پا کستان کی پس پردہ ثالثی !
اسرائیل کو ایران سے خطرہ ہے اور اسرائیل ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ ایران کی بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت کا خاتمہ کیا جائے ،اس میں امر یکہ اسرائیل کا مکمل ساتھ دیے رہا ہے ، امر یکہ اور اسرائیل دونوں ہی ایران پر حملے کے لیے موقع کی تلاش میں ہے، تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ کوئی متبادل راستہ اختیار کیا جائے گا،اس حوالے سے ترک نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ترکی کے وزیر دفع کا کہنا ہے
کہ زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل ایران کے خلاف کارروائی کا موقع ڈھونڈ رہا ہے، جو کہ خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے‘ اگر اس قسم کا کوئی اقدام کیا گیا تو مشرقِ وسطیٰ مزید عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا اور حالات مزید بگڑ سکتے ہیں،کیا امر یکہ اور اسرائیل مل کر موقع ملنے پر ایران پر حملہ کر سکتے ہیں؟
یہ سب سے اہم سوال ہے اوراس کا جواب بالکل ہاں میں ہے ، لیکن اس وقت حالات ساز گار نہیں ہیں ،اس کا اظہار اسرائیل نے امر یکہ کے ساتھ بھی کیا ہے ، اس لیے ہی کوئی ایسا ایڈ ونچر نہیں کیا جارہا ہے،بلکہ ثالث کو درمیان میں ڈال کر معاملہ ٹالا جارہا ہے اور اس ثالثی کا کردار پا کستان ادا کررہا ہے ،
پا کستان نے پہلے بھی اسرائیل اور ایران جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا اور اس بار بھی بڑے مو ٔثر انداز میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے ،اس کے باعث ہی ایران ، امر یکہ کشید گی روک پائی ہے ،کیو نکہ ایران اور پاکستان کے تعلقات موجودہ وقت میں ایک اچھے دور سے گزر رہے ہیں اور پاکستان ہر طرح کی خلاقی و سفارتی سپورٹ ایران کو فراہم کر رہا ہے۔
اس کا واضح ثبوت، ایران میں ہونے والے حالیہ احتجاجوں پر جب دنیا میں بات ہونے لگی اور رجیم چینج جیسے نعرے لگے تو پاکستان نے ہی ایران کا ساتھ دیا ، پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پس پردہ نہ صرف ثالثی کا کردار ادا کیا، بلکہ ایران میں پھانسی کی سزا کے خاتمے سے متعلق پیغامات اور بات چیت میں بھی اہم کردار ادا کیا
،اس کے بعد ہی معاملات کنٹرول میں آ ئے اور ایران نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال بھی چھوڑ دیا،پاکستان نے ایران کے معاملے پر اپنا موقف دنیا کے سامنے نپا تلا رکھا ہے، پا کستان کو ایران کی قیادت اور عوام پر پختہ یقین ہے کہ وہ ان احتجاجوں اور حالات سے نمٹ لیں گے ،اس خاموش سفارت کاری کی ہی بدولت خطے میں پا کستان کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
دنیا پا کستان کی اہمیت اور افادیت کا اعتراف کر نے لگی ہے اور پا کستان کی سفارت کاری کو سراہنے لگی ہے
،پا کستان فلسطین کی ا ٓزاد ریاست کے قیام کے ساتھ ایران کی خود مختاری پرنہ صرف آواز اُٹھارہا ہے ،بلکہ مکمل ساتھ بھی دیے رہا ہے،گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں بھی ایران کے معاملے پر پاکستان ان کے ساتھ کھڑا رہا اور ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، اس موقف پر پاکستان میں موجود ایران کے سفیر نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا شکریہ بھی ادا کیا، اس کے علاوہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ہر موقع پر اسحاق ڈار کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں
، اسحاق ڈار کے متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے کے دوران بھی عباس عراقچی نے ان سے رابطہ کیا،اس سے قبل جب امریکہ نے ایران کے اندر ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تھا، اس وقت بھی پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا رہا اور امریکہ و ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اس دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار، امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے تھے ، اس بار بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے کردار کی تصدیق اسحاق ڈار نے بھی کی ہے اور بڑے واضح الفاظ میں بتا یا ہے کہ ایران
پاکستان کا برادر اور ہمسایہ ملک ہے، اور اس کا مؤقف پس پردہ ہی سہی،مگر بڑے واضح انداز میں سامنے رکھا گیا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ امر یکہ اور اسرائیل ایک اچھے موقع کی طاق میں ہیں ، ایک موقع ضائع کر چکے ،دوسرا نہیں کریں گے ، یہ دونوں ہی ایران میں رجیم تبدیل کر نا چاہتے ہیں اور اس کیلئے ہر حر بہ آزمایا جارہا ہے ،کیو نکہ اسلامی انقلاب سے دونوں کو ہی شدید خطر ہ لاحق ہے ، امر یکہ کیلئے ایک طرف ایران رجیم تبدیل کر نا تو دوسری جانب گر ین لینڈ کی خر یداری چیلنج بنا گیا ہے اور دونوں ہی جانب سے شد ید مزحمت ہورہی ہے
،اگر دونوں ہی امر یکہ کے خلاف ڈٹے رہے تو امر یکہ کے پاس جنگ کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہے گا، اگر جنگ ہوئی تو پھیلنے کے زیادہ چانس ہیں،اس لیے دونوں ہی جانب ثالثی ہورہی ہے اور اس میں سعودی عرب ، ترکی اور پا کستان نمایاں کردار ادا کررہے ہیں، امر یکہ بھی بظاہر تاثر دیے رہا ہے کہ وہ جنگ نہیں کرے گا ، بلکہ بات چیت کے ذریعے ڈیل کرے گا،اگر ثالثی اور ڈیل کا میاب نہ ہو پائی تو پھر ایک بڑی جنگ کے شعلوں سے پوری دنیا کوکوئی بچا نہیں پائے گا۔