تحریر نعیم الحسن نعیم 112

.قلم سے بندوق تک آزاد کشمیر کے نوجوان کس موڑ پر کھڑے ہیں؟

.قلم سے بندوق تک آزاد کشمیر کے نوجوان کس موڑ پر کھڑے ہیں؟

تحریر نعیم الحسن نعیم
ماہِ رمضان وہ مہینہ جس میں آسمانوں سے رحمتیں نازل ہوتی ہیں دلوں میں نرمی اترتی ہے اور انسان اپنے رب سے لو لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ماں اپنے بچوں کے لیے سحر میں دعائیں مانگتی ہے باپ افطاری کے دسترخوان پر سب کو اکٹھا دیکھ کر شکر ادا کرتا ہے اور نوجوان مسجدوں میں صفیں باندھ کر اپنے مستقبل کے لیے خیر مانگتے ہیں۔مگر کتنی دردناک حقیقت ہے کہ اسی بابرکت مہینے میں آزاد کشمیر کی فضاؤں میں گولیوں کی آواز گونجی اور دو گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گئے۔ پہلے حویلی میں رفاقت گجر کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ ابھی اس صدمے کی لہر تھمی بھی نہ تھی

کہ چکار میں فائرنگ کے واقعے میں شدید زخمی ہونے والا نوجوان زریاف خطیب بھی زندگی کی جنگ ہار گیا۔یہ صرف دو واقعات نہیں۔ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر لگنے والے دو زخم ہیں۔ یہ دو قبریں نہیں یہ دو سوال ہیں جو ہم سب سے جواب مانگ رہے ہیں۔
ایک ماں کا دکھ ایک قوم کی خاموشی ذرا تصور کیجیے اُس ماں کا جو سحر کے وقت بیٹے کو جگاتی تھی وہ ماں جو افطار کے وقت اس کی پسند کا پکوان بناتی تھی آج اس کے بغیر دسترخوان کو دیکھ کر آنسو بہا رہی ہے۔

کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ایک گولی صرف ایک جسم کو نہیں چیرتی وہ ایک پورا خاندان زخمی کر دیتی ہے؟ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ایسے واقعات کو چند دن سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں تعزیتی پوسٹ لکھتے ہیں اور پھر معمول کی زندگی میں لوٹ جاتے ہیں۔ مگر جن گھروں میں یہ قیامت ٹوٹتی ہے وہاں وقت رک جاتا ہے۔ نوجوان کے ہاتھ میں بندوق کیوں؟
یہ سوال بار بار اٹھتا ہے اور ہر بار دب جاتا ہے۔ آخر کیوں ہمارے پڑھے لکھے نوجوان کے ہاتھ میں قلم کی جگہ بندوق آ گئی ہے؟ کیوں ایک معمولی تکرار جان لیوا دشمنی میں بدل جاتی ہے؟ کیوں انا برداشت پر غالب آ جاتی ہے؟اج عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے زہر نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے.

ہم ایک ایسے معاشرے میں بدل چکے ہیں جہاں اختلاف رائے کو برداشت کرنا کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے جذبات کو فوری اظہار کی سہولت دی مگر ساتھ ہی غصے کو بھی تیز کر دیا۔ ایک پوسٹ ایک تبصرہ ایک الزام اور معاملہ ہاتھا پائی سے گولی تک جا پہنچتا ہے۔ہم نے اپنے نوجوانوں کو یہ نہیں سکھایا کہ ہار جانا زندگی کا اختتام نہیں اور بحث میں پیچھے ہٹ جانا بزدلی نہیں بلکہ دانائی ہو سکتی ہے۔
اسلحے تک آسان رسائی آزاد کشمیر جیسے خطے میں اسلحہ رکھنا بعض جگہوں پر فخر سمجھا جاتا ہے۔ طاقت کی علامت رعب کی نشانی۔ جب ہتھیار آسانی سے دستیاب ہوں تو غصے کا لمحہ فیصلہ کن بن جاتا ہے۔ اگر ہاتھ خالی ہو تو شاید بات لفظوں میں ختم ہو جائے مگر جب ہاتھ میں بندوق ہو تو انجام اکثر خون ہوتا ہے۔ معاشی دباؤ اور بے روزگاری نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں خواب دیکھتے ہیں مگر جب روزگار کے دروازے بند نظر آتے ہیں تو مایوسی دل میں گھر کر لیتی ہے۔ مایوس ذہن جلد اشتعال کا شکار ہوتا ہے

۔ بے روزگاری صرف مالی مسئلہ نہیں یہ ذہنی اور سماجی بحران بھی ہے۔ کیا یہ صرف فرد کا جرم ہے؟ ہم ہر قتل کے بعد کہتے ہیں قاتل کو سخت سزا دو۔ یقیناً سزا ضروری ہے۔ مگر کیا ہم نے یہ سوچا کہ قاتل پیدا کیسے ہوا؟ ایک بچہ نفرت لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ اسے نفرت سکھائی جاتی ہے۔ ایک نوجوان بندوق لے کر نہیں چلتا اسے حالات وہاں تک لے جاتے ہیں۔گھر میں اگر بات چیت کی روایت ختم ہو جائے اگر باپ مصروف اور ماں بے بس ہو اگر استاد صرف نصاب مکمل کرنے تک محدود ہو اگر معاشرہ تماشائی بن جائے تو پھر نوجوان کی رہنمائی کون کرے گا؟ آزاد کشمیر میں بڑھتے ہوئے جرائم ایک تلخ حقیقت ہے

. آزاد کشمیر کو اکثر ایک پُرامن خطہ کہا جاتا ہے اور مجموعی طور پر یہ بات درست بھی ہے۔ مگر مقامی سطح پر باہمی دشمنی زمین کے تنازعات برادری جھگڑے سوشل میڈیا کی بنیاد پر ٹکراؤ اور نوجوانوں کے گروہی تصادم میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ جرائم زیادہ تر منصوبہ بندی سے زیادہ جذباتی ردِعمل ہوتے ہیں۔ غصے کا ایک لمحہ اور زندگی بھر کی پشیمانی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اگرچہ جرائم کی شرح بڑے شہروں کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہے مگر رجحان خطرناک ہے۔ کیونکہ یہ رجحان نوجوان نسل میں سرایت کر رہا ہے۔
آزاد کشمیر پولیس اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری ہوتی ہے مقدمات درج ہوتے ہیں تفتیش آگے بڑھتی ہے۔کئی افسران ایمانداری اورجانفشانی سے کام بھی کرتے ہیں۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اثرورسوخ قانون پر غالب آ جاتا ہے۔ ایک چھوٹے معاشرے میں سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ سیاسی شخصیات بااثر خاندان برادری کا دباؤ یہ سب تفتیش پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ کبھی گواہان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کبھی صلح کے نام پر کیس کمزور کیا جاتا ہے کبھی تفتیشی افسر بدل دیا جاتا ہے۔
جب عوام یہ دیکھتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر نہیں تو اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ نوجوان یہ پیغام لیتے ہیں کہ طاقت اور تعلق قانون سے بڑا ہے۔ یہی سوچ جرائم کو جرات دیتی ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ ہر کیس میں ایسا ہوتا ہے مگر جہاں بھی ہوتا ہے وہاں انصاف کا وقار مجروح ہوتا ہے۔عدالتی تاخیر انصاف کی کمزوری مقدمات برسوں چلتے رہتے ہیں۔ گواہ تھک جاتے ہیں متاثرہ خاندان مایوس ہو جاتا ہے اور ملزم کبھی ضمانت پر باہر آ جاتا ہے۔ تاخیر انصاف کو کمزور کر دیتی ہے۔ جب سزا یقینی اور فوری نہ ہو تو جرم کا خوف بھی کم ہو جاتا ہے۔
سدباب کیسے ممکن ہے؟اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو جذبات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ اسلحہ کنٹرول غیر قانونی اسلحے کے خلاف سخت اور مسلسل مہم ضروری ہے۔لائسنس نظام کی شفافیت اسلحہ نمائش پر مکمل پابندی اور خلاف ورزی پر فوری کارروائی ناگزیر ہے۔ تعلیم میں کردار سازی نصاب میں برداشت مکالمہ تنازع حل کرنے کی مہارت اور اخلاقی تربیت کو شامل کرنا ہوگا۔ کالج اور یونیورسٹی سطح پر کونسلنگ سینٹر فعال کیے جائیں نوجوانوں کے لیے مثبت مواقع
کھیلوں کے میدان آباد ہوں فنی تربیت کے مراکز کھلیں روزگار اسکیمیں شفاف ہوں۔ مصروف اور بااختیار نوجوان کم شدت پسند ہوتا ہے۔ پولیس اصلاحات
سیاسی مداخلت کا خاتمہ جدید تفتیشی نظام گواہ تحفظ پروگرام احتساب کا شفاف نظام معاشرتی بیداری
مساجد میڈیا تعلیمی ادارے سب کو برداشت اور امن کا پیغام عام کرنا ہوگا۔ جرگہ اور ثالثی کے روایتی نظام کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے مضبوط بنایا جا سکتا ہے والدین کی ذمہ داری گھر پہلا مدرسہ ہے۔ اگر بچہ گھر میں چیخ و پکار دیکھے گا تو باہر بھی یہی رویہ اپنائے گا۔ اگر اسے سکھایا جائے گا کہ کوئی تم سے آگے نہ نکلے تو وہ ہر قیمت پر جیتنے کی کوشش کرے گا۔ مگر اگر اسے سکھایا جائے کہ انسانیت سب سے بڑی جیت ہے

تو وہ بندوق نہیں اٹھائے گا۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں سے بات کریں ان کے دوستوں اور مصروفیات پر نظر رکھیں انہیں اسلحے اور تشدد کی تعریف سے دور رکھیں مذہبی تعلیم کے ساتھ اخلاقی تعلیم بھی دیں کیا ہم بدل سکتے ہیں؟ رفاقت گجر اور زریاف خطیب واپس نہیں آئیں گے۔ مگر کیا ہم ان کی موت کو ایک موڑ بنا سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ طے کر سکتے ہیں کہ آئندہ کوئی نوجوان انا کی خاطر جان نہ گنوائے؟ رمضان ہمیں نفس پر قابو پانا سکھاتا ہے۔ اگر ہم واقعی اس مہینے کی روح کو سمجھ لیں تو شاید ہمارے معاشرے کی سمت بدل جائے۔

یہ کالم کسی ایک ادارے ایک خاندان یا ایک فرد پر الزام نہیں۔ یہ اجتماعی احتساب کی دعوت ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی نسل کو قلم کی طاقت برداشت کی اہمیت اور قانون کی برتری نہ سکھائی تو کل بندوق کی آوازیں ہمارے گھروں کے سکون کو چھین لیں گی۔آخری سوال ہم کیسا آزاد کشمیر چاہتے ہیں؟ وہ جہاں نوجوان ہاتھوں میں کتاب لے کر مستقبل سنوارتے ہوں؟ یا وہ جہاں ہر گلی میں دشمنی کی کہانی ہو؟
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم نے اثرورسوخ کو مسترد کر دیا قانون کو مضبوط کیا تعلیم کو اخلاق سے جوڑا اور اپنے نوجوانوں کو سنا تو یقیناً آزاد کشمیر پھر سے امن اور محبت کی مثال بن سکتا ہے۔ ورنہ تاریخ یہ لکھے گی کہ ہم نے سب کچھ دیکھا سب کچھ سمجھا مگر خاموش رہے۔ اور کبھی کبھی خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں