21

جمہوری اشتراک عمل کا تحفہ !

جمہوری اشتراک عمل کا تحفہ !

جمہوری نظام میں حزب اقتدار کے ساتھ حزبِ اختلاف کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،لیکن گزشتہ برس سے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں سابقہ قائدینِ حزب اختلاف کی عدالتی سزائوں سے ہونے والی نااہلی کے بعد کم وبیش چھ ماہ سے حزب اختلاف کی نشستیں خالی رہیں، اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس کی بطور قائد حزبِ اختلاف نامزدگی کے باوجود ان اہم عہدوں پرتقرری کا عمل بوجوہ تعطل کا شکار رہا، لیکن قومی اسمبلی کے قائد حزبِ اختلاف کی تقرری عمل میں آ چکی اور سینیٹ میں بھی عمل مکمل ہوا چاہتا ہے‘تو اس کے بعدتوقع کی جا سکتی ہے کہ نئے قائدین حزبِ اختلاف ایوانِ پارلیمان میں نئی شروعات کریں گے۔
اگر دیکھا جائے تومستحکم جمہوری نظام میں سیاسی اختلافات کے باوجود شخصی احترام ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور آئینی و قانونی حقوق کی خلاف ورزی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا، مگر ہمارے ہاں سیاسی اختلافات کو جس طرح ذاتی دشمنی میں بدل دینے کی روایت چلی آ رہی ہے، اس کے نتیجے میں سیاست میں تحمل کے بجائے اشتعال غالب رہا ہے، اس رویے کو تبدیل کرنے کیلئے سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کی انتہائی ضرورت ہے اور قائدین حزبِ اختلاف اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،

اس میںحکومتی فریق کی کچھ زیادہ ہی ذمہ داری بنتی ہے، مگر صرف ایک فریق کے چاہنے سے کچھ نہیں ہو سکتا ہے‘ سیاسی ماحول اسی صورت خوشگوار ہو گا کہ جب دونوں فریق ایسا چاہیں اور دل سے چاہیں،کیا پہلے جو کچھ نہیں ہو سکا تواب ہو پائے گا ؟ہر دور اقتدار میں امید لگائی جاتی رہی ہے اور اس بار بھی نئی اپوزیشن قیادت سے لگائی جار ہی ہے ، قومی اسمبلی کے قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کا شمار ملک کی قد آور سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے، شاید ان کی اسی حیثیت کے پیش نظر حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی پر اتفاق کیا ہے‘

بہرکیف قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کا منصب اچکزئی صاحب کی صلاحیتوں اور بصیرت کا امتحان ہے کہ ان کی ذات پر حزبِ اختلاف کا اتفاق اور بالآخر حکومت کی جانب سے اس کی توثیق سے اچکزئی کی حیثیت حکومت اور حزبِ اختلاف کے مابین پل کی سی ہے اوریہ پل ایسے وقت میں تعمیر ہوا ہے کہ جب اس کی اشد ضرورت ہے۔
اس وقت ملک کے سیاسی‘ معاشی‘ سماجی اور علاقائی حالات سیاسی اتفاق رائے کا تقاضا کررہے ہیں، سیاسی ماحول میں مسلسل تنائونہ صرف قومی امور میں مشکلات کا سبب بن رہا ہے، بلکہ اس سے معاشی اعتماد کی بحالی میں روکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں،اس کاسد باب قومی سطح پر ہم آہنگی اور اتفاق واتحاد سے ہی ممکن ہے، اس طرح سے ہی حکومت کے سیاسی چیلنجز کم ہو سکتے ہیں اور معاشی استحکام اور قومی ترقی کے امور پر زیادہ توجہ دی جا سکتی ہے ،حالیہ چند ہفتوں کے دوران اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت کوحوصلہ افزا قرار دیا جا سکتا ہے ،لیکن تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجے گی ،

تالی بجانے کیلئے دونوں ہاتھوں کو بڑھانا ہو گا اور مفاہمت کی تالی کو بجانا ہو گا ۔اس حوالے سے حکومت اور پی ٹی آئی میں مکالمے کاعندیہ خوش آئند ہے‘ مگر یہ محمود اچکزئی کی بطور قائد حزبِ اختلاف پہلی آزمائش بھی ہے، اب دیکھنا ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف میں مل بیٹھنے کو یقینی بنانے میں محمود اچکزئی کوئی کردار ادا کر پاتے ہیں یا نہیں،اگر قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کے منصب پر فائز ہو کر محمود خان اچکزئی صرف ایوان اسمبلی میں دھواں دھار تقریروں سے ماحول گرمانے تک محدود رہے

تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہو گی،اس سے دو قدم آگے جانا ہو گا اور حزب اقدار اور حزب اختلاف کو ایک ٹیبل پر لا کر کوئی مفاہمتی فارمولہ لا نا ہو گا ،اگرسسٹم کی اصلاح یا آئین بدلنے کی پیش قدمی مہم جوئی سے ہٹ کر ایک مشترکہ جمہوری اشتراک عمل سے طے پا جائے تو اس سے زیادہ بڑا تحفہ قوم کو اور کیا دیا جاسکتا ہے، امید کی جانی چاہیے کہ سیاست دان امتحان کی اس گھڑی میں ٹھہراؤ پیدا کرتے ہوئے عوام اور ملک کو درپیش چیلنجز سے سرخرو ہوکر نکلیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں