86

پانچویں بین الجماعتی کانفرنس, مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل

پانچویں بین الجماعتی کانفرنس, مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل

نقاش نائطی
۔ +966562677707

“جو قوم نہ صرف اپنے روشن مستقبل کے لئے, لائحہ عمل کے تحت اپنے لئے کچھ قانوں,کچھ احتیاطی تدابیر تیار کرتی ہے اسے اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بنانے سے روکنا مشکل تر ہوجاتا ہے” یہاں قوم سے مراد قوم ہی کے افراد علم و عرفاں, زہد و تقوی ,ارباب حل و عقل , فہم و ادراک میں سے, ایک فرد یا کچھ لوگ وقفہ وقفہ سے مل بیٹھ اپنی قوم کی دنیوی و اخروی ترقی پزیری کے لئے, کچھ تجاوزات کو حتمی شکل دیتے ہیں اور عوام و خواص, مفلس و تونگر پر یکساں طور اسے نافذ العمل کی مخلصانہ کوششیں بھی ہوتی ہیں اورقوم کی اکثریت انکے عظیم مقصد بآر آوری کے لئے, اخلاص کے ساتھ ان کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی پائی جاتی ہے تو ہر ناممکن کو ممکن بنانا انکے لئے آسان تر ہوجاتا ہے۔
نبی آخرالزماں محمد مصطفی ﷺ خود اپنی بصیرت سے, یا حضرت جبریل آمین کی معرفت اللہ رب العزت کے الہام کئے مطابق قیصر و کسری کے قلعہ فتح ہونے کی نوید نؤ جو سنائی تھی اور کسری کے خزانے سے شاہی کنگن خالد بن ولید کے پہننے کی جو پیشین گوئی کی تھی یہ تمام پیشین گویاں,سچ ہونے کے ایمان و یقین نے ہی, ان ایام لاتسخیر سمجھے جانے والے قیصر و کسری کےقلعہ فتح کرنے, کیا مسلم افواج کے حوصلے بلند نہیں کئے تھے؟

دھیرو بھائی امبانی نے پہلی ریلائینس فیکٹری کی شروعات سے پہلے اپنے آبائی گاؤں جام نگر پارک میں عوام سے خطاب کئے, اس وقت تک کی شیر ٹریڈنگ تاجر قوم کو اپنے صنعتی پروگرام کے خواب کے بارے میں بتائے ہوئے, اپنی پہلی ریلائینس انڈسٹری شروع کرنے, سنڈیکیٹ بنک سے قرض لینےابتدائی فنڈ حصول کے لئے, اسکی ریلانینس انڈسٹری کے شیر خریدے,اسکا ساتھ دینے کی درخواسٹ پر, جب اس کی قوم کے زیادہ افراد نے رپلائینس انڈسٹری کے شئر خرید, پوری قوم کے دھیرو بھائی امبانی کے ساتھ ہونے کی یقین دہانی کروائی تھی تو کیا دھیرو بھائی امبانی ایک کامیاب انڈسٹریلسٹ بنتے ہوئے پوری گجرات قوم کو صنعتی ترقی پزیری کی راہ پر گامزن کرنے کیا کامیاب نہیں ہوئے تھے؟
ستر کے دہے کے ابتدائی سال کے کرناٹک حکومت کے وزیر بجلی, سپوت قوم اہل نائطہ المحترم مرحوم جوکاکو کے 27 اپرہل 1964 ناگہانی انتقال پر ملال بعد , جب قوم ایک حد تک پس مردہ مضمحل ہوئی لگتی تھی ان ایام مہاراشٹرا کے منتخب ممبر اسمبلی اور آل مہاراشٹرا کانگرئس پارٹی کے ریاستی صدر رہے,قوم اہل نائطہ کے ایک اور فرزند, قوم کے پہلے سیاسی لیڈر المحترم مرحوم عبدالقادر حافظکا صاحب کی ذاتی کوششوں کاوشوں سے 22مئی 1964 مجلس اصلاح وتنظیم کی مجلس منتظمہ نے, مسلسل بلائی گئی تیسری نشست مجلس منتظمہ میں بھٹکل کے ایک طرف شراوتی ندی ہوناور تو دوسری طرف گنگولی ندی کے درمیان آباد آہل نائطہ پر مشتمل 21 اور 22جولائی 1964 پہلی بین الجماعتی دو روزہ کانفرنس منعقد کی گئی تھی

اور پھر اس کانفرنس کی آخری کڑی کے طور 25جولائی 1964 شام پانچ بجے بھٹکل کے عوام پر مشتمل عام اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ کم و بیش ساٹھ بسرٹھ سال قبل ہوناور شراوتی ندی سے گنگولی ندی کے درمیان مختلف علاقوں گاؤں میں آباد اہل نائطہ مسلم طبقہ کی مجلس اصلاح و تنظیم کی اس مسلم تعمیری کانفرنس کی روئداد اگر ایک مرتبہ پڑھی جائے تو 62 سال قبل والے آور آج کے بھٹکل کے حالات میں کئی ایک اقسام کی یکسانیت پائی جاتی ہے

.اولا” موجودہ جدت پسند دور والے عالم کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک مستقل وعارضی رہایش پزیر لوگوں کے درمیان , اس لاسلکی جوال سے مستقل تعلقات قائم رہتے پس منظر سے ماورا , دور مسافت چھوڑئے, ایک گاؤں میں رہتے, بجز ذاتی ملاقات کے ایک دوسرے سے تعلق خاص قام نہ کئے جاتے پس منظر میں بھی, ہمارے آل نائطہ عاقل و دانا باپ داداؤں نے 27 اپریل 1964 اپنے سیاسی قائد المحترم شمش الدین جوکاکو کے انتقال پرملال, اپنی پس مردگی, پس مضحلی باوجود, جوکاکو مرحوم کے انتقال بعد 21تا 22 جولائی 1964 تین ماہ کے اندر الحمد للہ اہل نائطہ قبیلے کی سب سے بڑی اور پہلی تعمیری کانفرنس مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل نے کیا منعقد نہیں کی تھی؟
لیکن اس جدت پسند ترقی پزیر دور میں بھی قوم اہل نائطہ کی پہلی سیاسی قیادت سابق رکن اسمبلی مہاراشٹرا اور آل انڈیا مہاراشٹرا کانگرئس پارٹی کے سابق صدر اور پہلے اور فلحال تک آخری مملکت سعودی عربیہ کے سفیر ھند بنے,

جنہیں ان ایام ٹائم میگزین یا فوربس میگزین کے عہدہ تمکنت درجہ بندی میں, عالمی ملکوں کے بہترین دس سفیروں میں, مقام متمئز پر براجمان کیا گیا تھا انکا انتقال 9 اپریل 1986کو شہر ممبئی میں ہوا تھا۔اور صوبہ کرناٹک کے دوسرے وزیر اور پہلے اور اب تک آخری, وزیر خزانہ المحترم ایس ایم یحیی صاحب کے 28 جنوری 1998 انتقال کرجانے کے بعد بھی,عرب امارات کویت و قطر مسقط عمان کے ساتھ سعودی عربیہ تک میں تجارتی نوع جھنڈے گاڑنے, نیر ھند کے مختلف شہروں میں اپنی تجارت کے ساتھ شہر منگلور میں تجارتی مراکز تعمیر سے پرے, آسمان چھوٹی رہائشی عمارتیں تعمیر کرنے کروانے کی سکت والی قوم نائطہ نے, اپنے دو اہم سیاسی قائدین کے انتقال پرملال پر 28 تا 30 سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود, اپنے درمیان اس سیاسی خلاء کو پر کرنے ابھی تک کیوں کامیاب نہیں ہوپائے ہیں؟
1964 والی پہلی بین الجماعتی کانفرنس کے بعد غالبا” 1980 کالیکٹ ہی میں مجلس اصلاح و تنظیم کی دوسری بین الجماعتی کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس میں اس وقت کی دونوں سیاسی قیادت عبدالقادر حافظکا اور ایس ایم یحیی نے شرکت کی تھی جس میں احقر بھی شریک کانفرس تھا۔

اسکے بعد خلیجی ممالک قائم مختلف جناعتوں کی شمولیت کے ساتھ, مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے منصب صدارت پر مصباح احمد چڈو بابا کے براجمان اور جناب مزمل قاضیہ صاحب کے جنرل سکریٹری رہتے, المحترم محی الدین منیری صاحب مرحوم کی کنونیرشب میں 1989 کالیکٹ ہی میں پہلی بین الجماعتی کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔
آسی نوع جناب ڈی ایف حسن صاحب کے صدر اور جناب بدرالحسن معلم صاحب مرحوم کے جنرل سکریٹری مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل رہتے المحترم عبدالرحیم ارشاد صاحب مرحوم کی کنوینئر شپ میں کالیکٹ شادی ھال میں فروری 1992 دوسری بین الجماعتی کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔ اس کے بعد المحترم بھٹکل مجلس اصلاح و تنظیم کی مسند صدارت پر جناب ڈی ھیچ شبر صاحب مرحوم اور جنرل سکریٹری کے عہدہ پر جناب بدرالحس معلم صاحب مرحوم کے براجمان رہتے المحترم محتشم عبدالغنی صاحب مرحوم کی کنوینئرشپ میں کالیکٹ ہی میں 2002 تیسری بین الجماعتی کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔
جناب بدرالحسن معلم مرحوم کے مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے صدر رہتے اور جناب پرویز ایس ایم کے جنرل سکریٹری رہتے, اس سلسلے کی آخری سابقہ کانفرنس 2011 میں کالیکٹ ویناڈ کے پہاڑی ریزورٹ میں چوتھی بین الجماعتی کانفرنس کا انعقاد المحترم مرحوم ڈی ایچ شبر صاحب کی کنوینئرشب میں منعقد کی گئی تھی۔
محترم جناب بدرالحس معلم صاحب مرحوم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسی کے دہے کی ابتداء میں اندرون ھند قائم مختلف جماعتوں پر مشتمل مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی پہلی کالیکٹ منعقدہ کانفرنس غالبا” جناب بدرالحسن معلم صاحب مرحوم کے مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل میں بطور محرر ملازمت کررہے زمانے میں, انہی کی کاوشوں سے منعقد ہوئی تھی۔ 1992 اور 2002 کالکیٹ منعقدہ دونوں کانفرنسز بھی جناب بدرالحسن معلم کے جنرل سکریٹری رہتے اور 2011 منعقدہ کالیکٹ کانفرنس بھی محترم جناب بدرالحسن معلم مرحوم کے صدر مجلس اصلاح و تنظیم رہتے منعقد کی گئی تھیں۔ گویا بشمول اسی کے دہے

والی پہلی کانفرنس کے جملہ اب تک منعقد ہوئی پانچوں کانفرنسز منعقد کرنے میں مرحوم بدرالحسن معلم کے موثر تر کردار سے انکار کی گنجائش کم ہی لگتی ہے۔ اسی لئے ہر پانچ سال کے وقفہ میں ایسی ہی بین الجماعتی کانفرنسز منعقد کئے جانے کےاجتماعی فیصلہ باوجود جناب بدرالحسن معلم مرحوم کے انتقال بعد, پندرہ لمبے سالوں کے وقفے سے,خلیجی جماعتوں کے ساتھ اب کی 2026 منعقد کی جانے والی پانچویں لیکن اسی کے دہے کے بعد سے یہ چھٹی اور نائطہ تاریخ کی یہ مجلس اصلاح و تنظیم کیطرف سے منعقد کی جانے والی ساتویں بین الجماعتی کانفرنس ہے۔
“جو قوم نہ صرف اپنے روشن مستقبل کے لئے, لائحہ عمل کے تحت اپنے لئے کچھ قانوں کچھ احتیاطی تدابیر وضع کرتی رہتی ہے اسے اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بنانے سے روکنا مشکل تر ہوجاتا ہے

” اس نقطہ نظر سے ہم ارباب حل و عقل , عرفان و اگہی, اہل نائطہ سے درخواسٹ و التجا کرتے ہیں کہ اس بات کی کوشش کی جائے کہ ہر پانچ سال کے وقفہ دوران پوری اہل نائطہ بھٹکل برادری کے ارباب حل وعقل و فہم و ادراک کے ساتھ بین الجماعتی کانفرنسز منعقد کی جاتی رہیں تاکہ ہم اپنے مستقبل کے سہانے خواب دیکھ سکیں اور ان دیکھے گئے خوابوں کو شرمندہ تعبیر بھی کرنے کی کوشش کرتے پائے جائیں۔ وما التوفیق الا باللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں