62

جموں وکشمیر کی دلکش وادی سماہنی کی سیر اور ہماری قومی ذمہ داریاں ۔

جموں وکشمیر کی دلکش وادی سماہنی کی سیر اور ہماری قومی ذمہ داریاں ۔

محمد فرقان حیات

Keele University UK
جموں وکشمیر کی دلکش وادی سماہنی کی سیر اور ہماری قومی ذمہ داریاں ۔
جنت نظیر وادی کشمیر سے مراد کشمیر کی وہ حسین اور دلکش وادی ہے جسے اسکی بے مثال اور قدرتی خوبصورتی سر سبز و شاداب مناظر برف پوش بلند و بالا پہاڑوں و میدانوں نیلے پانی کے دریاوں جھلیوں خوبصورت باغات اور پرسکون ماحول دلفریب مناظر کی وجہ سے دنیا میں جنت کا نمونہ کہا جاتا ہے ایک فارسی شاعر نے کہا کہ ( اگر فردوس بھر روۓ زمین است ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است) کہ اگر زمین پر کہیں جنت ہے تو یہی ہے یہی ہے اور یہی ہے۔ فارسی شاعر نے وادی کشمیر کی خوبصورتی کو دیکھ کر یہ لقب دیا جو کہ وادی کشمیر کی دلکشی کا عکاس ہے وادی کشمیر میں بہت سی ذیلی وادیاں ہیں

ان میں سے ایک وادی سماہنی ہے جو قدرتی مناظر سے بھرپور سر سبز شاداب وادی ہے اور پنجاب کے بالائی علاقوں لاہور نارووال سیالکوٹ گوجرانوالہ گجرات جہلم کھاریاں سے زمینی فاصلہ انتہائی کم ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کے سیاحوں کا مرکز بنتی جا رہی ہے وادی سماہنی جوکہ ضلع بھمبر کی تحصیل ہے اور بھمبر سے 28 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔بھمبر سے جنڈی چونترہ سے ہوتے ہوئے پوری وادی سماہنی پیر گلی تک مین شاہراہ کشادہ و پختہ ہونے کی وجہ سے خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔وادی تقریباً 35 کلومیٹر لمبی اور؛ 8 کلو میٹر چوڑی ہے جو کہاولیاں (بنڈالہ) سے لے کر بملہ( پونا) تک پھیلی ہوئی ہے

تحصیل سماہنی کی دس یونین کونسلیں اور ایک ٹاون کمیٹی ہے اسکا سب ڈویژنل ہیڈکوارٹر بھی خاص سماہنی شہر میں واقع ہے۔ اسکی آبادی تقریباً ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد پر مشتمل ہے۔ وادی سماہنی میں جب بھمبر سے داخل ہوتے ہیں تو جنڈی چونترہ جو سماہنی کا پہلا مین داخلی دروازہ ہے ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے جو کہ سطح سمندر سے تقریباً 2500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے جہاں پر محکمہ سیاحت کا خوبصورت ریسٹ ہاؤس اور چھوٹا سا بازار اور لذیذ کھانوں کے لئے مشہور ہوٹل موجود ہیں ریسٹ ہاؤس کے سبزہ زار سے مقبوضہ کشمیر کے برف پوش پہاڑ بہترین نظارہ پیش کرتے ہیں

۔جنڈی چونترہ چوٹی سے جنوب کی طرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر مشہور روحانی کشمیری بزرگ بابا شادی شہید اور شمال میں تقریبا دو کلومیٹر کے فاصلے پر مشہور روحانی کشمیری بزرگ پیر پہاڑ بادشاہ کے مزارات ہیں جبکہ ایک روڈ چوٹی کے اوپر غربی سائیڈ کڈیالہ کی طرف جاتی جہاں کئی سیاحتی مقامات ہیں جبکہ کڈیالہ میں ممبر قانون ساز اسمبلی انکل جناب چوھدری علی شان سونی کی رہائش گاہ بھی ہے۔جبکہ بابا شادی شہید روڈ پر ایک خوبصورت پارک زیر تعمیر اور ایک چیر لفٹ کا منصوبہ بھی موجود ہے

۔ میں اس موقع پر حکومت آزاد جموں وکشمیر سے درخواست گزار ہوں کہ بابا شادی شہید مزار کی طرف جانے والی روڈ کو بہترین جدید طریقہ سے پختہ سایئڈ پر جنگلوں میں خوبصورت پودے نصب کروا کر سیاحوں اور زائرین کو ہنگامی بنیادوں پر سہولت فراہم کی جائیں۔جس پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے جبکہ جنڈی چونترہ کے داخلی دروازہ پر محکمہ سیاحت کا ایک تعارفی ڈیسک قائم کیا جائے جہاں آنے والے سب سیاحوں کی رجسٹریشن اور ساتھ انکو وادی سماہنی کے تمام سیاحتی مقامات ریسٹ و گیسٹ ہاوسز ہوٹلوں اور دیگر تفریح مقامات و پوانٹس کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور سیاحوں کی حفاظت کے لئے محکمہ سیاحت کی پولیس فورس بھی مہیا کی جائے۔ اس موقع پر میں داخل ہونے والے سیاحوں سے بھی انتہائی ادب سے درخواست کروں گا کہ ریاست جموں وکشمیر کا کلچر میں فحش اور غیر اخلاقی لباس کی گنجائش نہیں ہے

اس لئے اس سے گریز کرتے ہوئے علاقے کے رسم و رواج اور خصوصی طور پر دین اسلام کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اخلاقی قدروں کا خیال رکھتے ہوئے اپنے آپ کو ایک مہذب شہری ثابت کریں اور جنڈی چونترہ سے شروع ہونے والے جنگلات اور جنگل میں موجود خوبصورت جنگی حیات کی حفاظت کو یقینی بنائیں جنگل میں کوکنگ کے لئے آگ جلاتے ہوئے اور سیگریٹ نوشی کے دوران آپکی معمولی سی غفلت کی وجہ سے جنگل میں آگ بھڑک سکتی ہے جو بڑے پیمانے پر قومی نقصان کا باعث بن سکتی ہے

اور آپ بھی قانون کی گرفت میں آ سکتے ہیں ۔ وادی سماہنی کے لوگ اپنی بہت زیادہ مہمان نوازی کی وجہ سے پنجاب بھر میں شہرت رکھتے ہیں اب ہم جنڈی چونترہ سے وادی سماہنی کی طرف آتے ہوئے ڈب سندوعہ کی ذیلی وادی کی دلکشی کو اپنی آنکھوں میں سموتے ہوئے پیالہ ہوٹل سندوعہ کراس پل پر پہنچ جاتے ہیں جہاں پر سماہنی کے دیسی دودھ کی کڑک اور لذیذ دودھ پتی کا پیالہ ہوٹل آپکی خدمت کے لئے موجود ہے جسکی چائے آپکی تھکاوٹ دور کرتے ہوئے آپکی طبعیت کو باغ باغ کر دے گی اس کے بعد وہاں سے ایک راستہ وادی سماہنی کے نہ صرف سیاحتی بلکہ تاریخی مقام باغسر کی طرف براستہ سدھیڑی جاتا ہے

راستے میں قانون نافذ کرنے والے سول و عسکری اداروں کی چیک پوسٹوں پر اپنی رجسٹریشن کرواتے وقت مکمل تعاون کیجئے، راستے میں سدھیڑی کے مقام پر ایک واٹر فال بھی آپکی منتظر ہے یاد رہے یہاں پر نالے میں پانی خاصا گہرائی رکھتا ہے تاہم گرمیوں میں نہاتے ہوئے کئی قیمتی جانوں کا ضائع ہو چکا اس لئے یہاں پر اپنی اور اپنے ساتھ آنے والے اپنے پیاروں کی کئیر کرنا مت بھولیں آپکے پیارے جنہوں نے آپکو گھر سے آپکی خوشیوں کے لئے دعاوں کے ساتھ رخصت کیا تھا وہ آپکی باحفاظت واپسی کے منتظر ہیں

اس لئے آپ کی چھوٹی سی غفلت آپکی قیمتی جانوں کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے سدھیڑی واٹر فال کے مقام پر بقول میرے والد گرامی میری پہچان و سیاسی و سماجی شخصیت چوھدری خضر حیات کہ یہاں پر بجلی پیدا کرنے کا پراجیکٹ لگ سکتا ہے سابقہ دور میں اس پر ابتدائی فائل ورک بھی ہوا اگر یہاں پر بجلی پیدا کرنے کا پراجیکٹ لگ جائے تو کافی حد تک بجلی کی مد میں مقامی ضرورت پوری ہو سکتی ہے یہاں سے آپ خوبصورت جنگل میں بل کھاتی بلندی کی طرف جاتی روڈ پر باغسر پہنچ جائیں گے

جہاں پر خوبصورت جھیل کے بعد مغلیہ دور کے بنائے ہوئے خوبصورت قلعہ کی سیر کے ساتھ ساتھ پہاڑ کی بلندی کی وجہ سے وہاں سے مقبوضہ کشمیر کی آبادیوں کی جھلک بھی نظر آتی ہے مغلیہ سلطنت کے بادشاہ جہانگیر کی وفات بھی اسی قلعہ میں ہوئی انکی باقیات کو نکال کر یہاں دفن کرنے کے بعد انکے جسد خاکی کو لاہور لے جایا گیا اور وہاں انکی تدفین ہوئی۔ آپ قلعہ اور جھیل کی سیر کے بعد جنگلات اور جنگل میں موجود خوبصورت جنگلی حیات موروں، تیتروں، جنگلی مرغ اور بندروں کو دیکھتے ہوئے واپس سندوعہ کراس سے بنڈالہ موڑ پر آجاتے ہیں بنڈالہ موڑ سے ایک روڈ بنڈالہ کی طرف جاتی ہے

جو سیز فائر لائن کے اوپر واقع ہے۔ یہاں پر ایک گاوں سیری بنڈالہ میں تقریباً تین عشرے قبل ہندوستان کی بدنام زمانہ کمانڈز نے رات کی تاریکی میں چوروں کی طرح گھس کر سول آبادی کے بائیس نہتے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو خنجروں سے ذبح کر دیا تھا۔ یہ ایک یونین کونسل کی آبادی ہے جہاں پر آزاد جموں وکشمیر کی بیوروکریسی اور دفاعی اداروں میں خدمات انجام دینے والی شخصیات کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتی ہے یہاں پر وادی سماہنی کے سب سے پہلے ممبر اسمبلی جناب انکل راجہ مقصود احمد خان اور انکل راجہ اظہر صاحب ریٹائر ڈی جی اطلاعات بھی رہتے ہیں جنہوں نے سماہنی میں سیاحت کے فروغ کے لئے چند سال قبل ایک بڑا سیاحتی میلہ منعقد کروایا تھا

جس کی کوارڈینیٹر اس وقت کی اسسٹنٹ کمشنر میڈیم بینش جرال تھی سچ کہتے ہیں کہ کسی کے تاریخی کردار کو مسخ نہیں کیا جا سکتا یہاں پر مغلیہ دور کی ایک فن شہکار ایک سراں بھی موجود ہے جو اپنے کھنڈرات سے ظاہر کرتی ہے کہ کسی زمانے میں یہ ایک خوبصورت عمارت تھی تاہم محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کا منظر پیش کر رہی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محکمہ خود بھی آثار قدیمہ بن چکا ہے۔ یہ جو مین روڈ کے کناروں پر کیئر فاونڈیشن کے نام سے لوہے کے جنگلوں میں لگے ہوئے پودے ہیں جو علاقے کی خوبصورتی کا منظر پیش کر رہے ہیں یہ میرے والد صاحب کی تنطیم ہے جنہوں نے محکمہ جنگلات اور دیگر محکمہ جات اور مخیر حضرات کے تعاون سے نصب کروائے یہ سر سالہ غنی آباد تک موجود ہیں اس شجر کاری مہم کے دوران مجھے بھی کام کرنے کا موقع ملا۔اس کے بعد آپ بنڈالہ موڑ سے سب ڈویژنل ہیڈکوارٹر سماہنی شہر میں داخل ہو رہے ہیں

جو کہ ٹاؤن کمیٹی پر مشتمل ہے یہاں پر سب ڈویژنل دفاتر عدالتیں بوائز و گرلز کالجز تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پرائیوٹ ڈاکٹر نوشابہ ہسپتال پی ڈبیلو ڈی کا ریسٹ ہاؤس اور پرائیوٹ گیسٹ ہاوسز راجل گیسٹ ہاوس اور جان گیسٹ ہاوس اور کشمیر پریس کلب کا مرکزی آفس ایک بڑا فلاحی ادارہ چنار فری ڈائیلاسیز سنٹر اور 1122 کا ادارہ یونیٹیڈ فری ایمبولینس سروس اور سرکاری سکولوں کے ساتھ ساتھ آرمی پبلک سکول و کالج انیوویٹرز سکول و کالج ریڈ سکول و کالج کی سہولیات بھی موجود ہیں یہاں پر دو بڑے شادی ہالز رحمان مارکی مغل مارکی کے ساتھ قمر ہوٹل مسلم ہوٹل مدینہ ہوٹل طارق ہوٹل مشہور ہیں

اور دیگر فاسٹ فوڈ کے مرکز بھی ہیں یہاں پر ایک قدیم شہر اور بڑی آبادی موجود ہے جہاں پر بڑی اہم شخصیات گزری اور موجود ہیں یہاں سے سمرالہ پنڈ جٹاں روڈ پر خوبصورت قصبے/ ڈھوک اور سمرالہ میں ٹوریسٹ گائیڈ انکل اشفاق مغل اور انکا سیاحتی گیسٹ ہاوس بھی موجود ہے جبکہ سماہنی سے چاہی روڈ پر راستے میں نالے کے قریب ایک لذیذ چائے کا ہوٹل اور ساتھ میں برطانوی نژاد انکل راجہ قیصر بھی پارک کی تعمیر کر رہے ہیں جو ایک خوبصورت پوائنٹ ہو گا چلارہ میں ایک خوبصورت گھر نور دین منزل اور روڈ کے کنارے خوبصورت مسجد سے ہوتے ہوئے ایک روڈ نہالہ چاہی کی طرف راستے میں جنگل ہوٹل اور چاہی میں مشہور روحانی بزرگ پیر سید میراں احمد شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار اور پھٹا کھیتر واٹر فال ہے

تاہم جنگل ہوٹل سے پہلے ایک لنک پختہ روڈ جو چاہی کی مین روڈ سے غربی چوٹی کی طرف چوھدری سید محمد روڈ ہے جہاں سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑ کی چوٹی کے اوپر ایک خوبصورت گاوں قدرین ہے جہاں پر قدرتی پرسکون ماحول خوبصورت جنگل اور جنگلی حیات کی وجہ سے بھرپور شہرت رکھتا ہے یہاں پر کشمیر ہائٹس گیسٹ ہاوس انیڈ ریسٹورینٹ کے نام سے سیاحوں کی سہولت کے لئے اپنی تعمیر کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے رہائشی کمرے موجود ہیں صرف ہال اور دیگر آرائش کا کام جاری ہے

یہاں پر جلد روائتی کشمیری لذیذ کھانوں کی سہولت موجود ہو گی۔ پیارے دوستو میں ایک سال سے تعلیم کے حصول کے لئے برطانیہ میں مقیم تھا اب آپ کو جموں وکشمیر کی خوبصورت وادی سماہنی کی سیر کرواتے ہوئے اپنے گاوں قدرین پہنچ چکا ہوں۔ میرا گھر الحیات منزل جو کہ زیر تعمیر کشمیر ہاٹس گیسٹ ہاوس قدرین کے قریب ہی واقع ہے میں کچھ دن گھر قیام کروں گا آپ بھی میرے مہمان رہیں چند دنوں بعد وادی سماہنی کے دیگر سیاحتی مقامات کی سیر کو چلیں گئے اور پھر آپ کو واپس سیالکوٹ موٹروے کا راستہ دکھا کر میں سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے واپس روانہ ہو جاونگا کاش یہ ایک مضمون نہ ہوتا حقیقت میں اپنے پیاروں کے پاس موجود ہوتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں