قدرت کے کاموں میں دخل اندازی کرنے کی سزا بھی، عبرت ناک ہوا کرتی ہے" 102

راہزن ہی راہبر بننے لگے تو قافلوں کی حفاظت کیوں کر ہو؟

نقاش نائطی
۔ +966504960485

اس سنگھی مودی یوگی کی اسلام دشمن حکومت سے اور ہر روز انکی طرف سے آنے والے اسلام دشمن قوانین سے، یقینا دین اسلام خطرے میں نہ تھا لیکن جب دین اسلام اور فرائض اسلام ہی کے نام سے دھوکادہی کرنے والے مسلمانوں اور انکی تائید و حمایت کرنےوالے بعض علماء کرام کی داستانیں سامنے آتی ہیں تو ڈر لگنے لگتا ہے اب واقعی بھارت میں اسلام خطرے میں ہے۔

کرناٹک میں بڑے جانوروں کی قربانی پر روک کے چلتے،بہار بنگال میں دینی مدارس کی سرپرستی میں بڑے جانوروں کی قربانی یا صدقہ کروانے کے لئے، بڑے جانور پورا 10 ہزار میں اور فی حصہ ڈیڑھ ہزار روپیہ میں بڑے جانور کی قربانی یا صدقہ کروانے کے آشتہارات آجکل سائبر میڈیا پر دھڑلے سے چل رہے تھے یہاں تک کے ایسے ہی کسی گروپ کی طرف سے سستے میں بڑے جانور کی قربانی یا صدقہ کرواتے ہوئے اس قربان کئے جانور کے

گوشت سے مدارس کے غریب طلباء کو گوشت کھلاتے ہوئے ثواب دارین حاصل کیجئے جیسا 50 ہزار کا بڑا اشتہار، کرناٹک بنگلور کے مشہور اردو روزنامہ سالار میں تک دیا تھا۔ ڈیڑھ ہزار یا 16سو روپیہ میں ایک حصہ مطلب 10 سے 11 ہزار کا پورا بیل یا اور ایسی قربانیوں کے اشتہارات پر ایسے بے دردی سے رقم لٹائی جا رہی ہے تو غریب مسلمانوں سے قربانی و مرحومین کے نام صدقہ کے نام جمع روپیوں سے کیا واقعتا” بڑے جانور کی قربانی ہورہی ہے یا صرف یہ قربانی کے نام سے غریب و متوسط مسلمانوں کو لوٹنے کا ایک اور اسکیم ہے؟

دراصل یہ اسکیم ہو یا سازش اس کے پیچھے بھی ہمیں سنگھی سازشی ذہن گامزن دکھائی دے رہا ہے۔الحمدللہ اس کورونا وبا دور بعد بھی جو مدارس اپنے بے کسی کی حالت ،ایسے تیسے جو چل رہے ہیں اور واقعتا”مخلص علماء کرام کی محنت سےاور انکے تعلقات کی بناپر کچھ دین دار لوگ ان مدراس میں اپنے صدقہ جانوروں کی قربانی کرواتے ہوئے، غریب و مفلس طلبہ کو کچھ ہفتوں گوشت کھلوانے کا جو انتظام کرواتے رہے ہیں ایسے خود ساختہ قربانی اسکیم چلواتے ہوئے،ان مدراس کو ملنے والی اس امداد پر بھی قدغن لگانے کی سازش ہمیں یہ لگتی ہے۔

دوم اس مہنگائی دور باوجود کچھ متوسط لوگ مل کر اپنے حصہ داری سے جو قربانی یا صدقہ کیا کرتے تھےاس حکومتی گؤ ماس امتناع کے باعث بہت سے صوبوں میں بڑے کی قربانی یا صدقے سے جو محروم ہوگئے ہیں وہ عموما ان مدارس میں ہونے والی قربانیوں میں حصہ ڈالے ثواب دارین حاصل کررہے تھے اس پر بھی ان بدمعاشوں کی نظر پڑچکی ہے تو اس سے نہ صرف پورے اخلاص کے ساتھ ایسے مدارس اور ایسی اجتماعی قربانی کروانے والوں پر بھی لوگ شک کرنے لگیں گے۔اور اس عمل پر قدغن لگنے سے مخلص مدارس والے بری طرح متاثر ہونگے۔
ماضی میں بھی حلال معشیتی سرمایہ کاری کےنام سے مسلم معاشرے کو لوٹنے والے سازشی ذہن لوگوں کو !بھی ہم نے دیکھا تھا کہ کیسے وہ لوگ بعض علماء کرام کی سادگی کا غلط استعمال کرتے ہوئے،انکی معشیتی زندگی کے کچھ مسائل حل کرتے ہوئے یا انہیں تحفہ تحائف دیتے ہوئے، ان مخلص علماء کرام کو استعمال کر، کیسے انہوں نے، بھولے

بھالے مسلم عوام کو حلال انوئسٹمنٹ کے نام سے لوٹا تھا۔ اس لئے نہ صرف کرناٹک کے بلکہ پورے ملک کے مخلص علماء کرام کو چاہئیے کہ وہ مسلمانوں کا معشیتی استحصال کرنے والے سازشی ذہن لوگوں سے نہ صرف دوری قائم کئے رہیں بلکہ جو علماء باوجود تنبیہ و مناہی کے،ایسے فرضی اسکیم کی سرپرستی کرتے پائے جائیں تو ان سے نہ صرف برآت کا اعلان کیا جائے بلکہ مستقبل میں اسلام و دینی ہمئیت کے بہانے مسلمانوں کو معشیتی طور لوٹنے اور انہیں برباد کرنے والوں پر نکیل کسی جاسکے اور مسلم عوام کو بھی مستقبل میں ان عیاروں کے جھانسے میں نہ آنے دیا جاسکے

غیر مطلوبہ قربانی کرنے والوں کا بھانڈا پھوٹا
پچاس ہزار کا اشتہار اخبار میں شائع کرایا یہ رقم کہاں سے آئ؟
سنئے مکمل حقائق

شئیرکریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں