61

دہشت گردی سے نمٹنے کی مربوط حکمت عملی !

دہشت گردی سے نمٹنے کی مربوط حکمت عملی !

ملک میں چند برسوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے،اس کے متعدد اسباب اور وجوہات ہیں‘ اس میںکابل میں طالبان کی عبوری حکومت کا قیام اور طالبان رجیم کا ٹی ٹی پی کیلئے نرم گوشہ سب سے بڑی وجہ ہے، اس کے اثرات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی صورت میں نظر آرہے ہیں،یہ دونوں ہی صوبے باقی حصوں کے مقابلے میں ترقی میں پیچھے اور وسائل کی محرومی کا شکار چلے آ رہے ہیں،اس کو بھی دہشت گردی کے واقعات کے محرکات کے طور پر دیکھا جاتا ہے،اس لیے ہی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ پا کستان میں قیام امن اور ترقی تبھی ممکن ہو گی کہ جب چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں برابر کے شر یک کار ہوں گے اور مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے۔
یہ بات تو طے ہے کہ دہشت گردی کا نشانہ پاکستان، ٹھکانہ افغانستان اور فنانسر ہندوستان ہے،جبکہ ہمارے دہشت گردی کے خلاف اقدامات عملی طور پر کم ، زبانی جمع خرچ زیادہ رہاہے،ہم دہشت گردی کے سد باب کی بات کرتے ہیں ،ایک دوسرے کو متحد ہو کر دہشت گردی کے خاتمے کی بات کرتے ہیں ،مگر اس دہشت گردی کے اسباب پر غور کرتے ہیں نہ ہی ان کے تدارک کیلئے عملی طور پر اقدامات کررہے ہیں ،

خیبر بختونخوا اور بلو چستان دونوں ہی صوبے دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں اور بیروزگاری‘ غربت اور سماجی پسماندگی کا بھی سب سے زیادہ شکار ہیں،اس وقت تک قومی سلامتی کی کوئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی، جب تک کہ ان علاقوں میں روزگار کے مواقع اور عوام کی معاشی‘ تعلیمی اور سماجی حالت کی بہتری کیلئے اقدامات نہیں کئے جائیں گے۔
یہ مانا کہ سکیورٹی فورسز کی آپریشنل کارروائیوں سے دہشت گردوں کا صفایا کیا جاسکتا ہے، مگر سوسائٹی میں سے شدت پسندوں کی بیخ کنی کیلئے لوگوں کو معاشی‘ سماجی اور تعلیمی لحاظ سے ترقی دینا ہو گی،

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو صوبے میں ضم کرنے کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ افغان سرحد کے ساتھ ملے ہوئے ان علاقوں کو صوبے کے ساتھ معاشی‘ سیاسی اور انتظامی حوالے سے منسلک کر دیا جائے اورصوبائی حکومت ان علاقوں کے امور کی براہ راست نگرانی کرے ،مگر فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کے مقاصد پورے نہیں ہو سکے، اس علاقے میں تعلیم‘ صحت اور روزگار کے وہ مواقع فراہم ہی نہیں کئے جا سکے کہ جن کی اشد ضرورت تھی۔
وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں نے قبائلی پٹی کی ترقی میں حصہ ڈالنے کیلئے قابل تقسیم محاصل سے حصہ دینے کی ہامی ضرور بھری ،مگر قبائلی پٹی کی ترقی اور خوشحالی اور اس اہم سٹرٹیجک اور معدنی وسائل کے حامل علاقے کو ملک کے باقی علاقوں کے برابر لانے کیلئے جوکچھ کیا جانا ضروری تھا، وہ کیا گیا

نہ ہی کیا جارہا ہے، افغانستان کی جانب سے دراندازی کی روک تھام کیلئے قبائلی پٹی میں مضبوط اور مؤثر گورننس اور عوامی سہولتوں اور ترقی کے مواقع کی اشد ضرورت ہے، یہ دہشت گردی کے خلاف ملک کی پہلی مضبوط دفاعی لائن ثابت ہو گی، اس کے باوجود کچھ سوچاجارہا ہے نہ ہی کچھ کیا جارہا ہے تو کیسے در اندازی کو روکا جاسکے گا اور کیسے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جاسکے گا؟
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کا مقابلہ قومی اتحاد اور یکجہتی سے ممکن ہے،

اس بارے سیاسی جماعتوں کو قومی اہمیت کے معاملات میں اختلافات سے بالاتر ہو کر سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے، خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے سیاسی اختلافات کی نوعیت جو بھی ہو، مگر صوبے کی سلامتی اور دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے صوبے اور وفاق کا ایک پیج پر ہونا ناگزیر ہے، لیکن ایک پیج پر سارے تبھی آئیں گے کہ جب سارے ایک جگہ بیٹھ کر کوئی مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے اور اپنا ئیں گے ، اگر ایک طرف سے دہشت گردوں کے خلاف اپریشن کی بات ہو گی تو دوسری جانب سے آپریشن نہ کر نے کی بات کی جائے گی تو کیسے یکجہتی سامنے آئے گی اور کیسے متحد ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جاسکے گا۔
اس سلسلے میں ہر دو فریقوں کو انا کا شکار ہونے کی ضرورت ہے ، نہ ہی ہٹ دھرمی دکھانے کی ضرورت ہے ، اگربات قومی امور کی ہو تو اپنی ذاتیات سے اوپر اٹھ کر فیصلوں اور اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے ،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے مفاہمتی رویے کی اشد ضرورت ہے،جو کہ اب تک دکھائی نہیں دیے رہا ہے،اس لیے ضروری ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے جو نئی حکمت عملی تیار کی جائے‘ اس میں صرف طاقت کے استعمال پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ اس میں سیاسی پہلوئوں اور عوام کی رائے کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے، دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے سیاسی استحکام لازمی ہے، اس کا اظہار وزیر اعظم نے بھی کیا ہے ،جو کہ تمام سٹیک ہولڈرز کے ایک پلیٹ فارم پر آنے سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں