مستقبل کے راستے کا انتخاب ! 71

لاڈلے کا کھیل کب تک چلے گا!

لاڈلے کا کھیل کب تک چلے گا!

ملکی سیاست میں بظاہر جوکچھ نظرآرہا ہے،اس میں مسلم لیگ(ن) والے پْر اعتماد دکھائی دیتے ہیں کہ اقتدار اُن کی جھولی میں آ رہا ہے، اس لئے اُن کے انداز ہی بدلے بدلے ہیں،وہ پیپلز پارٹی قیادت کی تنقید پر توجہ دیے رہے ہیں نہ تحریک انصاف کو ہی خاطر میں لارہے ہیں ، اس کے باوجود تحریک انصاف کو یقین ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی حاصل کردہ حمایت نہ صرف موجو د ہے ،بلکہ اس میں اضافہ ہی ہورہاہے،

اگرچہ تحریک انصاف کے لئے ابھی تک فضا سازگار نہیں ہورہی ہے ،لیکن یہ بھاری پتھر جو لوگ اب بھی اٹھائے ہوئے ہیں، اُنہیںیقین ہے کہ حالات ان کے لئے اس حد تک سازگار ہی ضرورہیں کہ اگر انتخابی مہم نہ بھی چلانے دی گئی تو ان کاووٹ بینک متاثر نہیں ہوگا۔عام انتخابات میں کیا کچھ ہونے والا ہے ،یہ آنے والا وقت ہی بتا ئے گا ، لیکن اس وقت جوکچھ سامنے نظر آرہا ہے،اس میں کوئی جھول دکھائی نہیں دیے رہا ہے،

مسلم لیگ( ن ) کیلئے نہ صرف اقتدار میں لانے کے سارے راستے ہموار کیے جارہے ہیں ،بلکہ لاڈلہ بنا کر تاج پوشی کے انتظامات بھی کیے جارہے ہیں ، اس پر بلاول بھٹو زرداری خاصے مضطرب دکھائی دیتے ہیں ،وہ سمجھتے ہیں کہ اس بار انہیں موقع ملنا چاہئے ، مگر سر دست سیاست کی نبض بلاول بھٹو کیلئے نہیں دھڑک رہی ہے ، اس کے باوجود پیپلز پارٹی قیادت بضد ہے کہ وہ اپنے لیے نہ صرف اقتدار کے بند دروازے کھلیں گے،

بلکہ اقتدار میں آکر بھی دکھائیںگے ۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی حصول اقتدار کیلئے سر دھر کی بازی لگارہے ہیں،ایک طرف میاں نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں تو دوسری جانب آصف علی زرداری اپنے بیٹے بلاول کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں ، مسلم لیگ( ن) اور پیپلز پارٹی قیادت میںحصول وزارت عظمیٰ کی دوڑ لگی ہے ، میاں نواز شریف اپنی وزارت عظمیٰ کی ڈیل سے کسی ھدتک مطمین ہیں ،

جبکہ آصف علی زرداری نئی ڈیل کیلئے سر گرداں دکھائی دیے رہے ہیں ،اس ڈیل اور ڈھیل کے کھیل میں تحریک انصاف بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے ، وہ اپنے تائیں کو شش جاری رکھے ہوئے ہیں ،پس پر دہ ملاقاتوں میں ہوا کا رخ بدلنے کیلئے کا ئوشیں تیزی سے جاری ہیں ، اب دیکھنا ہے کہ ہوائوں کا رخ کب بدلتا ہے یا پھر ہوائیں اپنے طے کردہ راستے پر ہی چلتی رہیں گی؟اس ملک کی سیاست میں ہوائوں کا رخ بدلے نہ بدلے ،لا ڈلے بوقت ضرورت بدلتے ہی رہتے ہیں ، اس لیے ہر کوئی لاڈلہ بنے کو ہی تر جیح دیے رہا ہے

،کیو نکہ یہ سب ہی جانتے ہیں کہ لاڈلہ بنے بنا اقتدار میں آنا ممکن نہیں ہے،یہ سب اقتدار میں لانے والوں کے لاڈلے بننے کیلئے تو مرے جارہے ہیں، لیکن عوام کے لاڈلے بننے کیلئے تیار نہیں ہیں، یہ عوام کی نمائندگی کے دعوئے تو بہت کرتے ہیں ، لیکن عوام کی رائے دہی سے اقتدار میں آنے کیلئے تیار نہیں ہیں ، یہ عوام کی عدالت میں جانا چاہتے ہیں نہ ہی عوام کے فیصلوں کو مانتے ہیں ،یہ عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے انتخابات کا ڈھونگ ضرور رچاتے ہیں ،مگر لاڈلہ بن کر اقتدارمیں کہیں اور سے ہی آتے ہیں ،

اس ملک میںعوام کے لاڈلے پہلے آئے نہ ہی آئندہ آتے دکھائی دیتے ہیں۔اس لاڈلے سازی کے سارے عمل کو دیکھاجائے تواس میں ملک و عوام کا کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا ہے ، اس ملک میں اب تک کوئی لاڈلہ وزیر اعظم اپنی آئینی مدت پوری کر سکا نہ ہی کوئی لاڈلی حکومت اپنے مقرر اہ اہداف پورے کر پائی ہے ،اس میں کس کانقصان ہے اوراس نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟ اس نقصان کا ازالہ کیسے ممکن ہو سکے گا؟ اگر لاڈلوں کے انتخاب کا سلسلہ ترک نہ کیا گیا تو کیا آئندہ انتخابات کے انعقاد کو جمہوری عمل قرار دیا جا سکے گا؟ اور سب سے اہم سوال ہے کہ کون سے ایسے عوامل ہیں کہ جن کو بنیاد بنا کر لاڈلوں کا انتخاب کیا جاتا ہے

اور پھر وہ کون سے پیمانے ہیں جن کی بنا پر ان لاڈلوں کو قبل از وقت مسترد بھی کر دیا جاتا ہے؟ اس سوال کا جب تک کوئی ٹھوس جواب تلاش نہیں کیا جا ئے گا اور اس لاڈلے سازی کے سلسلے کو بند نہیں کیا جائے گا ،تب تک ملک میں ایک حقیقی مستحکم جمہوری حکومت کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے گانہ ہی کوئی عوام کا لاڈلا اقتدار میں آپائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں