سیاسی اتحاد نا گزیر ہے ! 94

مررہا ہے بے چارہ غریب !

مررہا ہے بے چارہ غریب !

اس انتخابات میں عوام نے سیاسی جماعتوں کو منقسم مینڈیٹ دے کر بہت بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے،اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت کو اتنی اکثریت حاصل نہیں کہ وفاق میں تنہا ہی حکومت بنا سکے، اس لیے بھائو تائوکے ساتھ جوڑ توڑ کیا جارہا ہے ،اقتدار کی بند ر بانٹ ہورہی ہے ، ملکی سیاست جمہوری اصولوں کے بجائے زیادہ تر خواہش اقتدار کے تابع ہی دکھائی دیے رہی ہے،ملک و عوام کا کسی کو خیال ہے نہ ہی کسی کی ترجیحات میں شامل ہیں ،ملک دن بدن معاشی بد حالی کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے اورعوام بڑھتی مہنگائی سے تنگ نمونیا جیسی خوفناک مرض کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار رہے ہیں، غریب جائے تو جائے کہاں ، اگربھوک سے بچتا ہے تو بیماری سے مر جاتا ہے۔
یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ عوام مہنگائی بے روز گاری تنگ، مہلک بیماریوں سے مر رہے ہیںاور اہل سیاست کواقتدار کا کھیل کھیلنے سے ہی فرصت نہیں ہے، اْن کی سیاست کا محور اور مرکز ہی اْن کی اپنی ہی ذات ہے، عام آدمی کی بھلائی کا کوئی خیال ہے نہ ہی عام آدمی اُن کی تر جیحات میں شامل ہے، اس لیے جو بھی اقتدار میں آیا، اْس نے لوٹ مار ہی کی ہے، اپنے گھر بھرے ہیں اور سرمایہ اْٹھا کر باہر بھیج دیا ہے،

غیر ملکی بھاری قرضوں کا بوجھ ہمیشہ عام آدمی پر ہی ڈالا گیاہے ،ان کا جب بھی بس چلتا ہے، یہ تیل ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں، کیا انہیںمعلوم نہیں ہے کہ توانائی مصنوعات میں اضافے کامطلب صرف تیل یا گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں، بلکہ اس کے اضافے سے تمام اشیائے ضروریہ بھی مہنگی ہو جاتی ہیں، غریب جیئے یا مرے لوٹ مار کرنے والوں کو کوئی احساس ہے نہ ہی اقتدار کی بندر بانٹ کرنے والے کوئی غریب دکھائی دیتاہے، یہاں کوئی غریب بھوک سے بچا ہے تو نمونیا سے مر رہاہے۔
اگررواں سال میں اب تک محض پنجاب میں نمونیا سے ہونے والی ہلاکتوں کو دیکھا جائے تواس کی مجموعی تعداد 393تک جاپہنچی ہے ، جبکہ اس مرض سے 29ہزارسے زائد بچے متاثر ہو چکے ہیں،اس دوران حکومت اور محکمہ صحت کی کار کر دگی محض زبانی کلامی جمع خرچ تک ہی محدود رہی ہے ،جبکہ نمو نیا کی ادویات کی مار کیٹ سے عدم دستیابی مر یضوں اور ان کے لواحقین کی مشکلات دوچند کر نے کا ہی باعث بن رہی ہے،نگران حکومتی دعوئوں کے بر عکس سردی کی شدت میں نمایا کمی کے باوجود نمونیا کے کیسوں میں اضافہ ناقص حکومتی انتظامات کی نشاندہی کرتا ہے ،کیو نکہ اس مرض پر محض احتیاطی تدابیر سے قابو نہیں پایا جاسکتا ،اس کیلئے علاج معالجے کی بہتر سہولیات کا دستیاب ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔
اس نگران حکومت نے زمینی حقائق کا ادراک اور متبادل بندوبست کیے بغیر ہی صوبے کے بیشتر ہسپتالوں میں تعمیر و مرمت کاکام شروع کر دیا ہے ، اس کے سبب لاہور کے سارے ہی سر کاری ہسپتالوں کے بیشتر شعبہ جات بند پڑے ہیں اور مر یضوں کی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں ، متعلقہ حکام کو چاہئے کہ ہسپتال کی تعمیر و مرمت کاکام نہ صرف جلد از جلد مکمل کیا جائے ،بلکہ نمونیا سمیت دیگر امراض کی ادویات کی ارزاں نر خوں پر فراہمی بھی یقینی بنائی جائے ، تاکہ عوام علاج معالجے کی بہتر سہولیات میسر آسکیں ، لیکن اس کے برعکس نگران حکومت تو اپنی تیز سپیڈکی تشہیر کرنے میںہی لگی ہوئی ہے ۔
ملک بھر میںعام آدمی کی مشکلات دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہیںاور اہل سیاست کی اقتدار کی لڑائیاں ختم ہونے میں نہیں آ رہی ہیں، غریب عوام جائیں تو جائیں کہاں ؟ ہسپتالوں میں داخلے کی جگہ ملتی ہے نہ ہی ادویات دستیاب ہیں، دوسری طرف ڈرگ مافیا نے جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں از خود ہوشربا اضافہ کر دیا ہے

، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سمیت متعلقہ محکموں کی نا اہلی کے باعث شہری علاج معالجے سے محروم ہو رہے ہیں، فارما سوٹیکل کمپنیوں اور ڈرگ مافیا کو کوئی پوچھ نے والا ہے نہ ہی کوئی روک رہا ہے، ادویات کمپنیوں کے اثاثے بلین تک جا پہنچے ہیں اور تو اور پرچون بیچنے والے میڈیکل سٹورز بھی موٹا مال کما رہے ہیں، اْن کے پلازے آسمانوں کو چھورہے ہیں، جبکہ غریب زمین بوس ہی ہوئے جا رہے ہیں۔
اس وقت ملک تاریخ کے نازک ترین سے گزر رہا ہے، معیشت تباہ حال ہے اور غریب صحت کی عدم سہولیات کے باعث بلک بلک کر مر رہے ہیں، مائیں اور بچے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے سراپہ احتجاج ہیں، مہنگائی کا طوفان برپا ہے، ماحولیاتی تباہی اور بجلی ،گیس کی لوڈ شیڈنگ نے زندگی مفلوج بنا دی ہے، اس برے وقت میں مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی بجائے معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہے،

اس وقت عوامی مسائل پر بات کرنے والوں کا شدید قحط الرجال پایا جارہا ہے ،ایسے میں اہل سیاست اور اہل اقتدار کا ایسا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں عوامی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ اقتدار کا لالچ ہے، عوام کو واضح طور پر معلوم ہوچکا ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام اور ووٹ کوعزت دو، جیسے اشرافیہ کے نعرے انتہائی کھوکھلے ہیں، یہ آزمائی قیادت اور ان کے آزمائے نعروںسے کچھ بدلنے والا ہے نہ ہی غریب کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئے گی ، غریب کل بھی آزمائی اشرافیہ کی عیاشیوں کے بوجھ تلے مررہا تھا ، غریب بچارہ آئندہ بھی آزمائی قیادت کے ہی بوجھ تلے مرتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں