61

بھٹکل ہائی وے پر فلائی آوؤر تعمیر کا خواب، کیا پورا بھی کیا جاسکتا ہے؟

بھٹکل ہائی وے پر فلائی آوؤر تعمیر کا خواب، کیا پورا بھی کیا جاسکتا ہے؟

نقاش نائطی
۔ +966562677707ھ

قوم و ملک کی ترقی میں ایک حد تک قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ کچھ کھوتے ہیں ہی تو کچھ پانےکی امید کی جاسکتی ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ , کئی دہوں سے اپنا سینہ چوڑا کئے کھڑے رنگین کٹہ برگد کا تاریخی درخت اور بھٹکل کی پہنچان شمس الدین سرکل پر لگا “پیور گولڈ نشان امتیاز” اور اس پر رکھا گیا کئی ٹن وزنی پھتر بھی بحفاظت منتقل کرتے ہوئے,شاہ راہ توسیعی منصوبہ اپنے تکمیل کی طرف رواں دواں ہے ۔امید کرتے ہیں یہ کچھ قربانیاں شہر بھٹکل کو تمدنی ترقی پزیری کی راہ پر گامزن رکھ پائے گی۔
آج سے دس پندرہ سال قبل سے جب سے نیشنل ہائی وے 17 توسیعی منصوبہ شروع ہوا ہے شہر بھٹکل کی گنجان آبادی کے درمیان سے شہر بھٹکل کو دو لخت بانٹتا کاٹتا ہوا راہ گزر اپنے توسیعی منصوبے کے ساتھ یونہی ترقی پزیری کے مدارج طہ کریگا یا بھٹکل سے باہر، ریلوے ٹریک سے متصل نیشنل ہائی وے بائی پاس تعمیر کئے جاتے, شہر بھٹکل کو مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے حادثات، فرزندان قوم و ملت، جانی ومالی نقصان سے آمان دلاتے ہوئے, ملک و وطن کو ترقی پزیر کیا جائیگا؟

بھٹکل کی تاریخ شاھد ہے,تمدنی عصری تعلیم یافتگی ماورائیت باوجود, ہمارے جد امجد نے, بعد آزادی ھند, اس وقت بھی ترقی پزیر بھارت سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے, شہر بھٹکل کو بھی ترقی پزیری کے مدارج طہ کراتے کراتے, دیڑھ ہزار سالہ سالہ قومی اقدار کوباقی رکھنے ہی کے لئے, کئی سو سال قبل عدن, سلالہ بھٹکل تجارتی راہ استوار کرتے, قدرت کے عطا کردہ, خود ساختہ بھٹکل بندر گاہ کو ترقی پزیر کروانے کے بجائے, اپنے سیاسی اثر رسوخ کو استعمال کئے, شمال و جنوب مینگلور و کاروارکو, وہاں قائم بڑے بندرگاہ تعمیر کرائے, ترقی پزیر ہونے کو فوقیت دی تھی۔ اس اعتبار سے موجودہ قومی قیادت, قوم و ملت کی ترقی پزیری کا صدا دم بھرنے کے باوجود, ترقی پزیر شہر بھٹکل کو اپنے ریمپ طرز تعمیر شاہ راہ دولخت بانٹے گزرتے ہوئے

بھی, مستقبل میں فرزندان قوم و ملت کے شباب, حادثات اموات مرنے یا شہید ہونے سے ماورائیت دلانے, پوری طرح ناکام رہے ہیں خلیج کے ریگزاروں والے شہروں میں تعمیر کئے جانے والے مختلف شاہراوں کو جوڑتے مربعات پر تعمیر کئے جاتے پلوں والے خم دار پیچیدہ تر, فلائی اؤرز کا مکر جال دیکھے, جب ہم نے قوم و ملت کے سامنے پہلی دفعہ اپنے تحریر مضامین کے ذریعہ سے, شہر بھٹکل سے گزرتی شاہراہ پر فلائی اؤرز تعمیر کرائے جانےکی صلاح ذمہ داران قوم تک پہنچائی تھی

اور مجلس اصلاح و تنظیم تین رکنی وفد کا حصہ بنے دہلی ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے ذمہ داروں سےملاقاتیں کئے بھٹکل کے لئے فلائی اؤور تعمیر کرانے کی جستجو کی تھیں۔ان ایام ہائی وے آتھارٹی آف انڈیا کے ڈائرکٹر جنرل نے ہی ہمارا مدعا جاننے کے بعد, انکے اپنے مرکزی حکومتی تعمیری منصوبے میں کسی بھی ریاستی حکومت کی طرف سے رد و بدل سجھاؤ کی صورت, ریاستی حکومت یا انکی طرف سے پرائیویٹ تجارتی شراکتی کمپنی قائم کئے, ایک سو کروڑ تک وقتی سرمایہ کاری کئے, پبلک پرائیوٹ شراکتی معاہدے کے تحت بھٹکل ہائی پر فلائی اوؤر قائم کرانے کا سجھاؤ دیتے ہوئے کہا تھا

کہ یہ وقتی سرمایہ کاری ٹول ٹیکس کی صورت دگنا سرمایہ وصول کرنے کی مجاز ہوا کرتی ہے ۔ اور ھند میں ایسی متعدد ٹول ٹیکس کمپنیاں پہلے سےموجود ہیں, جو کسی بھی ایسےشاہراہ منصوبے سرمایہ کاری ٹول ٹیکس سمجھوتہ معاہدہ بعد, سرمایہ کاروں سے دگنی قیمت دئیے وہ ٹول ٹیکس پرمٹ ہم جیسوں سے خریدنے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ یہ ٹول ٹیکس وصولیابی تجارت بھی مافیا طرز, کالے دھن کو سفید بنانے مصروف عمل رہا کرتی ہیں۔ ہم نے تو یہ سوچا تھا کہ قوم کے شرفاء و زرداران کے سامنے یہ منصوبہ رکھے

ہم بڑی آسانی کے ساتھ احباب بھٹکل کو مستقبل میں تیز تر دوڑتے گزرتے ٹریفک حادثات سے فرزندان قوم و ملت کو آمان دلاتے , شہر بھٹکل دولخت تقسیم ہونے سے بچاتے شہر بھٹکل ہائی وے پر بیرون ممالک جیسے, اور اب متعدد ہندستانی شہروں تک پہنچے شاندار فلائی اؤور بھٹکل شاہراہ پر قائم کرنے کروانے ہم کامیاب رہیں گے۔ اس سمت 2014مجلس اصلاح و تنظیم صدسالہ اختتامی جلسہ میں مہمان خصوصی کی حیثیت حاضر جلسہ ہونے تشریف لائے چیف منسٹر سدا رامیہ ہیلیکوپٹر پرواز سے بھٹکل تشریف لائے تھے

۔ وائی ایم ایس اے گراؤنڈ پر تقریب اخری سے کچھ دیر پہلے جلسہ گاہ ہی میں اہتمام کردہ دعوت طعام دوران انہیں کھانا پروستے پروستے آنجہانی قاید قوم سید خلیل الرحمن صاحب کے لب و رخسار تک اپنی فلائی اوؤر کی بات رکھتےرکھتے, اس وقتہ ہمارے پیغام تعمیر فلائی اوؤر کو چیف منسٹر کےذہن و دماغ تک منتقل کرنے, نہ صرف کامیاب رہے تھے۔ بالکہ اس وقت آخری لمحات انکے گوش گزار کی گئی

بات کو, اس وقت چیف منسٹر سدا رامیہ نے بھٹکلی عوام کا دل جیتنے کی اپنی سعی ناتمام ہی کی خاطر اپنی عوامی تقریر میں شہر بھٹکل ہائی پر فلائی اوؤر تعمیر کر دینے کا وعدہ عوامی سطح کیا تھا, جو یقینا” 2014 چیف منسٹر سدا رامیہ کی تقریر کے, فلائی اوؤر دئیے جانے والے الفاظ ہزاروں فرزندان قوم کے کانوں میں ابھی تک گونج رہے ہونگے اور مجلس اصلاح تنظیم ذمہ داروں کے پاس اسوقت چیف منسٹر کی,کی گئی تقریر صوتی یا متحرک تصاویری موجود بھی رہے گی۔
البتہ صدا قوم پر اپنی سرمائہ دارانہ تمکنت سے رہبری قوم ہی کے بہانے, اپنی من کی بات عمل آوری کروانے والے روساء و شرفاء قوم, وطن و ریاست ہی کی بھلائی کی خاطر, اپنی بے تحاشہ دولت خداداد کا کچھ فیصد سرمایہ وقتی فلائی اوؤر منصوبے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں

تو انہیں حاصل ہونے والے دگنے فائدے کے علاوہ قوم کو بھی انکا احسان مند ہوتے وہ یقینا” پائیں گے۔فلائی اوؤر قومی سرمایہ کاری کے لئے منطقہ شرقیہ دمام عوامی اجلاس میں, دس بارہ سال قبل ہم نے یہی منصوبہ زرداران و شرفاء کے سامنے پیش کیا تھا تب “بغیر سرمایہ کاری سکت کے, دوسروں کو صلاح مشورے دینا آسان” یہ کہتے ہوئے, اس وقت ہمارے لب سی دئیے جانے کی سعی کی گئی تھی۔ رزاق دو جہاں کے تقسیم رزق فیصلوں کے آگے اس کے سواہم کیا کرسکتے تھے ماسوائے اسکے وقت وقت کے ساتھ اللہ کی طرف سے یمیں عطا ‘نعمت گویائی تحریر’ مقالے لکھے عوامی آگہی کی کوشش ہم کرتے، جو ہم نے اپنے متعدد رائیٹ آپ سے صدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔

دیر آید درست آید مصداق اب بھی منصوبہ بند کوشش کی جائے تو ,اہل بھٹکل کے جوان سال سپوتوں کی وقت وقت سے سڑک حادثات دی جانے والی آہوتی یا شہادتوں سے بچنے اور بچانے کی فکریں تدبیریں کی جاسکتی ہیں۔ فی زمانہ بساط سیاست و خدمت قوم پر، اپنا اخلاقی دباؤبرقرار رکھے قوم کی رہبری کرنے والے شرفاء و زرداران کی پہنچ ریاستی ایوانوں تک بخوبی رسائی ہے۔ ایسے میں شہر بھٹکل و ریاستی ترقی پزیری کے لئے عوامی حکومتی شراکتی منصوبے کے تحت شرفاء وزرداران وقتی سرمایہ کاری کرنے آگے آتے ہیں

تو اب بھی شہر بھٹکل ہائی وے پر خوبصورت دیدہ زیب فلائی اوؤر تعمیر کئے،ہائی وے پر تیر رفتار دوڑتی گاڑیوں سے مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے حادثات شہادات شباب قوم کو،آمان دلائی جاسکتی ہے۔اس سمت اپنی معشیتی حد بندی باوجود,بھٹکل ہائی وے پر فلائی اوؤر تعمیر کرانے والے خواب سراب سے, آخری لمحات تک ہم مایوس ہو بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ صوبہ کرناٹک شہر مینگلور کے شہرہ آفاق بلڈر آل عرب آل یمن آل نائطہ فرزند قوم، محتشم ارشد صاحب و انکے برادران سابقہ چار دہے

کی اپنی تعمیری مصروفیات, فخر شہر مینگلور سٹی سینٹر مال اورمتعدد آسمان چھوٹی عمارتوں سمیت کم و بیش نصف صد سے زاید پچپن تعمیری پروجیکٹ تکمیل کئے,اور اب تقریبا” پچاس منزلی طویل تر عمارت وسط مینگلور تعمیر کرتے, اپنے نئے پروجیکٹ کے ساتھ, اپنے پشتینی حضرمی یمنی قوم کے آل “محتشم”کا نام فلک شگاف عمارتوں پر آویزاں کئے, “فخر قوم بھٹکل” منصب تمکنت پر براجمان جو ہیں،انکے ریاستی اسپیکر یوٹی قادر اور خود چیف منسٹر سدا رامیہ سے براہ راست تعلقات کے چلتے,

ہم نے ان سے ذاتی ملاقات کئے, ان سے بھی درخواسٹ کی ہے کہ وہ یوٹی قادر اور چیف منسٹر صلاح کار بی زڈ ضمیر احمد خان جو ریاستی منسٹر بھی ہیں انکے توسط سے شہر بھٹکل کے وسط سے گزرتی شاہراہ پر وقت وقت سے وقوع پذیر ہونے والے حادثات میں کھوئے جانے والی شباب قوم کی شہادتوں کاے تذکرہ کئے اور چیف منسٹر سدا رامیہ کے بھٹکل عوامی سطح اپنی تقریر میں اہل بھٹکل کو ہائی وے فلائی اوؤر دئیے جانے والے انکے ماضی کے وعدے کو یاد دلائے,بھٹکل کےلئے ‘حصول فلائی اوؤر’ کی از سرنؤ کوشش کرنے کی درخواست ہم نے ان سے کی ہے
خوش قسمتی سے کچھ توقف بعد آج بھی کرناٹک کے سب سے بڑے منصب تمکنت چیف منسٹر پر سدا رامیہ صاحب ہی براجمان ہیں اور اب بھی ذمہ داران قوم ایک وفد کی صورت اسمبلی سیشن دوران چیف منسٹر سے ملتے ہیں

اور انکی اہل بھٹکل کو فلائی اوؤر دینے کے وعدے والی تقریر صوتی نقل انکے سامنے رکھتے ہوئے, ان سے مودبانہ درخواست کرتے ہیں تو ہمیں امید ہے وہ سرکاری فنڈ ہی سے فلائی اوؤر تعمیر کروا دےسکتے ہیں یا کسی عوامی این جی او کو سامنے کئے, پی پی پی شراکتی معاہدے کے تحت فلائی اوؤر تعمیر کرائے ٹول ٹیکس انکا سرمایہ دگنا وصول کروانے کا بندوبست کروا سکتے ہیں۔اور اگر صدا اپنے زرتمکنت سے قوم کی نیابت کرنے والے زرداران و شرفاء آج بھی آپسی شراکتی تجارتی کمپنی قائم کئے, اپنے ہزاروں کروڑ دھن دولت و ملکیت سے کچھ فیصد وقتی سرمایہ شہر بھٹکل کو نہ صرف حادثات سےآمان دلاتے بالکہ روزانہ کی بنیاد پر وسط شہر سے گزرتی ہزاروں گاڑیوں کو فلائی اوؤزر پر تیز تر دوڑانے کا ۔وقعت فراہم کرتے ہزاروں لیٹر پیٹرول و وقت بچت کئے, سالانہ ہزاروں کروڑ کی بچت کروائے ملک و وطن کو ترقی پزیری کی شاہراہ پر دوڑا بھی سکتے ہیں۔ وما علینا الا البلاغ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں