قرض کا بوجھ اور عوام !
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر شدید دبائوکا شکار ہے اور اس پر بڑھتے ہوئے قرضوں اور ٹیکسوں کا بوجھ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر رہا ہے، لیکن حکو مت ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہے کہ معیشت پرکوئی دبائو ہے ،بلکہ اس بات کی دعوئیدار ہے کہ معیشت مستحکم ہورہی ہے ،اس پر ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ملک کی مسلسل مالی بے ضابطگیاں اسے بار بار عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبورکررہی ہیں، آئی ایم ایف سے وقتی طور پر کچھ ریلیف تو ضرور ملتا ہے، مگربنیادی مسائل جوں کے توں ہی چلتے رہتے ہیں، جیسا کہ ہمارے ہاں مسلسل چل رہے ہیں۔
اس ملک میں ہردور اقتدار میں معیشت کو قر ضوں کے سہارے ہی چلایا جاتا رہا ہے اور اس بار بھی قر ضوں پر قرض لے کر ہی چلانے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس قر ض کو اُتارنا اور اس سے جان چھڑانا تو دور کی بات ،اس قر ض کو لینے سے خود کوروکا بھی نہیں جارہا ہے ، بلکہ دونوں ہاتھوں سے مسلسل جہاں سے بھی ملے ، بغیر کسی ہچکچاہٹ لیاجارہا ہے،اس کے باعث ہی پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم 138 ارب ڈالر کی خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے، جبکہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات ہے کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں‘ گزشتہ تین سال کے دوران 84 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے ۔
اس وقت دیکھا جائے توبیرونی قرضوں پر آٹھ فیصد تک شرح سے سود ادا کیا جا رہا ہے اور سود کی ادائیگی کا حجم‘ جو تین سال قبل تک ایک ارب 91 کروڑ ڈالر تھا‘ اب بڑھ کر تین ارب 59 کروڑ ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے ،گزشتہ مالی سال سود سمیت قرضوں کی واپسی کی مد میں 13 ارب 32 کروڑ ارب ڈالر ادا کئے گئے ،اس میں سے نو ارب 73 کروڑ ڈالر اصل قرض کی واپسی ،جبکہ ساڑھے تین ارب ڈالر سے زائد سود کی مد میں تھے ،رواں مالی سال کے بجٹ میں قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب روپے مختص کیے گئے تھے‘
جو کہ وفاقی حکومت کے سارے اخراجات کا تقریباً 47 فیصد بنتے ہیں‘ یعنی حکومت کا تقریباً آدھا بجٹ عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہونے کے بجائے عالمی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے۔
اس وقت کے حالات کا تقاضا ہے کہ بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرکے فنڈنگ کے ذرائع کو متنوع بنا کرپائیدار ترقی کو فروغ دینے اور قرض کے انتظام کی صلاحیت کو بہتر بنانے پر کام کیا جائے،علاوہ ازیں کرنسی کی قدر میں کمی، افراط زر، سیاسی عدم استحکام اور متضاد اقتصادی پالیسیوں جیسے عوامل کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے حکومت کو غیر ملکی قرضوں پر کم انحصار کو ترجیح دیتے ہوئے طویل مدتی قرض کے انتظام کی ایک جامع حکمت عملی وضع کرنی چاہئے
،یہ حکمت عملی موجودہ قرضوں کی ادائیگی، نئے قرضوں کے جمع ہونے کو روکنے اور فنڈنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے پر مشتمل ہونی چاہئے ،قرض لینے کی لاگت کو کم کرکے، قرض کی پائیداری کو بڑھا کر، سرمایہ کاروں کے اعتماد و شفافیت کو فروغ دے کر اور اقتصادی ترقی کو سہارا دے کربیرونی قرضوں کو لاحق خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
اس کے لئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے روایتی عالمی مالیاتی اداروں سے ہٹ کر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، بین الاقوامی منڈیوں میں بانڈز جاری کرنا، مالی امداد کے متبادل راستے تلاش کرنا ہی مخصوص قرض دہندگان پر انحصار کم کر سکتا ہے،اس کیلئے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے
، جو کہ حکو متیں بنانی ہیں اور اس پر عمل پیراں بھی ہو تی ہیں ، لیکن یہاں کی حکومتیں قرضے لے کر حکومتی اخراجات بڑھاتی اور شاہانہ اخراجات کرتی ہیں اور بچت پر کوئی توجہ نہیں دیتیں اور قرضے اتارنے کے لیے مزید قرضے سود پر لیتی ہیں اور سود کی رقم کی ادائیگی کرتی ہیں اور قرضہ چڑھتا رہتا ہے، پھر وہ قرضہ اتارنے کے لیے مزید قرضہ لیا جاتا ہے تو ترقی کیسے ہو سکتی ہے، قرض اتارنے کے لیے اپنے اخراجات کم کرنا پڑتے ہیں، تب کہیں جا کر قرضے اترتے ہیں اور ان کے لیے ترقی ممکن ہوتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اعداوشمار کے گو رکھ دھندے اور چھوٹے بیا نیہ سے باہر نکل کر معیشت کی بنیادوں کے سدھار پر سنجید گی سے توجہ مرکوز کی جائے، حکمران طبقہ اپنے اخراجات کم کر کے برآمدات بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے، عام آدمی پر ٹیکس بڑھانے کے بجائے اشرافیہ اور غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے ، ہر پاکستانی پر قرضے کا بوجھ 13فیصدا ٓضافے کے ساتھ3لاکھ 33ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے،اگر اب بھی حکمران اشرافیہ نے اپنی ذات سے نکل کر ملک کے معاشی استحکام کو اولیت نہ دی تو آنے والی نسلوں کا مستقبل قرضوں اور سود کی ادائیگی کی نذر ہی ہو کر رہ جائے گا۔