85

وزیراعلیٰ کے پی کا بیانیہ کھل کر سامنے آیا، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے: ترجمان پاک فوج

وزیراعلیٰ کے پی کا بیانیہ کھل کر سامنے آیا، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے: ترجمان پاک فوج

وزیراعلیٰ کے پی کا بیانیہ کھل کر سامنے آیا، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے: ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے  دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتیں اور  سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔

جی ایچ کیو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا اس سال پیغام پاکستان کا اعادہ کیا گیا، یہ کلیئرٹی علما اور مشائخ کو بھی ہے، دوسری کلیئرٹی ہندوستان اور فتنہ الخواج کے نیکسز کے بارے میں آئی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتیں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے،  دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا افغان طالبان، خوارج اور ہندوستان گٹھ جوڑ 2025 میں کھل کر سامنے آئے، اس سال کچھ اور باریک وارداتیے بھی سامنے آئے ہیں، بھارتی ٹی وی پر بیٹھ کر ایک صاحب کہتے ہیں کہ اس بار افغانستان اور بھارت ملکر پاکستان پر حملہ کریں گے، افغانستان اور ہندوستان آ جائیں، ان کا شوق پورا کر دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردوں سے جھڑپوں کے دوران طالبان کا نام نہاد وزیر خارجہ کہاں تھا؟  ان کا اسلام کہتا ہے کہ ہندوستانیوں کے پاؤں پڑ جاؤ ، افغانستان میں کوئی حکومت نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹا سا گروہ قابض ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا ہم ایک عرصےسے کہہ رہے تھے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب دنیا بھی یہی کہ رہی ہے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب تو ایران، آذربائیجان اور تاجکستان بھی کہہ رہا ہے کہ افغانستان سے ان پر دہشتگرد حملے ہو رہے ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں فعال ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشتگردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشتگردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا، ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا،  یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وزیر اعلیٰ فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے ،  یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے ، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، کے پی کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے، کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے، اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا۔

https://www.youtube.com/watch?v=Fps17HzvrI4

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں