سیاسی اتحاد نا گزیر ہے ! 89

ایسے حکومت نہیں چلے گی !

ایسے حکومت نہیں چلے گی !

ملک میں انتخابات متنازع ہی سہی ،مگر ہو گئے ہیں اور اب ایک طے شدہ ایجنڈے کے تحت ایوان پارلیمان میں ایک بار پھروزیر اعظم میاں شہباز شر یف اور ایوان صدر میں آصف علی زرداری کو لایا جارہا ہے ، تاہم اس موقع پرسوال اُٹھایا جارہا ہے کہ کیا یہ پارلیمنٹ چل پائے گی تو اس کا جواب بڑاہی واضح ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد جب تک ایک صفحہ پر رہیں گے تو یہ پارلیمنٹ بھی چلتی رہے گی

اور اس کے خلاف کوئی تحریک کامیاب بھی نہیں ہو گی ،لیکن اگر ایک پیج تبدیل ہو گیا تو پھر سب کچھ ہی بدل جائے گا ، حکومت رہے گی نہ ہی پارلیمنٹ چلے گی۔اگر چہ اس نئی اتحادی حکومت کو عوام کی مکمل حمایت حاصل نہیں ہے ،اس کے باوجودہر بار کی طرح اس بار بھی ہر ایک کی خواہش ہے کہ یہ حکومت نہ صرف اپنی مدت پوری کرے ، بلکہ در پیش چیلنجز پر بھی قابو پانے میں بھی کامیاب ہو جائے

، لیکن اس کیلئے ضروری ہو گا کہ ڈنگ ٹپائو پا لیسی اختیار کر نے کے بجائے اپنی دیر پا موثر حکمت عملی آپنائے ،اس کا ہدف یہ ہو نا چاہئے کہ ان کے اقتدار کی مدت جب تکمیل کو پہنچے تو ملک کی معاشی حالت پہلے سے بہتری کی جانب گامز ن ہوتی نظر آئے ،لیکن یہ سب کچھ تبھی ممکن ہو گا کہ جب اپنے ماضی کی ناکامیوں کو تسلیم کیا جائے گا اور اپنے گھسے پٹے آزمائے نسخوں کو دہرانے کے بجائے کوئی نیا فارمولہ آزمایا جائے گا ۔
اس آزمائی قیادت کے پاس کوئی نیا فار مولہ ہے نہ ہی کوئی موثر نیا فار مولا بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں ، اس لیے ہی خو د پر اعتماد کرتے ہیں نہ ہی ایک دوسرے پر اعتبار کیا جار ہے ،یہ اقتدار کی بند بانٹ کررہے ہیں ،مگر کوئی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں ہیں ، یہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کرحکومت بنار ہے ہیں ،مگر کا بینہ میں شامل نہیں ہو رہے ہیں ، اس فیصلے کے سیاسی محرکات اپنی جگہ ،لیکن اگر حکومت کی حمایت کے ساتھ ایسی شرط نہ باندھی جاتی تو مشکل حالات کا سامنا کرنا قدرے آسان ہو تا، یہاں ہر کوئی اپنی ذات سے آگے بڑھ کر باتیںتو بہت کرتا ہے ،مگر عملی طور پر اپنے ذاتی مفادات اور اپنی سیاست کا ہی خیال کرتا ہے ،اس میں ملکی و قومی مفاد بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔
اگر دیکھا جائے تو اس وقت ملک کو بہت سے چیلنج در پیش ہیں،اس میں بنیادی چیلنج ملکی نظام کا استحکام اور معاشی بد حالی سے عوام کو نکالنا ہے ،اس کام میں سب نے ہی اپنا حصہ ڈالنا ہے اور سبھی نے اپنا کردار ادا کر نا ہے ، اگر حزب اقتدار نے مفاہمت کے جذبے سے ہاتھ بڑھانا ہے تو حزب اختلاف نے بھی بڑھا ہاتھ تھامانا ہے ، اگرحزب اختلاف کی توجہ دھاندلی کے شور شرابے تک ہی محدود رہتی ہے اور قومی مسائل کے حل میںمناسب تجاویز کیلئے باہم مشاورت سے گریز کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج کبھی اچھے نہیں نکلیں گے ، ملک میں انتشار ک ذریعے عدم استحکا بڑھے گا ،جو کہ ملک و عوام کے مفاد میں بہترنہیں ہے۔
اس ملک عزیز کے عوام نے سیاسی جماعتوں کو اس لیے مینڈیٹ نہیں دیا ہے کہ ایوان اقتدار بد ستور ہنگامہ آرائی کا ہی گڑھ بنارہے ، اس جمہوری نظام میں جمہوری سوچ کا تقاضا ہے کہ قومی معاملات میں ہم آہنگی نظر آئے ، ایک دوسرے کا حترام ملحوظ خاطر رکھا جائے ، ملک و عوامی مسائل کے حل کیلئے ایک دوسرے کا دست بازو بنا جائے ،ایک عر صے سے پا کستانی عوام اپنے اقتدارکے ایوانوں میں متوازن منظر نامہ دیکھنے کو ترس رہے ہیں ، ایک عر صے سے سیاسی انتہا پسندی کا سامنا کررہے ہیں ،ایک عر صے سے اپناحق رائے دہی منوانے کا انتظار کررہے ہیں ، یہ نئی منتخب قیادت عوام کی اُمنگوں پر پورا اُتر سکتی ہے ، عوام کا فیصلہ مان کر عوام کی آرزو پوری کر سکتی ہے اور آمرانہ سوچ کو حقیقی جمہوری سوچ میں بدل سکتی ہے ،تاہم اس کیلئے اپنے روئیوں میں تبدیلی لانا ہو گی ، مفاہمت کی راہ اپنانا ہو گی ۔
اہل سیاست مفاہمت چاہتے ہیں اور اس کے دعوئیدار بھی رہتے ہیں ،لیکن مفاہمت کر نہیں پارہے ہیں،اس میں بڑی رکاوٹ عام انتخابات کے نتائج ہی نظر آرہے ہیں ،تحریک انصاف کے علاوہ کئی سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دے رہی ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ اس مسئلے کو نئے پارلیمانی سفر کے آغاز پر ہی منصفانہ طور پر حل کرلیا جائے، اپنامینڈیٹ چوری ہونے کا شکوہ کرنے والوں کو فارم45 کی بنیاد پر اپنا دعویٰ ثابت کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا جائے اور اس کا جو بھی نتیجہ سامنے آئے ،اُسے سب کی جانب سے تسلیم کیا جائے، محمود خان اچکزئی نے اپنی پارلیمانی تقریر میں ووٹ کو عزت دوکے نعرے کے حوالے سے ملک کی پوری سیاسی قیادت سے آئینی بالادستی پر اتفاق کی جو اپیل کی ہے، وہ نہایت بروقت اور برمحل ہے، اس پر عمل پیراں ہو کر پارلیمانی بالادستی لائی جاسکتی ہے اورجمہوری حکومت چلائی جاسکتی ہے، ،بصورت دیگر پارلیمان چلے گی نہ ہی حکومت اپنی مدت پوری کر پائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں