلامی محکمہ شرعیہ ہی سے،تقریباًصد فی صد، رجوع ہوتے ہوئے، اور اپنے اختلافات و تنازعات حل کرواتے ہوئے، اپنے ایک لاکھ نفوس باشندگان ھند تنازعات کو،حکومت ھند کے محکمہ عدل و انصاف کے در تک لیجاتے، ان پر پڑھنے والے بوجھ سے، انہیں ماورائیت مہیا کئے ہوئے ہیں۔یہاں اس بات کے اظہار کرنے میں، ہمیں تفخر محسوس ہوتا ہے کہ ابھی کچھ سال پہلے،شہر بھٹکل منعقدہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ انتظامیہ نشت دوران، موقر عہدیدار و علماء عظام مسلم پرسنل بورڈ نے،

بھٹکل جماعت المسلمین محکمہ شرعیہ کے پاس موجود، سابقہ تنازعات فیصلوں پر مشتمل ہزار سال قبل کے تمام دستاوئزات و ریکارڈ دیکھ تفتیش کرنےکے بعد، محکمہ شرعیہ جماعت المسلمین بھٹکل کو، نہ صرف موجودہ ہندستان بلکہ ماقبل آزادی ھند والے متحدہ ہند و پاک، بنگلہ دیش، برما، افغانستان کا سب سے پرانا،عملاً قابل نفاذ فیصل، “جماعت المسلمین محکمہ شرعیہ” قرار دیا تھا۔اور کہا تھا ہندستان کی 20 فیصد کم و بیش 30 کروڑ مسلم آبادی بھی، بھٹکل احباب ہی کے طرز پر،اپنے آپسی عائلی ازدواجی ملکیتی، و تجارتی تنازعات، حکومتی محکمہ عدل و انصاف تک نہ لیجاتے ہوئے، اپنے اپنے محکمہ شرعیہ ہی میں ان تنازعات کو حل کرتے پائے جائیں تو، ایک طرف اس اقسام کی قانونی الجھنوں میں،

صرف ہونے والے کئی سو ہزار کروڑ روپیوں کی قوم و ملت کی بچت بھی ہوگی اور بیس فیصد آبادی کے،30 کروڑ مسلم قوم کے زیادہ تر تنازعات کا بوجھ حکومتی محکمہ عدل و انصاف پر نہ پڑتے ہوئے، اس ضمن میں محکمہ عدل و انصاف پر حکومت ھند کی طرف سے،خرچ ہونے والے، ہزاروں کروڑ سالانہ کی بچت بھی کرواتے ہوئے، حکومت ھند کے، وہی صرفہ کو، کسی دوسرے ترقیاتی مد میں صرف کرتے ہوئے، بھارت کی ترقی پزیری میں مسلم قوم کی حصہ داری مہیا بھی کی جاسکتی ہے۔ جماعت المسلمین بھٹکل والوں نے، سال 2024 اور 2025 پورے ایک سال دوران، مختلف پروگرام منعقد کرواتے ہوئے،

ہندستان کےمسلم اکثریتی علاقوں شہروں کے مسلم وفود کو، شہر بھٹکل، اس ہزار سالہ محکمہ شرعیہ تقریبات میں مدعو کرتے ہوئے، اپنے ہزار ڈیڑھ ہزار سالہ محکمہ شرعیہ رہکارڈ کو، شباب قوم و ملت کے سامنے فخریہ تمثیلا” پیش کرتے ہوئے، قوم مسلم کو، اپنے عائلی ازدواجی ،ترکہ تقسیم معاشرتی تجارتی تنازعات کے بوجھ کو، حکومتی عدل و انصاف پر ڈالنے سے اجتناب برتتے ہوئے، خود اپنے اپنے علاقوں میں، علماء کرام کی سرپرستی میں قائم محکمہ شرعیہ کا وجود لازم ملزوم بناتے ہوئے، قوم مسلم کی طرف سے حکومت کے عدل وانصاف محکمہ پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو، خود مفاہمتی طور حل کرتے ہوئے،

حکومت ھند کی ممکنہ مدد و نصرت کی جائے گی۔ اور انشاء اللہ اہل بھٹکل کے اس خود حل طلب عملی اقدام کو بھارت کے مختلف علاقوں کے مسلمانوں تک فروغ دیتے ہوئے، ہم بھارتیہ مسلمان حکومت ھند کی ترقیات کے شریک بنیں گے۔انشاءاللہ۔ اس ضمن میں عرض ہے بھٹکل دینی علوم اسلامیہ جامعہ (یونیورسٹی) سے فارغ التحصیل، پڑوسی کنداپور اڈپی ڈسٹرکٹ کے بعض فارغین علماء کرام نے، پورے اڈپی ڈسٹرکٹ کے بیسیوں گاؤں دیہات پر مشتمل، محکمہ شرعیہ کا نفاذ عمل میں لاتے ہوئے، بین القریات نکاح شادی شدہ جوڑوں کے عائلی مسائل کو، اس خوبصورتی سے حل کروایا ہے

کہ، اڈپی ڈسٹرکٹ حکومتی محکمہ عدل و انصاف، انکے در دولت تک آئے، بعض پیچیدہ تنازعات حل کے لئے، فریقین کو محکمہ شرعیہ سے رجوع ہونے کا مشورہ دیتے پائے گئے ہیں۔ ہم مسلمان اخلاص کے ساتھ کوئی بھی عمل سرانجام دینے کا بیڑہ اٹھائیں تو یقیناً آج بھی اس گئے گزرے زمانے کے ہم مسلمان، اب بھی،اپنے آسمانی دین پر عمل پیرا، ایک مثالی عملی قوم بنتے ہوئے، اور اقوام کے لئے، اپنے عملی دین اسلام، داعی دین بن سکتے ہیں

برصغیر ھند و پاک کے اپنے وقت کے بہت بڑے عالم دین حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی عرف عام علی میاں علیہ الرحمہ نے، کسی بھی علاقے کا سب سے زیادہ دورہ شہر بھٹکل کا کرتے ہوئے، اہل نائطہ بھٹکل والوں سے، اپنی محبت الفت سرپرستی اور بھٹکل والوں کے انہی اعمال حسنہ کی وجہ سے، ایک محفل میں بھٹکل والوں کو،امت مسلمہ ھند کی نیابت کرنے لائق، قوم قرار دیا تھا۔

1990خلیج میں قائم مختلف جماعتوں کی پہلی بین الجماعتی نششت دوبئی میں،اتفاق سے طہ شدہ قرار داد مطابق ،حرم مکی شریف کی مبارک سرزمین منی، 1991 منعقدہ اپنی پہلی بین الجماعتی خلیج کانفرنس میں،مختلف خیلجی ملکوں شہروں میں قائم 11 جماعتوں پر مشتمل، بھٹکل مسلم خلیج کونسل قائم کی گئی تھی، جس کے بعد، اپنے آبائی شہر بھٹکل میں، کانفرنس ھال اور آفس عمارت قائم کئے، وہاں عوام کے لئے،تقریباً مفت طبی خدمات رابطہ کلینک قائم کئے،علاقے کے عام انسانیت، صلاح و فلاح کے خدمات، کام شروع کئے گئے تھے

۔بیرون بھٹکل داخل ھند مختلف شہروں میں قائم مختلف جماعتوں پر مشتمل، بھٹکل بزنس فارم قائم کئے، خلیج سے مستقل لوٹ آئے، تجار وقت اہل نائطہ، متمول افراد کو، بھارت کے مختلف علاقوں میں،مصروف تجارت رکھنے کی بھی سعی کی جارہی ہے۔کچھ سال قبل شہر دوبئی منعقدہ کینرا کونسل خلیجی کانفرنس میں،شہر بھٹکل سے پرے
بھٹکل و اطراف بھٹکل مختلف گاؤں دیہات کے اہل نائطہ قائم مختلف بیسیوں جماعتوں پر مشتمل کینرا کونسل کے ماتحت،مرکزی شہر بھٹکل سے پرے، قرب و جوار کے گاؤں دیہات میں، قائم مختلف بنیادی مدارس سے فارغ طلبہ و طالبات کو، اعلی عصری تعلیم سے بہرور کرنے، ایک بھٹکلی تاجر ارشاد صدیقہ کی طرف سے، کئی کروڑ صرفہ، انہی کے درمیان مرکزی عصری اعلی تعلیمی ادارہ قائم کئے، انہئں اپنےاسلامی ماحول میں، اعلی عصری تعلیم دلوانے کا بہترین انتظام کیا گیا ہے۔ابھی حال ہی میں بھٹکل رابطہ آفس میں موبائل کلینک کا اجراء کئے،بھٹکل اطراف کے بیسیوں گاؤں دیہات میں، ابتدائی طبی خدمات مفت پیش کی جارہی ہیں۔ اس سے موسمی امراض متاثرین غرباء و متوسطین کی ایک بہت بڑی تعداد کو، موجودہ عالمی میڈیکل مافیہ انگریزی طریقہ طب علاج، لوٹ کھسوٹ ماورائیت دلوائی جا سکتی ہے۔
ایسے موقع پر اس وقت جب منطقہ شرقیہ بھٹکل مسلم جماعت کے ابتدائی دو دہے دوران بحیثیت جنرل سکریٹری احقر کے قومی خدمات انجام دیتے وقت، صدر جماعت کے طور ہماری سرپرستی کرنے والے، محترم تاجر شخصیت، اپنے کئی سالہ جماعتی صدارت ،خلیج کونسل کے سکریٹری جنرل کے عہدے پر کئی میعاد براجمان رہتے، اور اب کی کینرا کونسل کی صدارت کرتے ہوئے، نہ صرف اہل بھٹکل کے،بالکہ ریاست کرناٹک کے ایک موقر و مشہور تعلیمی ادارے، سرسید خان کی عصری تعلیم بیداری مہم سے متاثر، 1919 میں وجود پائے، جنوب ھند کا علیگڑھ مشہور،انجمن حامی المسلمین بھٹکل کی مسند صدارت پر متمکن قابل احترام تاجر المحترم یونس قاضیہ سے،ہم مودبانہ درخواست کرتے ہیں،

انجینئرنگ،ایم بی اے،بی بی اے، سمیت کئی ڈگری و پری ڈگری کالجز کے بشمول اعلی سے ابداء نرسری کنڈر گارڈن سستے سے سستا اور مہنگے سےمہنگے ترین تعلیمی نصاب والے، مختلف مرد و زن کو تعلیم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کرنے والے کم و بیش 30 اداروں پر مشتمل تناور تعلیمی درخت کی صورت ایک سو پانچ سالہ انجمن حامی المسلمین کی صدارت انکے تابع آتے ہوئے، بانیان انجمن حامی المسلمین کے سو سال قبل دیکھے ہوئے خواب بھٹکل و اطراف بھٹکل کئی ڈسٹرکٹ میں، عصری تعلیمی انقلاب لانے کے انکے خواب کو شرمندہ تعبیر کرتے ہوئے، ایک طرف کے ترقی پزیر منگلور و اڈپی ڈسٹرکٹ کو چھوڑ، کنداپور بیندور، کاروار، ہلیال،ڈانڈیلی، ہوناور، کمٹہ، بنواسی، سرسی، ہبلی دھاڑوار بیلگام تک اور اوپر طرف ساگر شینوگا ھاسن تک کل اضلاع کے پس ماندہ مسلمانوں کے لئے، بھٹکل انجمن حامی المسلمین کو مرکزی تعلیمی ادارے کے طور پیش کرتے ہوئے،ان علاقوں کے ابتدائی مدارس کو، انجمن کے رابطے میں رکھتے،کچھ حد تک انکی مالی اعانت کرتے ہوئے،

ان کے یہاں سے ابتدائی مدارس فارغین کو،اعلی تعلیم کے لئے، بھٹکل انجمن حامی المسلمین کی خدمات انہیں پیش کرتے ہوئے، ایک حد تک “علیگڑھ جنوب” مشہور بھٹکل انجمن حامی المسلمین کو واقعتاً “علیگڑھ جنوب ھند” کا درجہ دینے میں کامیاب رہیں گے۔ کچھ سال پہلے وفات پائے، سفیر ھند برائے سعودی عرب المحترم عبدالقادر حافظکا مرحوم کے ہاتھوں تربیت پائے، ریاستی کرناٹک حکومت سابق وزیر مالیات جناب ایس ایم یحیی صاحب مرحوم کے قریبی ساتھی رہے، کرناٹک میں جنتا دل راج رام کرشن ھیگڈے سے اپنی قریبی تعلقات کی وجہ، ڈسٹرکٹ وقف بورڈ اور ڈسٹرکٹ مائنارٹی کمیش چیرمین بنتے اور حکومتی عہدوں کو پر کرنے بنائے گئے کوآپریٹو اینڈ کوآپریشن کمیٹی اسٹیٹ لیول کمشنر بننے والے، خود غریب مفلس رہتے ہوئے بھی، اپنے مالدار خیلجی دوستوں سے بھیک مانگ مانگ کر ،کمٹہ ہلیال سرسی سمیت کاروار ڈسٹرکٹ کے غریب مسلم علاقوں کے پرائیویٹ اسکولوں کی انجمن کے نام سے مالی اعانت کراتے ہوئے، انہیں انجن کا مرہون منٹ بناتے ہوئے،

پورے کاروار ڈسٹرکٹ کے مسلم تعلیمی اداروں کو انجمن حامی المسلمین کے زیر اثر لانے کی عملی کوشش کرنے والے،اپنی کم مائیگی باوجود کاروار ڈسٹرکٹ کے بیسیوں ذہین بچوں کو اپنی ذمہ داری پر، اعلی تعلیم دلوانے والے، قوم کے قائد ملت نہ کہلائے جاتے ہوئے بھی، اپنے عملی قومی خدمات سے،حقیقی قائد قوم و قائد ملت بننے والے، ڈاکٹر بدرالحسن معلم مرحوم اللہ انکو اور انکے ساتھ تمام قومی ملی مخلص خدمت گاروں کی قبر کو،اپنے نور سے منور رکھے اور ان کے لئے جنت کے اعلی مقام محجوز رکھے ۔ہمیں امید ہے اللہ رب العزت نے صدر انجمن جناب یونس قافیہ کو کچھ اتنے زیادہ مال و ثروت سے نوازا ہے کہ وہ اکیلے اپنے دم پر،انجمن حامی المسلمین جیسے تعلیمی ادارے قائم کرسکتے ہیں اور نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ چلا بھی سکتے ہیں۔ وما التوفئق الا باللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں