آٹھارویں تر میم کی گو نج !
آئین میں ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے، لیکن ارکان پارلیمنٹ کو بھی چاہیے کہ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ان ترامیم سے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی تو نہیں ہو رہی ہے ،ہردور اقتدار میں ترامیم کی جاتی رہی ہیں ،اس بار بھی کی جارہی ہیں ، لیکن اس میں آئینی ضرورت اور عوامی مفاد کے بجائے زیادہ ترذاتی مفادہی دکھائی دیتاہے ، اس لیے ہی ایک کے بعد ایک آئینی ترمیم کی گونج سنائی دیے رہی ہے ،
کل تک چھبیس ، ستائیس کی گو نج سنائی دیے رہی تھی ،آجکل اٹھار ویںا ٓئینی تر میم کی گو نج سنائی دیے رہی ہے، 18ویں ترمیم صوبائی خود مختاری کے حوالے سے کلیدی اہمیت کی حامل ہے، اس کی منشا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں اختیارات کو متوازن اور صوبوں کو پالیسی سازی اور وسائل میں زیادہ بااختیار بنایا جائے اور صوبائی سطح پر اختیارات کو بلدیاتی اداروں کے ذریعے نچلی سطح تک تقسیم کیا جائے ،مگر 18ویں ترمیم آئین کا حصہ بننے کے ڈیڑھ دہائی بعد بھی اس کی تقاضے نامکمل ہی رہے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو اس آئینی ترمیم کی رو سے صوبوں کو منتقل ہونے والے اختیارات صوبائی حکومتوں نے ضلعی اور مقامی حکومتوں کو منتقل کرنا تھے‘ لیکن ایک عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اختیارات اور وسائل کی تقسیم کا عمل بدستور ادھورا ہی چلا جارہاہے،ہر صوبے میں بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضا ہیں ،مگر آئین میں ان انتخابات کے انعقاد کا طریقہ کار واضح نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کی راہ میں روڑے اٹکانے سے کبھی باز آئی ہیں نہ ہی اس بار باز آرہی ہیں ،اس لیے ملک میں مقامی حکومتوں کا وہ نظام ہی نہیں بن پارہا ہے کہ جس کیلئے اختیارات کی تقسیم اور صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس ملک میں ہر دور اقتدار میں بلد یاتی انتخابات کو ٹا لا ہی جاتا رہا ہے ،اگر کہیں انتخابات ہوئے بھی تو منتخب نمائندے اختیارات اور وسائل کیلئے صوبائی حکومتوں کے ہی دستِ نگر رہے ہیں،یہ صوبائی حکومتیں نیشنل فنانس کمیشن کے تحت وفاق سے مالی وسائل کا پورا حصہ وصول کرتی ہیں، مگر صوبائی فنانس کمیشن کے ذریعے جو وسائل منتقل کئے جانے ہیں، اس جانب کوئی پیشرفت ہی نہیں کررہی ہیں،اس سے صوبائی سطح پر گورننس کا ایک خلاپیدا ہورہا ہے
،اس خلا کے مظاہر آئے روز سنگین واقعات اور حادثات میں کی صورت میں دیکھنے کو ملتے ہیں‘ جو کہ غیر معمولی حل کا تقاضا کرتے ہیں، کراچی اور لاہوار میں آگ لگنے کے بعد یہ تقاضا مزید شدت اختیار کر تا جارہاہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہمارے شہری ڈھانچے کسی توازن میں نہیں اور یہ حال کسی ایک صوبے کا نہیں ،ہر صوبے کا ہے، کہیں کی آبادی اور کہیں کا رقبہ بہت بڑھ گیا ہے ،اس میں وسائل کی بہتات بھی صوبائی اور شہری سطح پر ان امراض کا تدارک نہیں کر سکتی، جو کہ ہمارے نظام اور ڈھانچے میں گہرائی تک اتر چکے ہیں،ہر صوبے کے مسائل کا حل اختیارات اور وسائل کی جس تقسیم میں ہے، وہ صوبوں کی انتظامی تقسیم کے بغیر ممکن نظر نہیں آتی ہے ،اس حوالے سے کراچی کی مثال واضح کر رہی ہے کہ ملک کے اقتصادی صدر مقام میں بلدیاتی نظام کی موجودگی بھی شہری مسائل کے حل میں کامیاب نظر نہیں آرہی ہے۔
یہ سارے معاملات صو بہ سندھ تک محدونہیں ہیں ، ہر صوبے میں ہیں ، لیکن کراچی ایک بڑا شہر ہے تو اس کے مسائل زیادہ ہائی لائٹ ہورہے ہیں،اس میں متعد واقعات کمسن بچوں کے مین ہول میں گر نے کے ہیں اور اب گل پلازے کا واقعہ قومی سطح کا المیہ ثابت ہوا ہے ،اس طر ح کے یک بعد دیگرے واقعات نے ثابت کیا ہے کہ بلدیاتی نظام سے بڑھ کر ہمیں انتظامی تقسیم کی ضرورت ہے، کراچی جو یورپ کے متعدد ملکوں سے زیادہ گنجان آباد اور آبادی میں بڑا ہے‘ اگر اس کا انتظامی تقسیم کے ذریعے انتظام ہوتا تواس کے مسائل کہیں کم ہوتے، یہ ہی حال ملک بھر کا ہے کہ آبادی اور رقبے کا پھیلائوانتظامی تقسیم کے بغیر ناقابلِ بندوبست ہے،لیکن سب کچھ جا نتے بو جھتے ہوئے بھی سارے معاملے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔
18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات کی منتقلی‘ وسائل کی تقسیم اور صوبوں کی ذمہ داریوں کی بجا آوری کے فوائد اپنی جگہ، مگر ہمارا قومی مسئلہ آگے بڑھ کر اقدامات کا متقاضی ہے ،ہمارے قومی مسائل کا حل انتظامی تقسیم میں ہے، جو کہ نہیں کیے جارہے ہیں ، اگر اٹھارویں آئینی تر میم میں مزید ترمیم سے معالات سلجھتے ہیں تو قومی و عوامی مفاد میں سلجھنے دینے چاہئے ،اس کو سیاسی و ذاتی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے،
ہم کب تک ایک دوسرے سے ایسے ہی الجھتے رہیں گے ،ایک دوسرے کو مود الزام ٹہراتے رہیں گے اور عوامی مسائل کے تدارک کے بجائے مزید مسائل بڑھاتے رہیں گے ،ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا ، اپنی ذات سے نکل کر قومی مفاد میں سو چنا ہو گا ،اپنے صوبے کے ساتھ وفاق کو بھی مضبوط کر نا ہو گا ، اپنے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کر نا ہو گا توہی انتظامی معاملات درست ہو پائیں گے اور عوام کی زندگی میں کوئی بہتر تبد یلی لا پائیں گے۔