تحریر نعیم الحسن نعیم 109

شہر کی خاموش چیخیں آنکھوں دیکھا حال

شہر کی خاموش چیخیں آنکھوں دیکھا حال

تحریر نعیم الحسن نعیم

شہر کی روشنیوں میں زندگی کی دھڑکنیں گونج رہی ہیں۔ بازار کی روشنیاں گاڑیوں کے ہارن چائے کی بھاپ اور دکانوں کی بھری ہوئی قطاریں سب کچھ ایسے لگتا ہے جیسے ہر چیز خوشیوں سے بھرپور ہے۔ مگر اگر آپ تھوڑا رک کر خاموش ہو کر بس دیکھیں تو آپ کو ایک اور دنیا نظر آئے گی۔ ایک ایسی دنیا جو روشنی کے شور کے پیچھے چھپی ہوئی ہے جہاں ہنسی سنائی دیتی ہے مگر دل روتا ہے جہاں خوشبو آتی ہے مگر حسرت کا زہر چھپا ہوتا ہے جہاں امیدیں آنکھوں میں پروان چڑھتی ہیں مگر ہاتھوں کی حقیقت خالی ہوتی ہے۔میں نے وہ دنیا دیکھی ہے۔آدھی پلیٹ میں پوری دنیا کی خوشی دیکھی.
ایک چھوٹے سے بریانی سینٹر میں ایک میاں بیوی اپنی بارہ سالہ بیٹی کے ساتھ آئے۔ دن بھر کی تھکن ان کے چہروں پر چھپی ہوئی تھی آنکھیں تھک گئی تھیں مگر دل کی دھڑکنیں ایک دوسرے کے لیے مستعد تھیں۔باپ نے سر جھکایا اور آہستہ کہا بیٹا یہ پلیٹ تمہارے لیے ہے۔ ماں باپ کے لیے کچھ بھی نہیں لیا۔ بس تم خوش رہو تو ہم خوش ہیں۔بچی نے مسکراتے ہوئے کہا ابا پلیٹ تو کافی ہے۔ مجھے بس خوشی چاہیے۔ماں کی آنکھوں میں نمی آ گئی بیٹا یہ خوشی ہمیشہ تمہارے چہرے پر رہے بس یہی دعا ہے

ہماری۔وہ آدھی پلیٹ جس میں شاید کچھ کمی تھی ان کے لیے پوری دنیا بن گئی۔ ہر لقمے کے ساتھ والدین کی تھکن گھل گئی اور بچی کی مسکان میں زندگی کا راز چھپا ہوا تھا۔ہوٹل کے باہر ایک درمیانے طبقے کے میاں بیوی اپنے بچوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ سالن مہنگا تھا۔ انہوں نے چار چپاتیاں لی اور فرنچ فرائز والے کے پاس جا کر ہر چپاتی میں تیس روپے کے رول رکھوائے۔ بیٹا نے معصوم آنکھوں سے پوچھا امی یہ واقعی ہمارے لیے ہے؟ ماں نے اسے گود میں اٹھاتے ہوئے کہا
ہاں بیٹا بس خوش رہو۔

بس یہی ہمارے لیے کافی ہے۔ باپ نے دھیمی آواز میں کہا پیارے دنیا کی ہر چیز نہیں دے سکتے مگر محبت دینے سے کبھی نہیں رکیں گے۔ غربت صرف کمی کا نام نہیں۔ یہ صبر قربانی اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی کہانی بھی ہے۔
ایک جنرل اسٹور میں ایک مولانا صاحب کھڑے تھے۔ ان کے چہرے پر زندگی کی سختیاں واضح تھیں جسم کمزور اور چہرہ تھکا ہوا۔ ان کے ساتھ پانچ سال کا بیٹا اور سات سال کی بیٹی تھی۔ وہ دال آٹا اور نمک لے رہے تھے. بچی نے شوکیس میں لگی چاکلیٹ اٹھا لی۔ اس کی آنکھوں میں امید تھی۔ مولانا صاحب نے اسے دیکھتے ہوئے کہا بیٹی آج یہ نہیں لے سکتے. کبھی کبھی ہم دل کی خواہش پوری نہیں کر پاتے. مگر یہ محبت کم نہیں ہوتی۔ بچی نے سر ہلایا اور خاموشی سے اپنی انگلی تھام لی۔ وہ لمحہ چھوٹا لگتا ہے مگر اس میں والد کے دل کا درد اور بچے کی معصوم خواہش کی شدت سمائی ہوئی تھی۔
اسٹیشنری کی دکان رنگوں اور خوشبوؤں سے بھری ہوئی تھی۔ بچے اپنی پسند کی چیزیں اٹھا رہے تھے۔ ایک برقع پوش ماں اپنی نو دس سالہ بیٹی کے ساتھ آئی۔ بچی نے دھیرے سے کہا امی یہ خوشبودار ربڑ لے لوں؟ ماں نے مڑے ہوئے نوٹ نکالے گنے پھر آہستہ سے کہا پانچ روپے والا سادہ لے لو بیٹا اگلی بار اچھا لے لیں گے

۔ بچی نے خاموشی سے سر ہلایا۔ آنکھوں میں اداسی تھی مگر دل میں سمجھداری۔ وہ دن شاید ہمیشہ یاد رہے گا جب محبت صبر کے ساتھ ملی۔
میڈیکل اسٹور پر ایک خاتون ڈاکٹر کی لکھی پرچی لیے کھڑی تھی۔ قیمت سن کر اس کا چہرہ اتر گیا۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا بھائی آدھا پتا پیناڈول دے دو۔. دوا آدھی،
بیماری پوری غربت انسان کے جسم اور دل دونوں پر حملہ کرتی ہے۔ اس کے قریب کھڑا بچہ ماں سے کہہ رہا تھا امی ہم پھر کیسے ٹھیک ہوں گے؟
ماں نے آہستہ سے جواب دیا
بیٹا دعا کر لو اللہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا۔
ریستوران میں امیر خاندان خوشی سے کھانا کھا رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک چھوٹی ملازمہ دور بیٹھی تھی۔
اس کی آنکھیں پلیٹوں پر تھیں مگر اس کی جگہ وہاں نہیں تھی۔ وہ دھیرے سے بولی کاش ایک دن ہم بھی ایسی کھانے کی میز پر بیٹھ سکیں۔اس کی خاموشی چیخ رہی تھی۔ دل کہہ رہا تھا دنیا میں انصاف کم حسرت زیادہ ہے۔
ایک باپ اپنے بیمار بچے کو کندھے پر اٹھائے ڈاکٹر کے سامنے کھڑا تھا۔ آنکھوں میں التجا تھی لبوں پر دعائیں۔ڈاکٹر نے کہا پہلے فیس جمع کرواؤ۔ باپ نے آہستہ سے کہا
ڈاکٹر صاحب بس دیکھیں بچے کی حالت باقی سب بعد میں۔ڈاکٹر نے جھنجلا کر کہا قوانین سب کے لیے ہیں۔ باپ نے سر جھکایا آنکھوں میں آنسو اور بچے کے ماتھے کو سہلاتے ہوئے باہر نکل گیا۔
میں نے کروڑ پتی لوگوں کو دیکھا جو مانگنے والے کو دس روپے دینے پر بھی طعنہ دے رہے تھے۔میں نے سوچا اللہ نے انہیں اربوں روپے دیئے مگر وہ دس روپے دینے کا حساب رکھتے ہیں مگر اللہ کی دی

ہوئی نعمتوں کا حساب نہیں رکھتے مگر دوسروں کے سامنے انسانیت کی قیمت ناپ لیتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارے اعمال کو دیکھ کر گن گن کر دینا شروع کر دیا تو ہمارا کیا بنے گا.
قصائی کی دکان کے باہر ایک بوڑھا کھڑا تھا۔ بچی نے کہا
بابا آج ہم بھی گوشت کھائیں گے نا؟ بوڑھے نے نم آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور چل دیا ۔اسی شہر میں کچھ گھروں میں گوشت روز پک رہا ہوتا ہے اور بچا ہوا کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی تلخ حقیقت ہے خوشیوں کے پیچھے کتنے درد چھپے ہیں۔
میں نے معصوم بچوں کو کچرے کے ڈھیر سے پھل چنتے دیکھا۔ اور امیروں کے کتوں کو گوشت کھاتے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ ایک کے پاس ضرورت اور دوسروں کے پاس ضرورت کی بے حسی۔ یہ دنیا کا آئینہ ہے۔میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو پنکھا چلانے پر بجلی کے بل کے خوف سے کانپ رہی تھی۔ میں نے ایک بے روزگار مرد کو دیکھا جو روزگار کی تلاش میں گالیاں کھاتا ہوا راستوں میں گھوم رہا تھا۔

میں نے میڈیکل اسٹور پر ایک خاتون کو کھانسی کی سیرپ کے لیے ترستے دیکھا اور اسی کے ساتھ دوسری خاتون امپورٹیڈ ملٹی وٹامن خرید رہی تھی۔
میں نے دیکھا ہے کہ خوشی کبھی مال میں نہیں کبھی نعمتوں میں نہیں۔ ہر وہ لمحہ جب آپ کسی اور کے درد کو محسوس کرتے ہیں۔ جب آپ کسی کی آنکھ میں امید دیکھتے ہیں اور اسے حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہم سب کے پاس کچھ نہ کچھ ہے۔ کسی کے پاس وقت کسی کے پاس پیسہ کسی کے پاس ہنر کسی کے پاس دعا۔اگر ہر شخص ایک بچے کی تعلیم کا ذمہ لے ایک مریض کی دوا خرید دے ایک گھر کا راشن اٹھا لے تو شاید یہ شہر بدل جائے۔انقلاب نعروں سے نہیں آتا۔ انقلاب نرم دلوں سے آتا ہے۔
دنیا عارضی ہے۔ مال اور شان عارضی ہیں۔ مگر ایک آنسو پونچھ دینا ایک دل خوش کر دینا ہمیشہ کے لیے لکھ دیا جاتا ہے۔
میں نے دیکھا ہے۔ آپ نے بھی دیکھا ہوگا۔اب سوال یہ نہیں کہ آنکھیں کیوں نم ہیں سوال یہ ہے کہ کیا ہم کسی اور کی آنکھ خشک کرنے کے لیے تیار ہیں؟
ہماری خاک ہی میں مسئلہ ہے
شکایت کچھ نہیں کوزہ گروں سے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں